سکون قلب
انسان نہ اپنے مادے
سے افضل بنتا ہے ، نہ اپنی صورت سے، اور نہ اپنے لباس سے افضل بنتا ہے۔ ہاں بنتا
ہے تو اپنے دل سے افضل بنتا ہے، اور دل کب افضل بنتا ہے۔ جب دل عرش الرحمٰن بن جاۓ
اور اللہ کی علمی تجلیات اس پر آنے لگیں، اللہ کی معرفت اس کے اندر اتر جاۓ۔ تب
کہا جاۓ گا کہ اب انسان حقیقی معنوں میں انسان بنا ہے۔ (حضرت قاری محمد طیب رحمتہ اللہ علیہ)
عافیت بہت بڑی چیز
ہے، اس کے مقابلے میں ساری چیزیں ہیچ ہیں، عافیت دل و دماغ کے سکون کو کہتے ہیں
اور یہ سکون اللہ کی طرف سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی یہ دولت بلا کسی سبب اور
استحقاق کے عطا فرماتے ہیں۔ عافیت کوئی خرید نہیں سکتا ، نہ روپیہ خرید سکتا ہے،
نہ سرمایہ، نہ منصب۔ عافیت کا خزانہ صرف اللہ کے پاس ہے ۔ خدا کے سوا اور کوئی
نہیں دے سکتا۔ ( ڈاکٹر عبدالحئ عارفی رحمتہ اللہ علیہ(
No comments:
Post a Comment