
﷽
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سورۃ الفاتحہ
"الفاتحہ"
لفظ فتح سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں "بندش کو کھولنا" یا "شروع
کرنا"
قرآنِ مجید کا آغاز
سورۃ فاتحہ سے ہوتا ہے۔
سورۃ الفاتحہ کے بہت سے
اور نام بھی ہیں۔ الحمد، ام القرآن ، ام الکتاب، الشفاء، الرقیہ، والصلوٰۃ (دعا) ،
السبع المثانی(بار بار دہرائی جانے والی سات آیات)۔
ترتیب نزولی کے لحاظ
سے پانچویں (۵) نمبر پر ہے۔
یہ پہلی سورت ہے جو
کہ پوری ایک ساتھ اُتری۔
حضرت عبد اللہ بن
عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیلؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک زور دار آواز آئی۔
حضرت جبرائیلؑ نے فرمایا ۔ "یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج سے پہلے کبھی
نہیں کھلا اور ایک فرشتہ ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ وہ فرشتہ نبی پاک ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو دو نور عطا کیے ہیں جو آج سے پہلے کسی
پیغمبر کو نہیں دیے گۓ ، سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات۔ جو بھی ان
کو پڑھے گا، اسکے ساتھ طلب کردہ چیز ضرور عطا کی جاۓ گی۔" (صحیح مسلم)
اَعُو٘ذُ بِا للہِ مِنَ الشَّی٘طَٰنِ
الرِّجِی٘مِ
ترجمہ: میں پناہ طلب کرتی ہوں اللہ کی شیطان
مردود سے۔
جب بھی ہم کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں تو شیطان
اس میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ اللہ کی راہ پر جب ہم چلتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں تو شیطان
اور ذیادہ کوشش کرتا ہے کہ قرآن پڑھ کر بھی ہم بھٹکیں۔ اس لیے قرآن پڑھنے سے پہلے
شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے ۔
پارہ ۱۴
سورۃ النحل آیت ۹۸ میں ارشاد ہوتا ہے۔ " قرآن پڑھتے وقت راندے ہوۓ شیطان سے
اللہ کی پناہ طلب کر لیا کرو"۔
بِس٘م اللہِ الرَّح٘مٰنِ الرَّحِی٘مِ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بڑا مہربان، بار
بار رحم کرنے والا ہے
جب بھی انسان کوئی نیا قابل ذکر کام کرتا ہے تو
کسی کے بھروسے پر کرتا ہے ۔ کبھی اپنی طاقت، کبھی قابلیت، مال و دولت، علم،
سمجھداری، کبھی دوست و اقارب کے بھروسے پر۔ یہ سب اسباب ہیں، اللہ کہتا ہے کہ ان
اسباب کا استعمال کرو مگر ان پر بھروسہ نہیں، بھروسہ صرف اللہ کی قدرت ، طاقت اور
مدد پر کرنا ہے۔ اسباب پر بھروسہ کرنا تو کفار کا شیوی ہے۔ مومن تو اللہ پر بھروسہ
کرتے ہیں
اپنی صرف کوشش، باقی سب اللہ کا۔
حدیث ہے کہ ہروہ قابلِ اہتمام کام جس کا آغاز
بسم اللہ سے نہ کیا جاۓ ، وہ امر مقتول ہے۔ (بے برکت )
اور اہم ترین کاموں میں میں سے اہم ترین کا قرآن
کا پڑھنا ہے اس لیے قرآن پڑھنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------
آیت نمبر 1:
اَلحَمدُ لِلہِ رَبِّ العٰالَمِینَ۔
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
اَلحَمدُ لِلہِ رَبِّ العٰالَمِینَ۔
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
اَلحَمدُ لِلہِ
حمد : نعمت کا اعتراف کرنا
بندہ مومن ہر خیر و بھلائی ملنے پر دینے والے کو یاد کرتا ہے اور اس کا مشکور ہوتا ہے۔ یہ کلمہ خالق و مالکِ کائنات کو خوش کر دیتا ہے۔ حدیث: الحمد للہ کاکہنا میزان کو بھر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم ، نسائی)۔
بندہ مومن ہر خیر و بھلائی ملنے پر دینے والے کو یاد کرتا ہے اور اس کا مشکور ہوتا ہے۔ یہ کلمہ خالق و مالکِ کائنات کو خوش کر دیتا ہے۔ حدیث: الحمد للہ کاکہنا میزان کو بھر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم ، نسائی)۔
