﷽
آیت نمبر 13
السفھا: س، ف،ھ : کسی جسم کے ہلکا ہونا ، کسی چیز کا اہمیت کے لحاظ سے ہلکا
ہونا، کم عقل ہوتا،
جیسا کہ پچھلی آیات میں منافقین کے طرز عمل میں بتایا گیا ہے، کہ وہ بس زبانی
کلامی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے دل ایمان سے بلکل خالی ہوتے ہیں۔ ان ان آیات
میں منافقین کو سچا ایمان لانے کو کہا جا رہا ہے۔
انہیں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح ایمان لے آؤ جیسا کہ صحابہ اکرامؓ ایمان لے کر آۓ ہیں۔ اب دیکھیں اس آیت(۱۳) میں صحابہ اکرامؓ کی طرف اشارہ ہے، ان کے ایمان کو ایک معیار قرار دیا گیا ہے۔ ایمان لانا ہے تو ویسا لاؤ جیسا صحابہ اکرام ؓ ایمان لاۓ، جیسا اسلام انہوں نے قبول کیا، جیسا طرز عمل انہوں کے اپنایا، جس طرح انہوں نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت کی، نبی اکرمﷺ کے راستے کو جیسا انہوں نے اپنایا اور اس پر جم گۓ اور ایمان کے تقاضے جیسے انہوں نے پورے کیے، ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ، یہ زبانی کلامی ایمان لانا، قابل قبول نہیں۔
انہیں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح ایمان لے آؤ جیسا کہ صحابہ اکرامؓ ایمان لے کر آۓ ہیں۔ اب دیکھیں اس آیت(۱۳) میں صحابہ اکرامؓ کی طرف اشارہ ہے، ان کے ایمان کو ایک معیار قرار دیا گیا ہے۔ ایمان لانا ہے تو ویسا لاؤ جیسا صحابہ اکرام ؓ ایمان لاۓ، جیسا اسلام انہوں نے قبول کیا، جیسا طرز عمل انہوں کے اپنایا، جس طرح انہوں نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت کی، نبی اکرمﷺ کے راستے کو جیسا انہوں نے اپنایا اور اس پر جم گۓ اور ایمان کے تقاضے جیسے انہوں نے پورے کیے، ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ، یہ زبانی کلامی ایمان لانا، قابل قبول نہیں۔
لیکن جو منافقین ہیں، وہ کیا کہتے ہیں جواب میں؟ کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں
جس طرح وہ بیوقوف ایمان لاۓ ہیں، اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ منافق کی ایک اور
خصوصیت سامنے آ گئ۔ اہل ایمان کا مذاق اڑانا، دین کے لیے رشتے ناتے، گھر بار، وطن
چھوڑ دینا، آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا، اللہ اور اسکے رسولﷺ کے ہر حکم پر بلا چوں چرا
عمل پیرا ہونا، اپنے دین کے لیے، مال دولت، اولاد، جان، کی قربانی دینا، یہ سب
منافقین کے نزدیک سراسر بیوقوفی ہے۔ جیسا کہ منافقین دنیا ، آخرت کا فائدہ
چاہتےہیں، دونوں کشتوں میں سوار ہونا چاہتے ہیں، اس لیے جب ایمان کا امتحان آتا
ہے، کوئی قربانی کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا کی ظاہری چمک
دمک کو بہت عزیز رکھتے ہیں، وہ کسی بھی طرح اپنی دنیا کا نقصان نہیں چاہتے، اور بےدریغ قربانی دیتے والے ان کے نزدیک
بیوقوف ہیں۔ انہیں اہل ایمان کی قربانیاں خلافِ عقل نظر آتی ہیں۔ حالانکہ یہ
بیوقوفی نہیں ، عین عقل مندی اور سعادت ہے ۔ صحابہ اکرامؓ نے اسی سعادت مندی کا
ثبوت دیا ، اس لیے وہ مومن ہی نہیں، بلکہ ایمان کے لیے ایک معیار اور کسوٹی ہیں۔
اب ایمان انہی کا معتبر ہو گا جو صحابہ اکرامؓ ہی کی طرح ایمان لاۓ گا۔ سورۃ
البقرہ آیت نمبر ۱۳۷ " اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں"
پھر خبردار کیا جا رہا ہے، کہ ان کی باتوں پر مت جانا، حقیقتاً منافقین خود
بیوقوف ہیں، وہ خود سمجھ نہیں رکھتے کہ چند دنوں کے عارضی فائدے کے لیے انہوں کے
اپنی آخرت بیچ دی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی فوری فائدے کے لیے دیر سے ملنے والے
فائدے کو نظر انداز کرنا، آخرت کی پائیدار اور دائمی زندگی پر دنیا کی فانی زندگی
کو ترجیح دینا اور اللہ کی بجاۓ لوگوں سے ڈرنا پرلے درجے کی بیوقوفی ہے جس کا
ارتکاب منافقین کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ
خود نادان اور بیوقوف ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ عمل کتنا لا یعنی فضول اوربے بنیاد ہے۔
No comments:
Post a Comment