﷽
آیت نمبر 17-18
ترجمہ: ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے جلائی آگ، پس جب روشن ہو گیا ماحول
اس کا، اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، نہیں وہ دیکھ
سکتے (۱۷)
بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ پس وہ نہیں لوٹنے والے (۱۸)
استوقدا: و، ق،د : روشنی حاصل کرنے کے لیے آگ جلانا۔
اضآءت: ض، و، ء : ضؤ : ایسی روشنی جس میں حرارت اور تپش ہو۔
ظلمت: ظ، ل، م: روشنی کا نہ ہونا۔
ذھب: ذ، ھ، ب: لے جانا/گیا/ سونا(گولڈ)
یرجعون: ر، ج، ع: رجوع کرنا/ پلٹ آنا/ لوٹ آنا
اللہ تعالٰی نے یہ کتاب بھیجی ہدایت کے لیے۔ اور ساتھ میں ہدایت پانے کی شرائط
بھی بتا دیں۔ اور ہدایت کی راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات ہیں، ان سے بھی آگاہ کر
دیا، یعنی کفر، ہٹ دھرمی، منافقت، خراب رویہ وغیرہ۔ جیسا کہ پہلے بھی بتا دیا گیا
ہے کہ منافقت کفر سے بھی ذیادہ سخت ہے، اس لیے قرآن پاک میں منافقین کا حال سب سے
ذیادہ کھولا گیا ہے۔ اب ان آیات میں بھی منافقین کے رویے کو مثالوں سے واضح کیا
گیا ہے۔
اب مثالیں اس لیے دی گئ ہیں کیونکہ مثالیں بات کو سمجھنے میں آسان کر دیتی ہیں
، مگر پھر بھی ان مثالوں کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں، جو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جب اہل
علم کو قرآن میں کوئی بات یا مثال سمجھ میں نہ آتی تو وہ رویا کرتے تھے بہت، اور
اللہ سے کثرت سے دعا کرتے تھے قرآن کو سمجھنے میں، اور اس وقت تک چین سے نہیں
بیٹھتے تھے، جب تک انہیں وہ سمجھ نہیں آ جاتی۔
اب اس مثال میں اعتقادی منافقت بیان کی گئ ہے، یعنی وہ لوگ جو دل سے پکے کافر
ہیں ، مگر صرف زبان سے اقرار کرتے ہیں، دنیاوی فائدوں کے حصول کے لیے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینے آۓ تو کچھ لوگ
مسلمان ہو گۓ اور کچھ دن بعد پھر ان کے دل پھر گۓ۔
ان کے دل کا نور چلا گیا، مگر پھر بھی وہ خود کو مسلمان کہتے رہے۔
پہلے اندھیرا تھا ماحول میں، جہالت کا اندھیرا۔
پھر حق کی آمد سے ان کا ماحول روشن ہو گیا، حق و باطل ان پر واضح ہو گیا۔ پھر ایک دوسرے اندھیرے نے انہیں اپنی لپیٹ میں
لے لیا۔ اور وہ اندھیرا ان کے دلوں میں تھا، ان کے دلوں کا نور چلا گیا۔ وہ جہالت،
شرک، کفر اور منافقت کے اندھیروں میں ہی رہ گۓ۔ اب سورج تو نکلا ہے مگر جو جس کی
آنکھ میں ہی روشنی نہیں اسے سورج کی روشنی کہاں نظر آۓ گی۔
اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نور لے گیا تو انسان کیا کرۓ، تو بات یہ ہے کہ
اللہ ایسے ہی نور نہیں لے جاتا۔ انسان کے اندر کا نور انسان کے گناہوں اور ٹیڑھے
پن کی وجہ سے جاتا ہے، اس کی دنیاوی مفادات کی چاہت، تعصب، اپنی ذات اور انا پرستی
کی وجہ سے انسان کے دل میں انھیرا ہو جاتا ہے۔ پھر اسے آس پاس کا روشن ماحول بھی
کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ حق کی نشانیاں اور دلائل ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں
کرتے۔
پارہ 28، سورۃ الصّف ، آیت 5
ترجمہ: پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور
اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 17
ترجمہ" اور رہے ثمود تو ہم نے ان کو بھی ہدایت دی، پس انہوں نے ہدایت پر
اندھے پن کو ترجیح دی"
دین کی روشنی میں تپش بھی ہوتی ہے۔ اور سب سے پہلا مطالبہ اپنی انا کو ختم
کرنا ہے۔ انا کو مار کر ہی انسان اللہ کی غلامی میں آ سکتا ہے۔ سب کچھ جب اللہ نے
دیا تو پھر اکڑنا کس بات کا۔ جب انسان دین کے احکامات پر اپنی پسند ناپسند،
خاندانی ، قبائلی رسم و رواج، ذاتی مفادات اور خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا
دل بجھ جاتا ہے۔ ان کے دل اندھے ہو جاتے ہیں۔ پھر بایر تو خیر و بھلائی کی روشنی
چاروں طرف پھیلی ہوتی ہے مگر ان کو نظر نہیں آتی۔
ان کو بہرے، گونگے اور اندھے کہا گیا ہے۔ وہ حق سننا نہیں چاہتے ، سب بھی لیں
تو اس کے بارے میں بات نہیں کرتے، انہیں حق نظر نہیں آتا۔ ان کا نور بجھ چکا ہے ،
ان کی ہدایت کا اب کوئی امکان نہیں، جو ایک دفعہ دیکھ لے، سن لے، سمجھ لے، اور پھر
انکار کر دے، پھر نہ مانے ، اس سے اس کی انا ، تعصب میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ اور
ان کی طرف سے مایوسی ہے، اب وہ ہدایت کی طرف واپس نہیں آ سکتے۔ کیونکہ واپس تو وہی
آتا ہے جو آنا چاہتا ہو۔
No comments:
Post a Comment