الحمد للہ سب دعاؤں سے افضل ہے۔ (نسائی، ترمزی)
نعمتوں کے اعتراف میں محبت اور جزبات کے جو بے
ساختہ کلمات منہ سے نکلیں وہ اللہ کو بہت پسند ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ
حضور ﷺ نے فرمایا: " جب اللہ اپنے بندے کو نعمت عطا کرتا ہے اور بندہ اس پر
الحمد للہ کہتا ہے تو گویا اس کو جو ملا، اُس نے اس سے بہتر دے دیا۔"
رَبِّ العٰالَمِینَ۔
رب کہتے ہیں کسی چیز کو عدم سے وجود میں لا کر
آہستہ آہستہ ذرے سے کمال تک پہنچانے والا۔ محبت، شفقت، امانت، حفاظت، اور نگہداشت
کرنے والا۔ اللہ کے سوا اور کون ہو سکتا
ہے۔ وہی رب ہے ہمارا بھی ، اور تمام جہانوں کا ، صرف ہمارے جہاں کا نہیں، تمام
جہانوں۔
عالمین عالم کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے وہ چیز جس سے کوئی جانا جاۓ، کوئی
پہچانا جاۓ۔ یعنی ہر وہ چیز جس سے اس کے بنانے والے کو پہچانا جاۓ۔
اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں، کوئی ایسی مخلوق نہیں، کوئی ایسی دنیا نہیں، کوئی ایسا نظام نہیں، جو اللہ کی پہچان نہ کرواۓ۔ ہر ہر زرہ اس کی نشانی ہے۔ اور ہر چیز کا رب وہ ایک اللہ ہے۔
اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں، کوئی ایسی مخلوق نہیں، کوئی ایسی دنیا نہیں، کوئی ایسا نظام نہیں، جو اللہ کی پہچان نہ کرواۓ۔ ہر ہر زرہ اس کی نشانی ہے۔ اور ہر چیز کا رب وہ ایک اللہ ہے۔
آیت نمبر 2:
الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ ۔
ترجمہ: بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اللہ کی صفات بیان کی گئ ہیں، جن میں کثرت اور
دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی اللہ بہت ہی ذیادہ رحم کرنے والا ہے اور اس کی
یہ صفات بھی دیگر صفات کی طرح دائمی ہیں۔
وہ ہمیں عطا کرتا ہے ،ہم گناہ کرتے ہیں ، وہ
درگزر کرتا ہے، ہم نافرمانی کرتے ہیں، وہ
پھر بھی دیتا ہے، دیتا چلا جاتا ہے، ہم اُس کی ایک نہیں سنتے ، وہ ہماری فرمائشیں
پوری کرتا رہتا ہے، وہ اسے بھی دیتا ہے، جو اُسے مانتے ہیں، وہ انہیں بھی عطا کرتا
ہے جو اُس کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اتنا عطا کرتا ہے کہ ہم گن نہیں سکتے، اور ہم
اتنی ناشکری کرتے ہیں کہ حد نہیں ، وہ پھر بھی نہیں روکتا۔ بار بار عطا کرتا ہے۔
وہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ اعلٰی صفات ہیں، اس کے علاوہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔
وہ الرحمٰن ہے، سب جہانوں کے لیے، یہ اس کی
رحمتِ عام ہے، جو اہل ایمان پر بھی ہے اور اہلِ انکار پر بھی، نیکو کاروں کے لیے
بھی اور گناہ گاروں کے لیے بھی، تمام مخلوقات کے لیے۔
اور وہ الرحیم ہے۔ یہ اس کی رحمتِ خاص ہے جو صرف اہلِ ایمان کے لیے ہے۔ آٖخرت
میں وہ صرف الرحیم ہو گا۔
آیت نمبر 3:
مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ ۔
ترجمہ: بدلے کے دن کا مالک ہے۔
دنیا میں بھی اگرچہ مکافاتِ عمل کا سلسلہ ایک حد
تک جاری رہتا ہے ، تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہو گا اور اللہ تعالٰی ہر ایک کو
اُس کے اچھے اور برے اعمال کے مطابق سزا اور جزا دیں گے، اور اللہ کو حساب لینے
میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ اسی طرح دنیا میں عارضی طور پر کئ لوگوں کے پاس تحت الا
سباب اختیارات ہوتے ہیں۔ لیکن آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ ہو گا۔
پارہ ۳۰ سورۃ الانفطار آیت ۱۷-۱۹ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
