﷽
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سورۃ البَقَرَۃ
مدنی سورتوں میں سے سب سے پہلی سورت ہے۔ ترتیب
نزولی کے لحاظ سے 87 نمبرپر ہے۔
اس کا اکثر حصہ ہجرت کے پہلے دو سالوں میں نازل
ہوا اور کچھ حصہ 10 ہجری میں نازل ہوا۔ کیونکہ قرآن لوگوں کی ضروریات کے مطابق
بتدریج نازل ہوا۔
ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا " اپنے
گھروں کو قبرستان مت بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جہاں سورۃ البقرہ پڑھی
جاتی ہے۔"
ابو امامہ باہلیؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے، قرآن پڑھو اس
لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی ہو کر آۓ گا اور دو سورتیں
چمکتی ہوئی پڑھو، سورۃ البقرہ اور آل عمران۔ اس لیے کہ وہ میدانِ قیامت میں آئیں
گی گویا دو بادل ہیں ہو دو سائبان یا دو ٹکڑیاں ہیں اڑتے پرندوں کی اور حجت کرتی
ہوئی آئیں گی اپنے لوگوں کی طرف، اور سورۃ البقرہ پڑھو کہ لینا اس کا برکت اور
چھوڑنا اس کا حسرت، اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔" (صحیح مسلم ۱۸۷۴)
آیت نمبر 1:
الٓمٓ
ا ل م
حروفِ مقطعات میں سے ہیں۔ مقطعات قطع سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے الگ کرنا، کاٹنا۔ چونکہ یہ الفاظ علیحدہ علیحدہ پڑھے جاتے ہیں اس لیے انہیں حروفِ مقطعات کہتے ہیں۔
ا ل م
حروفِ مقطعات میں سے ہیں۔ مقطعات قطع سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے الگ کرنا، کاٹنا۔ چونکہ یہ الفاظ علیحدہ علیحدہ پڑھے جاتے ہیں اس لیے انہیں حروفِ مقطعات کہتے ہیں۔
ان حروف کا مطلب کیا ہے؟؟؟ اس کے بارے میں بہت سے نظریات پیش کیے جاتے
ہیں،لیکن کوئی مستند روایت موجود نہیں۔ ان کے معنی کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے،
البتہ مفسرین نے اس کے دواہم فوائد بیان کیے ہیں۔
1) مشرکین اپنے ساتھیوں کو
قرآن سننے سے روکتے تھے کہ مبادہ وہ اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائیں،اللہ
تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا آغاز ان حروف مقطعات سے فرمایا تاکہ وہ اسے سننے پر
مجبور ہو جائیں کیوں کہ یہ اندازِ بیاں نیا اور اچھوتا تھا ۔
2) قرآن اسی قسم کے حروف مقطعات سے
ترتیب اور تالیف پایا ہے، جس کی مثل تالیف پیش کرنے سے اہل عرب (عربی زبان کے
ماہر، اہل زبان) عاجز آ گۓ۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ قرآن اللہ کا ہی نازل کردہ
ہے، اور جس پیغمبر پر یہ نازل ہوا وہ سچا رسول ہے، جو شریعت وہ لے کر آیا ہے،
انسان اسی کا محتاج ہے اور اس کی اصلاح اور سعادت کی تکمیل اسی شریعت سے ممکن ہے۔
اوراہم بات یہ ہے کہ جس بارے میں اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے خاموشی اختیار کی ہو۔ اس ویسے ہی قبول کر لینا بہتر ہے۔
اوراہم بات یہ ہے کہ جس بارے میں اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے خاموشی اختیار کی ہو۔ اس ویسے ہی قبول کر لینا بہتر ہے۔
No comments:
Post a Comment