Sunday, 28 September 2014

سورۃ البقرہ آیات 10-12




آیات 10، 11، 12

ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری تھی، اللہ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کے وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۰)
اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کروتو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں (۱۱)
خبردار ہو! یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں، لیکن شعور نہیں رکھتے (۱۲)

فزادھم: کسی چیز کا ضرورت سے ذیادہ ہو جانا ، ھم: ان کے لیے
الیم: بہت ذیادہ اور مسلسل تکلیف دینے والا درد
یکذبون: :ک،ذ، ب: جھوٹ
انما: اصل بات تو یہ ہے

مصلحون: ص، ل، ح: اصلاح، دوستی، بگاڑ ختم کرنا

اَلَآ: خبردار/ تنبیہی انداز

اب اس میں اس تیسرے گروہ کے طرزِ عمل کی مزید وضاحت کی گئ ہے۔ کہ ان کے دل میں بیماری ہے منافقت کی، ایمان ان کے دل میں ٹھہرتا نہیں۔ اس وجہ سے وہ حق نہیں پا سکتے۔ وہ ظاہری چیزوں سے دل بہلاتے ہیں۔ دونوں طرف کا فائدہ سمیٹنا چاہتے ہیں۔ دنیا بھی چاہیے ان کو ، اور اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہوۓ وہ فائدے بھی سمیٹنا چاہتے ہیں۔  جو یہ کہتے ہیں ، اندر سے یہ اس سے خالی ہوتے ہیں۔ خالی دعوٰی کرتے ہیں، جھوٹ ان کی سب سے اولین صفت ہے، ان کی باتیں، ایمان، عمل سب جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ کہتے کچھ ہیں، کرتے کچھ اور، اور ان کی اسی جھوٹ کی وجہ سے ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ایسا عذاب جو مسلسل رہے گا، اور ذیادہ سے ذیادہ ہوتا جاۓ گا۔ یہاں منافقین کے نہایت برے انجام کا بتا دیا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق: منافق آگ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔
اب جو بھی عمل جس کی بنیاد جھوٹ پر ہو، وہ ہمیشہ فساد اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ جھوٹ کہتے ہیں خلافِ فطرت/خلافِ حقیقت بات۔ اور فطرت اور حقیقت کے متضاد جو بھی بات یا عمل ہو گا ، وہ بگاڑ کا سبب ہی بنے گا۔
اسی لیے سب سے پہلے چیز جس کا ذکر ہے ، جس سے منافقین کو باز آنے کا کہا جاتا ہے، اورجو ان کی پہچان ہے، وہ ہے فساد۔ فساد اصلاح کی ضد ہے۔ کفر و معصیت چونکہ خلافِ فطرت ہے، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اور اطاعت الہٰی سے امن و سکان ملتا ہے۔ ہر دور میں منافقین کا یہ وطیرہ رہا ہے، پھیلاتے وہ فسادہیں، اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں، حدود اللہ کو پامال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور دعوٰی کرتےہیں کہ وہ اصلاح و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔
انہیں اس چیز سے منع کیا گیا ہے، مگر وہ اس کو ماننے سے انکاری ہیں، یہاں پھر ان کا تضاد کھل کر سامنے آ گیا ، کہ وہ فسادکو اصلاح کا نام دیتے ہیں۔ ۔
یہاں سب کو خبردار کیا جا رہا ہے، کہ خوب جان لو کہ یہ حدود اللہ پامال کر کے جو اصلاح کا ڈنھڈورا پیٹتے ہیں، یہ درحقیقت فساد ہی ہے، ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اصل میں وہ خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں، ان کے اور حق بات سے درمیان پردہ ہے، وہ حقیقت سمجھتے ہی نہیں، اور اپنے فساد کو اصلاح کا نام دے کر اپنے دل کو سکون دیتے رہتے ہیں۔ اور اپنے عمل کی جڑ کا انہیں خود نہیں پتا۔

 آج کا آپ سب کے لیے سوال ہے؟ ان آیات میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
صرف اپنی اپنی راۓ کا اظہار کیجیے ۔

No comments:

Post a Comment