ترجمہ: تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا
ہے (۱۷)
پھر تجھے کیا معلوم کہ بدلے کا دِن کیا ہے (۱۸)
جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مختار
نہ ہو گا، اور احکام اس روز اللہ کے ہی لیے ہوں گے (۱۹)
اللہ کی ہی قدرت ہے۔ پارہ ۲۴ سورۃ المؤمن آیت ۳
میں ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ: گناہ کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب والا، انعام و
قدرت والا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (۳)
آیت نمبر 4:
اِیَّاکَ نَعبُدُ وَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ ۔
ترجمہ: ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف
تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
عبادت کی اصل عاجزی اور محبت سے جھکنا ہے۔
اصطلاح میں عبادت کا مطلب ہے خود کو اللہ کے سامنے محبت، اطاعت اور تعظیم کے
ساتھ جھکا دینا۔
ابنِ کثیر کے مطابق "شریعت میں کمال محبت،
خضوع اور خوف کا نام عبادت ہے"۔
اسلام آیا ہے ہمیں بندوں کی غلامی سے نکال کر
اللہ کی غلامی میں لانے کے لیے ، جو خود کو اللہ کی غلامی میں دے دیتا ہے ، وہ
بندوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اور ہم ہیں کہ بندوں کی غلامی سے نکلنے کو تیار ہی
نہیں۔ حالانکہ بندوں کی غلامی کسی کو پسند بھی نہیں ہوتی۔
بندہ مومن صرف اللہ کے سامنے only yours ہوتا ہے، بندوں کے سامنے نہیں۔
نَستَعِینُ : مدد ، استعانت چاہنا۔ حمایت طلب
کرنا۔
اِیَّا: صرف
کَ: تیری
یہاں پر اِیَّاکَ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو ہر
قسم کے شرک کا سدباب کرتا ہے۔ یعنی ہم صرف اور صرف اللہ کی ہی عبادت کرتے ہیں، اور
اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ لیکن جن کے دلوں
میں شرک کا روگ پایا جاتا ہے ، وہ مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب استعانت میں
فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈالتے ہیں ، جیسا کہ کہتے ہیں کہ دیکھو
ہم بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد چاہتے ہیں مختلف کاروبارِ زندگی میں مختلف
لوگوں کی مدد لیتے ہیں۔ اس طرح کی باتوں سے وہ یہ باور کرواتے ہیں کہ اللہ کے
علاوہ اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ ماتحت الاسباب ایک دوسرے سے مدد
چاہنا اور کرنا شرک نہیں ، یہ تو اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے، جس میں سارے کام ظاہری
اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے تھے۔
حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا: " اللہ کے دین کے لیے کون میرا مددگارہے" (الصف
- ۱۴ )
اللہ تعالٰی اہل ایمان کو فرماتے ہیں:
"نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو" (المائدہ – ۲)
ظاہر سی بات ہے یہ تعاون ممنوع نہیں ، نہ شرک،
بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مددطلب کرنا جو ظاہری اسباب
سے مدد نہ کر سکتا ہو، جیسے فوت شدہ کو مدد کے لیے پکارنا، اس کو مشکل کشا اور
حاجت روا سمجھنا، اس کا نام ہے مافوق الاسباب مدد طلب کرنا، اور اسے خدائی صفات سے
متصف ماننا، اسی کا نام شرک ہے، جو بد قسمتی سے محبتِ اولیاء کے نام پر مسلمان
ملکوں میں قائم ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------------
آیت نمبر5 :
آیت نمبر5 :
اِھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ۔
ترجمہ: ہمیں صراط مستقیم دکھا۔
اِھدِ: لطف اور مہربانی سے راہنمائی کرنا۔ راستہ
