﷽
آیت نمبر 8- 9
ترجمہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں،
لیکن درحقیقت وہ ایمان والے نہیں ہیں (۸)
وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں ، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں (۹)
وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں ، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں (۹)
الناس: "ن، و، س"(مانوس ہونا) ـ ـ "ن،س،ی" (بھولنا)
یخدعون: "خ،د، ع: حقیقت کو چپھا کر دوسرے کو اندھیرے میں رکھنا، دوسروں
کو کچھ اور دکھا کر اپنا مطلب نکالنا، دھوکہ دینا۔
انفسھم: :ن،ف،س: روح، زندگی، ذات
یشعرون: ش ، ع، ر: بال، باریک سمجھ ، معاملے کی طے تک پہنچنا، حقیقت معلوم کر
لینا۔
آیت نمبر ۲ سے ۵ میں مومنین کی صفات بیان کی گئ ہیں اور ان کے خوشگوار منزل کے
بارے میں بتایا گیا۔
آیت نمبر ۶ اور ۷ میں کفر کرنے والوں
کے رویے اور برے انجام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اب آیت نمبر ۸ سے ۲۰ تک تیسرے گروہ کے بارے میں ہم پڑھیں گے، جو کہ منافقین کا
گروہ ہے۔
منافقت ، کفر سے ذیادہ بڑی اور خطرناک بیماری ہے، اس لیے اس کے بارے میں ذیادہ
گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔
منافقت یا منافقت کا روٹ ورڈ نفق ہے، جس کے معنی دونوں سروں سے کھلی ہوئی سرنگ
ہے۔ جس طرح سرنگ کے اندر جو چیز ایک سرے سے داخل ہوتی ہے ، وہ دوسرے سرے سے نکل
جاتی ہے، اس طرح ایمان اور حق بات بھی
منافق کے اندر، اس کے دل میں نہیں ٹھہرتی۔ وہ ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے کان سے
نکال دیتا ہے۔
منافقین ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ منافقین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاۓ ہیں، ہم
اللہ، رسولﷺ، اور کتاب اللہ کو مانتے
ہیں، مگر ان کا یہ ایمان لانا قابل قبول نہیں، اللہ ان کا ایمان قبول نہیں کرتا،
کیونکہ ان کی زبان جو کہہ رہی ہوتی ہے، اسی وقت ان کا دل اسی بات سے انکار کر رہا
ہوتا ہے۔
ان کا یہ ایمان لانا بس زبانی ہی ہے، وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے
کی کوشش کرتے ہیں۔
جو کچھ ان کے دل میں ہے وہ ظاہر نہیں کرتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، وہ حقیقت
نہیں۔ ان کے دل اور زبان کے اسی فرق کا نام دھوکہ ہے۔ مگر حقیقت میں یہ ان کی سوچ
ہی ہے کہ وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دےرہے ہیں۔ ان کو خود اپنے عمل کی
حقیقت کا پتا نہیں، وہ دراصل خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اللہ تو سب کے دلوں کے بھید
جانتا ہے۔ اللہ کو تو پتا ہے کہ یہ اپنے دل میں انکار سجا کر بیٹھے ہیں، اور زبانی
کلامی ایمان کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو بھی ان کے مکر و فریب سے بچا
لیتا ہے۔ ان کے دوغلے پن کی وجہ سے اکثر ان کے پول کھل جاتے ہیں۔
ان کی اس ساری فریب کاریوں کا نقصان خود انہیں کو ہوتا ہے، دنیا میں رسوائی
اور ذلت ان کا مقدر بنتی ہے اور آخرت میں بھی بدترین انجام ان کا ہے۔ مگر وہ اس
حقیقت سے لاعلم ہی رہتے ہیں۔ وہ بس اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ اللہ اور ایمان والوں
کو دھوکے میں ڈالے رکھیں۔
جو شحص کسی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے، بدقسمتی سے وہ خود اپنے معاملے کی حقیقت سے انجان رہتا ہے، اسے اپنی غلطی کا کبھی پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ اپنے آپ سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اور جسے اپنی حقیقت کا نہ پتا ہو، وہ اللہ کو کیسے پہچانے گا۔
انسان کو سب سے پہلے اپنے خود کے ساتھ سچا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بعد وہ اللہ کے ساتھ اور اہل ایمان کے ساتھ سچا ہو سکتا ہے۔
جو شحص کسی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے، بدقسمتی سے وہ خود اپنے معاملے کی حقیقت سے انجان رہتا ہے، اسے اپنی غلطی کا کبھی پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ اپنے آپ سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اور جسے اپنی حقیقت کا نہ پتا ہو، وہ اللہ کو کیسے پہچانے گا۔
انسان کو سب سے پہلے اپنے خود کے ساتھ سچا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بعد وہ اللہ کے ساتھ اور اہل ایمان کے ساتھ سچا ہو سکتا ہے۔
اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق
پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین
No comments:
Post a Comment