﷽
آیت نمبر 5
اُولٰٓئِكَ عَلٰی ھُدًی مِّن رَّبِّہِمِ وَاُولٰٓئِكَ ھُمُ المُفلِحُونَ۔
ترجمہ: یہی لوگ ہیں جو ھدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے، اور یہی لوگ فلاح پانے
والے ہیں۔
مفلحون: روٹ ورڈ ہے ، "ف، ل، ح" معنی ہے "پھاڑنا، اگانا،
کاٹنا"
عربی میں مفلح کسان کو کہتے ہیں، جو زمیں میں ہل چلاتا ہے، بیج ڈالتا ہے،
سیراب کرتا ہے، کھاد وغیرہ ڈالتا ہے، جب کھیتی اگ آتی ہے تو اس کی ہر طرح سے حفاظت
کرتا ہے، اور پکنے پر اسے کاٹ لیتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو کامیاب ہونے والے ہیں، اور کامیاب وہ ہوتے ہیں
جنہیں اللہ کی طرف سے ہدایت ملتی ہے۔ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے، جو ان خصوصیات کے
مالک ہوتے ہیں جو سورۃ البقرہ کی آیات 3 اور 4 میں بیان کی گئ ہیں۔ اور یہ خصوصیات
کن کو ملتی ہیں؟؟ جو تقویٰ والے ہوتے ہیں۔ اور ان کو یہ تقویٰ اور ہدایت کہاں سے
ملتی ہے؟؟؟ اللہ کے کلام سے ، قرآن ِ مجید سے ۔
اب کامیابی کا معیار بتا دیا گیا ہے، اس کسوٹی پر پورا اترنا ہے۔ جو بھی یہ
تمام مراحل پار لے گا۔ وہ کامیاب کہلاۓ گا۔ کامیابی کیا ہے؟؟؟ جہنم اور اللہ کی
ناراضگی سے بچاؤ اور اللہ کی رضا کا حصول اور جنت میں داخلہ۔
ہم کامیابی کسے کہتے ہیں؟؟؟ مال و دولت کا حصول، جو آج ہمارے پاس ہے کل کسی
اور کے پاس۔ بہت بڑا عالی شان مکان، زلزلہ آیا، سیلاب آیا، مکان کہاں ہے اب؟؟؟
اعلی دنیاوی تعلیم، ماں باپ مر گۓ، اتنا ٹائم نہیں کہ ان کے لیے دعا کر سکیں۔ کوئی
بڑا عہدہ، اختلافات آ گۓ، حسد کا شکار ہو گۓ، نوکری چلی گئ، اب کہاں ہے کامیابی؟؟؟
ہم کہتے ہیں کہ نقصان ہو گیا۔ کون سا نقصان، مادی چیزوں کا نقصان، ارے یہ تو ہونا ہی تھا، ہر چیز ختم ہونے والی ہے، پھر کیسا رونا پیٹنا۔ نقصان تو یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسانی موجود ہے، تمام رسول موجود ہیں، ہمارا وہ نبیﷺ بھی موجود ہے جو تئیس سال تک ، میری امت میری امت کہتا روتا رہا۔ ہماری کامیابی کے لیے روتا رہا، اور آج ہمارا نامہ اعمال پڑھا جا رہا ہے ، سارے پردے ہٹ رہے ہیں۔ اس نے نماز چھوڑ دی تھی تھکن کا بہانہ بنا کر، اس کے گھر میں دعوت تھی، اس کا پڑوسی اس کے حصے سے محروم رہا، اس کی باتوں سے متاثر ہو کر فلاں بندہ دین سے دور ہوا، اس نے فلاں غلط راستہ اپنایا اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑے، اتنے ہزار لوگوں کے گناہ کا ذمہ اس کے سر پر ہے کہ اس نے شروعات کی۔ اور پھر بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ اور حکم دیا جاۓ گا کہ گھسیٹ کر لے جاؤ، ڈال دو آگ میں۔ ذرا محسوس کریں، اس وقت کے نقصان کو، کیا حال ہو گا اس وقت، کیا شرمندگی، کیا پچھتاوہ، مگر کچھ فائدہ نہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ نقصان ہو گیا۔ کون سا نقصان، مادی چیزوں کا نقصان، ارے یہ تو ہونا ہی تھا، ہر چیز ختم ہونے والی ہے، پھر کیسا رونا پیٹنا۔ نقصان تو یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسانی موجود ہے، تمام رسول موجود ہیں، ہمارا وہ نبیﷺ بھی موجود ہے جو تئیس سال تک ، میری امت میری امت کہتا روتا رہا۔ ہماری کامیابی کے لیے روتا رہا، اور آج ہمارا نامہ اعمال پڑھا جا رہا ہے ، سارے پردے ہٹ رہے ہیں۔ اس نے نماز چھوڑ دی تھی تھکن کا بہانہ بنا کر، اس کے گھر میں دعوت تھی، اس کا پڑوسی اس کے حصے سے محروم رہا، اس کی باتوں سے متاثر ہو کر فلاں بندہ دین سے دور ہوا، اس نے فلاں غلط راستہ اپنایا اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑے، اتنے ہزار لوگوں کے گناہ کا ذمہ اس کے سر پر ہے کہ اس نے شروعات کی۔ اور پھر بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ اور حکم دیا جاۓ گا کہ گھسیٹ کر لے جاؤ، ڈال دو آگ میں۔ ذرا محسوس کریں، اس وقت کے نقصان کو، کیا حال ہو گا اس وقت، کیا شرمندگی، کیا پچھتاوہ، مگر کچھ فائدہ نہیں۔
کامیابی کیا ہے؟؟؟ آپ کا اعمال نامہ پڑھا جا رہا ہو اور سب آپ پر رشک کر رہے
ہوں، نبی اکرم ﷺ کا چہرہ خوشی سے دمکتا ہو۔ آپ کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جاۓ، جنت آپ
کے قریب لے آئی جاۓ، آپ پلِ صراط پار کریں بجلی کی سی تیزی سے، آپ کے سامنے اور
دائیں جانب نور ہی نور ہو، جنت میں آپ کا استقبال سلام سے کیا جاۓ اور آپ کے لیے
موتیوں کے خیمے ہوں، اور آپ ہمیشہ قائم رہنے والی جنت کے وارث بنا دئیے جائیں۔
یہ وارث وہ ہوں گے جو مفلح ہوں گے، انہوں نے اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق
گزاری، اسے اللہ کے احکامات سے سیراب کیا، اسے سنتِ نبویﷺ سے آراستہ کیا، اسے ہر قسم
کے گناہ اور غلط کاموں سے بچایا، کوئی نادانستگی میں گناہ ہو گیا تو استغفار اور
اعمالِ صالح کی کثرت سے اس کا مداوہ کیا۔ اور پھر جب اس کا وقت پورا ہوا تو ایمان
کی حالت میں ہی اللہ کے حضور پیش ہوا ، اپنے کیے ہوۓ اعمال کا اچھا پھل پالیا۔ اگر
ان میں سے ایک مرحلہ بھی مِس ہو گیا تو کامیابی مکمل نہیں۔
کیا حسین انعام ہے! کیا ہی خوبصورت بدلہ ہے ان اعمال کا جو آپ نے دنیا میں
اللہ کی رضا کے لیے کیے، اس کی مرضی کے مطابق۔
اب یہ انعام کس کو ملے گا، جو اس معیار پر پورا اترے گا۔ اور مطلوبہ معیار کو پانے کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور کوشش ضروری ہے۔ جس نے کوشش نہیں کی ، ہو غلط سمت میں کوشش کی، اس کے ہاتھ کچھ نہیں آۓ گا۔