دکھانا، راستے پر چلانا، اور منزل تک پہنچا دینا۔
صراط کہتے ہیں راستے کو، ایسا راستہ جس کے ارد
گرد بہت سارے خطرات ہوں اور جس پر احتیاط سے چلنا پڑے۔
مستقیم
: سیدھی، متوازن، even
جیسا کہ آخرت میں پلِ صراط ہے، خطروں سے بھرا
ہوا، جسے احتیاط سے پار کرنا پڑےگا۔ اور وہ پار کر سکےگا، جس کے ساتھ اللہ کی رحمت
اور مہربانی ہو گی۔ جس کے پاس نور ہو گا، جس کی روشنی میں وہ پلِ صراط پارکرۓ گا۔
بلکل اسی طرح یہ زندگی بھی ایک پلِ صراط ہے۔
خطروں سے بھری ہے، قدم قدم پہ شیطان گھات لگا کر بیٹھا ہے، ہر سانس پر پھسلنے کا
اندیشہ ہے۔ اور اس پلِ صراط پر چلنے کے لیے بھی ہمیں نور چاہیے، ھدایت کا نور ،
اللہ کا نور، جس کی روشنی میں ہم ان خطرات سے بچ کر نکل سکیں۔ اور یہ نور ہمیں
اللہ کی رحمت اور فضل و کرم سے ملتا ہے، اور اللہ یہ رحمت اس پہ کرتا ہے جو اس کو
طلب کرتا ہے۔ یہ نور ہمیں سیدھا اور صحیح راستہ دکھاتا ہے، ہماری مدد کرتا ہے اس
راستے پر چلنے میں، ہمیں اِدھر اَدھر بھٹکنے نہیں دیتا اور آخر کار ہمیں منزل تک
پہنچا دیتا ہے۔ منزل کیا ہے اللہ کی رضا ، اسکی محبت، اسکی رحمت اور نعمت۔
اور جس نے اس دنیا کا پلِ صراط سلامتی کے ساتھ
پار کر لیا وہ آخرت کے پلِ صراط سے بھی سلامتی سے گزر جاۓ گا۔ جو دنیا میں پھسلا ،
وہ آخرت میں بھی پھسلے گا۔ ہم ہر نماز میں
یہ دعا مانگتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اے اللہ ہمیں دکھا، اللہ ہمیں کہتا ہے دیکھو، اور
پھر ہم دیکھتے ہی نہیں تو پھر دنیا اور آخرت کے پلِ صراط کی منزل تک کیسے پہنچیں
گے۔ دیکھیں، چلیں اور رکیں نہیں، دائیں بائیں نہ مڑیں ، سیدھا چلتے جائیں ، مرنے
تک چلیں، انشاءاللہ منزل تک پہنچیں گے۔ منزل تک پہنچنے کی بات س لیے بھی ضروری ہے
کہ اکثر لوگ آخر میں آ کر ایسی غلطی کر جاتے ہیں کہ سارا کیا کرایا غارت ہو جاتا
ہے۔
"حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک شخص پلِ صراط کے
آخر تک جا پہنچے گا، اور پھر پھسل جاۓ گا۔ صحابہ ؓ نےاس بارے میں استفسار کیا، تو فرمایا
گیا کہ یہ وہ شخص ہو گا جو ساری زندگی صراطِ مستقیم پر رہا اور آخر میں آ کر پھسل
گیا۔" مثلا آج کل اچھے خاصے لوگ غیر شرعی اور غلط وصیت کر دیتے ہیں۔ اسی لیے
یہ دعا بہت ضروری ہے کہ اِھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ۔ کہ ہمیں سیدھی اور سچی
داہ دکھا بھی ، اس پہ چلا بھی اور منزل تک پہنچا بھی۔
اور یہ صراط مستقیم "اسلام" ہے ، جسے
حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور یہ
صراطِ مستقیم قرآن اور حدیث میں محفوظ ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------------
آیت نمبر 6
آیت نمبر 6
صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم
غَیرِالمَغضُوبِ عَلَیھِم وَ لَا الضَّآلِّینَ
۔
آمین
آمین
"ترجمہ: ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے
انعام کیا۔
نہ کہ ان لوگوں کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ
گمراہوں کا۔"
یا رب سن لے، قبول کر لے
یہاں پر صراط مستقیم کی وضاحت کی گئ ہے۔ کہ یہ
سیدھا راستہ کون سا راستہ ہے، کن لوگوں کا راستہ ہے۔ یہ ان منعم علیہ گروہ کا
راستہ ہے، یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ کیا انعام کیا گیا،
ھدایت کا انعام، سیدھے راستے کا انعام، دین کے علم کا انعام، منزل کا انعام، اللہ
کی رضا، قربت، نفسِ مطمئنہ کا انعام۔ یہ سب اللہ تعالٰی کی ھرف سے انہیں عطا کیا
گیا کیونکہ وہ راہِ مستقیم پر چلے اور
قائم رہے، یہ راہ مستقیم اطاعتِ الہی اور اطاعت رسول ﷺ ہی کی
