﷽
آیت نمبر 4
وَ الَّذِینَ یُؤمِنُونَ بِمَآ اُنزِلَ اِلَیكَ وَمَآ اُنزِلَ مِن قَبلِكَ
وَ بِالاٰخِرَۃِ ھُم یُوقِنُونَ۔
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا، اور جو آپ
سے پہلے اتارا گیا ، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
انزل: روٹ ورڈ ہے "ن، ز ، ل" یعنی کہ نزل، نزل کا معنی ہے اوپر سے
نیچے آنا۔
الیك: آپ کی طرف۔ حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔
اخرۃ: روٹ ورڈ ہے۔ "ا ،خ، ر" معنی ہے "بعد میں آنے والی چیز
یوقنون: روٹ ورڈ ہے "ی، ق، ن" معنی ہے "ایسا ماننا کہ کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ یقین علم سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ایمان کا آخری درجہ یقین ہے۔ یقین دل کے سکون اور سینے کی ٹھنڈک کا نام ہے ۔
اب بات یہ ہے کہ آیت نمبر 3 میں غیب پر ایمان لانے کی بات ہوئی۔ غیب میں آخرت بھی آ جاتی ہے۔ پھر اگلی ہی آیت میں آخرت پر یقین کی بات کیوں ہے؟ ایسا پرزور تاکید کے طور پر کیا گیا ہے۔
یوقنون: روٹ ورڈ ہے "ی، ق، ن" معنی ہے "ایسا ماننا کہ کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ یقین علم سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ایمان کا آخری درجہ یقین ہے۔ یقین دل کے سکون اور سینے کی ٹھنڈک کا نام ہے ۔
اب بات یہ ہے کہ آیت نمبر 3 میں غیب پر ایمان لانے کی بات ہوئی۔ غیب میں آخرت بھی آ جاتی ہے۔ پھر اگلی ہی آیت میں آخرت پر یقین کی بات کیوں ہے؟ ایسا پرزور تاکید کے طور پر کیا گیا ہے۔
جیسا کہ یقین ایمان کا آخری درجہ ہے تو آخرت پر یقین کرنا ہے۔
جیسا کہ کوئی ہمیں کوئی بات بتاتا بتاتا ہے۔ اس بات کو مان لینا اور بات ہے اور اس پر یقین کر لینا اور بات ہے۔
جیسا کہ کوئی ہمیں کوئی بات بتاتا بتاتا ہے۔ اس بات کو مان لینا اور بات ہے اور اس پر یقین کر لینا اور بات ہے۔
اس آیت میں تقویٰ والوں کی کچھ اور خصوصیات بیان کی گئ ہیں۔
وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو کچھ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور جو کچھ آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا۔ وہ ان سب پر ایمان لاتے ہیں۔
حضرت محمدﷺ پر کیا نازل ہوا؟؟؟ قرآنِ مجید اور بیانِ قرآن یعنی حدیث۔
غور طلب بات یہ ہے کہ حدیث کا نزول بھی ہوا کیونکہ پیغمبر اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے، پیغمبر کی ہر بات اللہ کے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ حدیث کو بیانِ قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ حدیث قرآن کے احکامات کی وضاحت اور ان پر عمل کے طریقے کی وضا حت کرتی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خود عمل کر کے بتایا۔
کیونکہ تعلیم و تربیت کے لیے صرف کتاب کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کو بیان کرنے کے لیے معلم ضروری ہوتا ہے، اور پھر اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لیے ایک رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ حدیث کا نزول بھی ہوا کیونکہ پیغمبر اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے، پیغمبر کی ہر بات اللہ کے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ حدیث کو بیانِ قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ حدیث قرآن کے احکامات کی وضاحت اور ان پر عمل کے طریقے کی وضا حت کرتی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خود عمل کر کے بتایا۔
کیونکہ تعلیم و تربیت کے لیے صرف کتاب کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کو بیان کرنے کے لیے معلم ضروری ہوتا ہے، اور پھر اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لیے ایک رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر ہمارے سامنے کسی سائنسی ایجاد کا فارمولا پڑا ہو، تو ہم اسے
کبھی سمجھ نہیں سکتے، تاوقتیہ کہ کوئی اس کا ماہر ہمیں اس کا ماڈل دکھا کر نہ
سمجھاۓ۔
اب کتاب ہمارے سامنے ہے۔ کتاب ہے اللہ کی، اللہ اس کتاب کے ذریعے ہمیں ہدایت
دیتا ہے۔ اس کتاب کو ہم تک پہنچانے، بیان کرنے اور سکھانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ اور پھر
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس پر عمل کر کے بتایا۔
اب جو تقویٰ والے ہوتے ہیں وہ قرآن مجید کو بھی مانتے ہیں، حدیث پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی سنت پر بھی۔ کیونکہ یہ سب اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور ایک چیز کو مان کر دوسری کو چھوڑ دینا، ایمان نہیں ہے۔
اب جو تقویٰ والے ہوتے ہیں وہ قرآن مجید کو بھی مانتے ہیں، حدیث پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی سنت پر بھی۔ کیونکہ یہ سب اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور ایک چیز کو مان کر دوسری کو چھوڑ دینا، ایمان نہیں ہے۔
اور صرف اپنی کتاب کو نہیں مانتے بلکہ جو آپﷺ سے پہلے اللہ نے نازل کیں
، اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ جتنے بھی نبیوں پر کتابیں نازل ہوئی، صحیفے اترے، جو
بھی اللہ نے بنی نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل کیا ، اس پر ایمان رکھتے ہیں، چاہے