اب یہ انعام کس کو ملے گا، جو اس معیار پر پورا اترے گا۔ اور مطلوبہ معیار کو پانے کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور کوشش ضروری ہے۔ جس نے کوشش نہیں کی ، ہو غلط سمت میں کوشش کی، اس کے ہاتھ کچھ نہیں آۓ گا۔
جب کہ آج ہم مسلمانوں کا یہ حال ہے جو بنی اسرائیل کا تھا، جس کی وجہ سے ان سے
امامت چھین لی گئ تھی۔ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جی اسلام ہمیں وراثت میں ملا ہے، ہم
جو کچھ بھی کر لیں، جنت پہ ہمارا ہی حق ہے، کیوں بھئ ، کیا محنت کرنے والوں کو اور
نکموں کو ایک جیسا ملتا ہے، نہیں بلکل نہیں بلکہ ہم دھوکے میں ہیں۔ ہم خود کو
دھوکہ دے رہے ہیں۔ آنکھیں بند کر کے آگ کے گڑھے میں کودنے کے لیے بھاگے جا رہے
ہیں۔
اس گڑھے سے بچنے کے لیے چاہیے دل میں اللہ کا تقوی۔ اللہ کی محبت اور خوف۔ جب
دل میں تقویٰ ہو گا نا تو دل جاگے گا، جیسے جب کسی کو محبت ہوتی ہے تو سنا ہے کہ
راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ یا کسی کا خوف بھی انسان کو جاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
تو اسی طرح اللہ کی محبت اور اس کا خوف دل کو جگا دیتا ہے۔ دل روشن ہو جاتا ہے،
نورِبصیرت عطا ہوتا ہے، انسان ہر کام کرنے سے پہلے اس کام کو اللہ کی کسوٹی میں
تولتا ہے۔ اور پھر تقویٰ بڑھتا جاتا ہے، گناہوں سے بچت ہوتی ہے، وہ نماز پڑھتا ہے
تو پھر اس کی نمازیں اسے بےحیائی اور برے کاموں سے بھی روکتی ہیں، اس کا اللہ کے
راہ میں خرچ کرنا اس کا مال بھی پاک کرتا ہے، پھر اس کا علم حاصل کرنا اور پھیلانا
اس کے اندر کی گھٹن اور دل کی میل کو دور بھی کرتا ہے اور پھر انسان ربانی بن جاتا
ہے، ربانی کون ہوتا ہے، اللہ سے مضبوط تعلق رکھنے والا، اور انسان یقین کی منزلیں طے کرتا جاتا ہے ،
اس کا یقین بڑھتا جاتا ہے، ہاں میں نے ایگزام دینا ہے اور مجھے اس میں امتیازی
نمبروں سے پاس ہونا ہے۔ وہ محنت کرتا جاتا ہے اللہ کی راہ پر اور پھر مفلحون میں
شامل ہو جاتا ہے ۔
اب ہم گھبرا جاتے ہیں، کہ ہم یہ نہیں کر سکتے ، کیوں نہیں کر سکتے بھئ ، یہ
قرآن اللہ نے کس کے لیے اتار؟؟ ہمارے لیے۔ اس میں احکامات اور نصیحتیں کس کے لیے
ہیں؟؟ ہمارے لیے۔ ہدایت کس کے لیے ہے؟؟؟ تمام انسانوں کے لیے، بس تھوڑی س کوشش
درکار ہے، مشکل نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میں کسی پر اس کی برداشت سے
ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ ہم بھی یہ ہدایت لے سکتے ہیں،
بشرطیہ کہ ہم لینا چاہیں۔ ورنہ دوسری صورت میں صرف علم لے کر، آخرت کے حصے سے
دستبردار ہو جائیں۔
اللہ ہم سب کو اپنی راہ پر چلنے اور قائم رہنے کی توفیق عطا فرماۓ ، اور ہمیں
قرآن سیکھنے اور سکھانے والا بنا دے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم
آمین
No comments:
Post a Comment