﷽
آیت نمبر 7
خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوبِھِم وَ عَلٰی سَمعِھِم وَ عَلٰی اَبصَارِھِم غِشَاوَہ وَّلَھُم عَذَابٌ عَظِیمٌ۔
خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوبِھِم وَ عَلٰی سَمعِھِم وَ عَلٰی اَبصَارِھِم غِشَاوَہ وَّلَھُم عَذَابٌ عَظِیمٌ۔
ترجمہ: مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر، اور ان کے کانوں پر، اور ان کی
آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
خَتَمَ : خ، ت، م : مہر لگانا/ سیل کر دینا/ سٹیمپ لگانا اس طرح بند کر دینا
کہ باہر کی چیزیں اندر نہ جائیں اور اندر کی باہر نہ آئیں۔
غِشَاوَہ : غ،ش، ی: ایسا پردہ جس سے کچھ نہ کچھ نظر آتا ہو۔
عَذَابٌ : ع،ذ، ب: جسمانی اور ذہنی دکھ /تکلیف/ سزا ، برا بدلہ
آیت نمبر 6 میں ہم نے پڑھا کہ جو کفر اختیار کرتے ہیں، حق سے انکار کرتے ہیں،
ان کو نصیحت کرنا ، نہ کرنا برابر ہے، وہ ایمان نہیں لاتے۔ اب آیت نمبر 7 اس کی
وجوہات بیان کرتی ہے، کہ آخر کیوں وہ حق کے منکررہتے ہیں۔ کہ اللہ نے ان کے دلوں ،
کانوں پر مہر لگا دی، آنکھوں پر پردا پڑ گیا، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اب لوگ کہتے
ہیں کہ اللہ نے مہر لگا دی، اب پھرکوئی کیا کر سکتا ہے۔ ارے بھئ دیکھو کہ مہر کیوں
لگی ہے۔ وجہ کیا ہے۔
حدیث ہے کہ ہر مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے، ماں باپ اسے یہودی، عیسائی ، یا
مجوسی بناتے ہیں۔
انسان پر اس کے ماحول کا اثر ہوتا ہے۔ اس کی صحبت اس کی ترجیحات میں بنیادی
کردار ادا کرتی ہے۔ انسان اپنے ماحول والے خول میں خود کو بند کر لیتا ہے۔ اپنی
دنیا میں مست رہتا ہے، کوئی نئی آواز قبول نہیں کرتا۔ وہ جس ماحول کا عادی ہوتا
ہے، اسی کے مطابق وہ اپنے مفادات ، دلچسپیوں، رشتوں،دوستی کو ترجیح دیتا ہے۔ کوئی
بھی نیا طریقہ اختیار کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ تبدیلی ہمیشہ شروع میں تکلیف
دہ ہوتی ہے۔ انسان خود کو مشکل میں ڈالنا پسند نہیں کرتا، وہ کوئی ایسی چیز نہیں
سننا چاہتا، کوئی ایسی چیز دیکھنا نہیں چاہتا، جو اس کے لیے تبدیلی کا راستہ کھول
دے۔ اس کے کان صرف وہ سننا چاہتے ہیں، جو اسے دلچسپ لگے۔ جیسے کسی سامنے کوئی
بیٹھا بات کر رہا ہو اور دور سے کسی اور کی آواز اس کانوں میں پڑے، اور وہ بات اسے
دلچسپ لگے تو اسے قریب کے بجاۓ دور کی آواز سنائی دے گی۔ اس کے اعضاء صرف ان چیزوں
پرمثبت رسپانس دیں گے، جن سے وہ ٹیون ہوں گے۔ خلافِ مزاج بات پر یا تو وہ برا
منائیں گے، یا انہیں سنائی ہی نہیں دے گا۔ وہ اپنی مرضی کے خلاف باتوں کی طرف اپنے
کان اور آنکھ بند کر لیتا ہے۔ جب کان اور آنکھ کسی چیز کو رسیو ہی نہیں کریں گے تو
دل تک تو پہنچ ہی نہیں سکتا۔ جب وہ لوگ اپنے آنکھوں اور کانوں کو حق دیکھنے اور
سننے کے لیے استعمال نہیں کرتے، ان کے دل حق کے ساتھ ٹیون ہی نہیں ہوتے تو پھر ان
ک دل اور کانوں کو سیل کر دیا جاتا ہے۔ اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔
پارہ 14، سورۃ النحل، آیات 106-108
جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرۓ، بجر اس کے جس پر جبر کیا جاۓ اور
اس کا دل ایمان پر قائم ہو، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب
ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے (106)
یہ اس لیے کہ انہیں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے ذیادہ محبوب رکھا، یقیناً
اللہ کافروں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ (107)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اورجن کے کانوں پر،اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے
مہر لگا دی اور یہی لوگ غافل ہیں۔
شروع میں سب انسان توحید پر تھے۔ حضرت نوحؑ کے عہد میں شرک آیا۔ اور اس کے بعد
کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں شرک موجود رہا۔ مگر کفر اور الحاد بہت ہی کم تھا۔
انڈسٹریل ریولوشن کے بعد کفر اور الحاد بہت تیزی سے بڑھا۔ انسان مصنوعات میں خوش
ہے، مادہ پرستی میں مشغول ہے، اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں پر ان کی توجہ نہیں۔ فطرت
ہر ایک کو اپنی طرف بلا رہی ہے، مگر لوگوں کے پاس فطرت کے لیے وقت ہی نہیں۔ یہ
مصنوعی زندگی کا خول انسان کو اللہ کو پہچاننے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ انسان کے پاس
دیکھنے، سننے ، سمجھنے کا وقت ہی نہیں ہے۔
یعنی کہ ہمیں کفر اور الحاد کی دو وجوہات معلوم ہوئی۔
1) دنیا کو ترجیح دینا۔ دنیاوی
عیش و آرام میں پڑے رہنا
2) غفلت، لاپرواہی
اور جب ایک عرصے تک انسان اپنی دیکھنے ، سننے اور سمجھنے کی لطیف قوتوں کو
صحیح استعمال نہیں کرتے، کفر اور معصیت کے مسلسل ارتکاب سے ان کے دلوں کی حق قبول
کرنے کے استعداد ختم ہو جاتی ہے ، ان کے کان حق بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے، ان
کی آنکھیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیں دیکھنے سے محروم ہو جاتی ہیں۔ ان کے
دل حق کو قبول نہیں کرتے۔ اسی بات کو مہر لگانا کہا گیا ہے۔ نہ ان سے کفر باہر آتا
ہے اور نہ حق کے لیے اندر جانے کا راستہ کھلتا ہے۔
پارہ 30، سورۃ المطففین، آیت 14 "نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال
کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے"
اب ہم دیکھتے ہیں کہ دلوں اور کانوں پر تو مہر ہے، اور آنکھوں پر پردہ، وہ بھی
ایسا پردہ جس سے کچھ نہ کچھ نظر آتا ہو۔ یعنی ابھی بھی ہدایت کا ایک چانس باقی ہے،
کچھ نہ کچھ راستہ کھلا ہے۔ موت آنے تک مہلت ہوتی ہے، مگر موت کا فرشتہ آ گیا تو
پھر ایمان قابلِ قبول نہیں۔
اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا دم نہ اکھڑ جاۓ۔
اور پھر بھی وہ غفلت میں پڑا رہے تو ایسے لوگوں کے لیے بہت بڑے عذاب کی وعید
ہے۔
اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق
پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین
No comments:
Post a Comment