Monday, 29 September 2014

سورۃ البقرہ آیت 16




آیت نمبر 16

ترجمہ: "یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے، سو منافع مند نہ ہوئی تجارت ان کی
، اور نہیں ہیں وہ ہدایت پانے والے۔"

اشتروا: ش، ر، ی: خریدنا اور بیچنا

ربحت: ر، ب، ح: فائدہ، نفع
منافقین کے طرزِ عمل اور ان کی سرکشی کے بارے میں ہم نے پچھلی آیات میں پڑھا۔ اب اس آیت میں ان کے طرزِ عمل کی حقیقت بیان کی گئ ہے۔ کہ باوجود اس کے کہ ان کے پاس ہدایت آگئ ہے، ان پہ حق اور باطل واضح ہو گیا ہے، انہوں نے اپنے لیے گمراہی کا راستہ ہی پسند کیا، ان نے اس حق کو قبول نہیں کیا، ہدایت کا راستہ نہیں تھاما۔ اور صرف زبان سے کہا کہ ہم ایمان لے آۓ۔ ایسا انہوں نے کیوں کہا؟؟ کیوں کہ وہ مسلمانوں کو حاصل ہونے والے فوائد بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر قبولِ حق کی راہ میں رکاوٹ بنی ان کی انا اور نفسانی خواہشات۔ وہ دونوں کشتیوں کے سوار ہیں، وہ دونوں طرف سے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اللہ تعالٰی ان کے اس عمل کو غیر منافع بخش قرار دیتا ہے۔ کہ ان کا یہ عمل کسی طور انہیں فائدہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے ہدایت پانے کے بدلے جو گمراہی کا راستہ چنا ہے، انہوں نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اگر وہ سچے دل سے ایمان لے آتے تو دونوں جہاں میں سرخرو ہوتے۔ مگر انہوں نے دل میں کفر کو سجاۓ رکھا، جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں خوار ہوۓ، دنیا میں ان کی دوغلی شخصیت کی وجہ سے ان کا پردہ فاش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں دنیا میں ذلت اور رسوائی ملتی ہے۔ اور اگر دنیا میں کچھ تھوڑا سا وقتی فائدہ پا بھی لیں، تو آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی انہیں اس درجہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ انہیں جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں پھینکا جاۓ گا۔
وہ زبانی ایمان کو کافی اور نا فع سمجھتے ہوۓ اس خرابی اور رسوئی میں گرفتار ہوۓ۔
اور ان کے انہیں سودے کے بدولت ہدایت کی دولت سے محروم ہونا پڑا، اور انہیں ہدایت مل بھی نہیں سکتی کیونکہ ہدایت اسے ملتی ہے، جو ہدایت کا طلبگار ہوتا ہے، اور جس کے دل میں تقوٰی ہوتا ہے۔
ان کے پاس تو ہدایت آ گئ، اس کے بعد ان کے دلوں نے اس کا انکار کیا، پھر ایسے دلوں میں ہدایت آ ہی نہیں سکتی۔

No comments:

Post a Comment