اس کے بارے میں جانتے ہیں کہ نہیں، وہ موجود ہیں یا نہیں۔
یہاں بات یہ ہے کہ یہ سوال ضرور اٹھے گا دماغ میں کہ اس وقت انجیل اور تورات
ہی موجود ہیں اور وہ بھی نہایت تحریف شدہ حالت میں، تو ان پر ایمان کیسے۔
تو یہاں یہ بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے نازل فرمایا اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ انسانوں کی منسوب کردہ باتوں پر نہیں۔
وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یقین ایمان کا آخری درجہ، ایسا ماننا کہ کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ آخرت کے متعلق کسی شک و شبہ میں نہیں رہتے، ان کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ وقت آۓ کا تو دیکھا جاۓ گا۔ نہیں۔۔ انہیں پورا یقین ہے کہ ایسا ہو گا، جو بھی قرآن اور حدیث کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے وہ 100٪ درست ہے ، سچ ہے۔
ہر انسان کے لیے آخرت اس کی موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ روح کا نکلنا، فرشتوں کا الگ الگ طریقے سے نیک اور بد روح کا لے جانا۔ قبر میں منکر نکیر کا آنا، سوالات، قبر میں سزا اور جزا، قیامت کا برپا ہونا، دوبارہ زندہ ہونا، محشر کی طرف بھاگنا، حساب کتاب ہونا، سزا اور جزا کا فیصلہ ہونا، پلِ صراط، جہنم میں جھونکے جانا، یا جنت میں داخلہ۔ اس سب پر وہ یقین رکھتے ہیں، گویا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پھر ایسا یقین جس کے پاس ہو ،جو اصل میں کامیاب ہونا چاہتا ہو ،وہ ہر معاملہ اس وقت کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ وہ انجام کو سامنے رکھ کر سفر شروع کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہے کہ ہمیں بھی یقین ہے، اگر ہمیں یقین ہو تو ہم یہ نہ کہیں کہ وقت آیا تو دیکھا جاۓ گا، یا اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ بخش دے گا۔ نہیں بلکہ ہم صرف آخرت کو مانتے ہیں پر یقین نہیں رکھتے۔ یقین رکھیں تو اس کی تیاری کریں، پر ہم نہیں کرتے کیونکہ ہم گو مگو کی کیفیت میں ہیں۔ یہ دنیا ہمیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ جو کہ ایک سراب ہے۔ ہم اسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوۓ اصل راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔
تو یہاں یہ بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے نازل فرمایا اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ انسانوں کی منسوب کردہ باتوں پر نہیں۔
وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یقین ایمان کا آخری درجہ، ایسا ماننا کہ کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ آخرت کے متعلق کسی شک و شبہ میں نہیں رہتے، ان کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ وقت آۓ کا تو دیکھا جاۓ گا۔ نہیں۔۔ انہیں پورا یقین ہے کہ ایسا ہو گا، جو بھی قرآن اور حدیث کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے وہ 100٪ درست ہے ، سچ ہے۔
ہر انسان کے لیے آخرت اس کی موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ روح کا نکلنا، فرشتوں کا الگ الگ طریقے سے نیک اور بد روح کا لے جانا۔ قبر میں منکر نکیر کا آنا، سوالات، قبر میں سزا اور جزا، قیامت کا برپا ہونا، دوبارہ زندہ ہونا، محشر کی طرف بھاگنا، حساب کتاب ہونا، سزا اور جزا کا فیصلہ ہونا، پلِ صراط، جہنم میں جھونکے جانا، یا جنت میں داخلہ۔ اس سب پر وہ یقین رکھتے ہیں، گویا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پھر ایسا یقین جس کے پاس ہو ،جو اصل میں کامیاب ہونا چاہتا ہو ،وہ ہر معاملہ اس وقت کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ وہ انجام کو سامنے رکھ کر سفر شروع کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہے کہ ہمیں بھی یقین ہے، اگر ہمیں یقین ہو تو ہم یہ نہ کہیں کہ وقت آیا تو دیکھا جاۓ گا، یا اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ بخش دے گا۔ نہیں بلکہ ہم صرف آخرت کو مانتے ہیں پر یقین نہیں رکھتے۔ یقین رکھیں تو اس کی تیاری کریں، پر ہم نہیں کرتے کیونکہ ہم گو مگو کی کیفیت میں ہیں۔ یہ دنیا ہمیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ جو کہ ایک سراب ہے۔ ہم اسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوۓ اصل راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔
جو تقویٰ والے ہوتے ہیں ، وہ اپنے دائمی سفر کو سامنے رکھتے ہیں ، وہ اپنی
ہمیشہ کی منزل کو پانے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ راستے میں غیر ضروری چیزوں میں نہیں
اٹکتے۔
اللہ تعالٰی ہمیں بھی پختہ یقین اور ایمان نصیب فرماۓ آمین
اللہ تعالٰی ہمیں بھی پختہ یقین اور ایمان نصیب فرماۓ آمین
(کرنے کا کام: اپنا جائزہ لیں کہ کہیں ہم اس دنیا کے کاموں کی خاطر اپنی آخرت
تو داؤ پہ نہیں لگا رہے؟؟ اور اگر ہاں تو
کوشش کریں کہ اگر آج کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو یہ عارضی ہے اٹھا لیں اور
اس دن کے نقصان سے بچ جائیں ، کہ اس دن کا نقصان ہمیں آگ کی گھاٹیوں میں اتار لے
جاۓ گا)
No comments:
Post a Comment