راہ ہے، نہ کہ کوئی اور۔ اب یہ انعام
یافتہ لوگ ہیں کون؟؟ یہ انبیاء، شہداء، صدیقین، اور صالحین ہیں۔ جیسا کہ سورۃ
النساء میں ہے۔ " اور جو لوگ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں
گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، اور ان
کی رفاقت بہت ہی خوب ہے (۶۹)
یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور
اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔ اور ہم دنیا میں ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے تو اللہ ہمیں
آخرت میں ان کے ساتھ کرۓ گا۔ اور یہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ہر وقت
استغفار کرنی چاہیے اور اللہ کے مدد طلب کرنی چاہیے۔
اور پناہ مانگنی ہے ان لوگوں کے راستے سے جن پر
اللہ کا غضب ہوا اور ان لوگوں کے راستے سے جو گمراہ ہوۓ۔ یہاں دو گروہوں کا ذکر ہے
، مغضوب اور ضالین۔
مغضوب: جن پر اللہ کا غضب ہوا، اللہ کے غصے کا
شکار ہوۓ، یہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی بجاۓ اس کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ یہ
وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے علم دیا، ان کے سامنے حق واضح ہو گیا۔ مگر پھر بھی انہوں
نے منہ موڑ لیا۔ حق کا انکار کیا، یہ وہ لوگ بھی ہیں، جن کے پاس علم تھا مگر انہوں
نے اس پر عمل نہیں کیا۔ علم پانے کے بھٹکے، خیر اور شر کا فرق واضح ہو جانے کے بعد
بھی انہوں نے شر کا راستہ اپنایا۔ یہ وہ
لوگ بھی ہیں جوغلط بیانی کرتے ہیں۔ بہانے اور جھوٹی تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ جو کہتے
ہیں وہ کرتے نہیں، منافقت کرتے ہیں۔ جس کو پتا ہو اور پھر بھی جان بوجھ کر بھٹکے ،
اس پر اللہ کا غصہ ذیادہ ہوتا ہی ہے۔ وہ سب قومیں جو برباد ہوئیں قومِ نوح، ھود،
ثمود، قومِ صالح، بنی اسرائیل، قومِ لوط ۔ اور آج جو مسلمانوں کا حال ہے وہ بھی
اسی وجہ سے ہے۔ خود سوچیں اپنے بارے میں کہ ہمیں کتنا غصہ آتا ہے کہ "دیکھو!
اسے پتا بھی تھا پھر بھی اس نے ایسے کیا، مجھے اتنا غصہ آ رہا ہے نا ، میرا دل
کرتا ہے اسے یہ کر دوں ، وہ کر دوں" اور ہمیں موقع ملے تو اپنا غصہ نکالتے
بھی ہیں متعلقہ بندے پر۔ تو پھر اللہ کی ناراضگی اور غصے کا اندازہ لگا لیں جو اس
بندے اور قوم پر ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔
الضالین:
گمراہ ، اصل راہ سے ہٹے ہوۓ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر ڈائریکشن لیے کسی راہ پر
نکل جاتے ہیں۔ اور بھٹک جاتے ہیں، یعنی ان کے پاس نہ علم ہوتا ہے حق کا، اور نہ
لینے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں۔ کہیں کے کہیں جا نکلتے ہیں۔ ایک انسان کو اگر ڈرائیو
کر کے کہیں جانا ہے، نہ تو اسے راستے کا پتا ہے اور نہ وہ میپ ساتھ رکھے ، نہ کسی
سے راستہ پوچھے، نہ سائن بورڈز کو دیکھے تو کیا وہ اپنی منزل تک پہنچے گا، کیا وہ
صراطِ مستقیم پر ہو گا، نہیں بلکہ وہ اِدھر اُدھر ہی بھٹکتا رہے گا، کبھی منزل تک
نہیں پہنچ سکتا۔ وہ گمراہ ہے۔ بس پھر یہی معاملہ اللہ کے دین کا ہے، جو لوگ اس کا
علم نہیں رکھتے وہ اس کے دائرے کے باہر ہی گھومتے رہتے ہیں۔ اور جو اس دائرے کے
اندر ہیں، اور پھر بھی پورا علم نہیں رکھتے، بس صرف مسلمان ہونے کو ہی کافی سمجھتے
ہیں، نہ انہیں پورے دین کا علم ہوتا ہے اور نہ وہ دین کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اور
اکثر اس کے بدعات جنم لیتی ہیں۔ بس اپنی perceptions سے ہی کچھ نیا اخذ کر
لیتے ہیں۔ جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔ قرآن، حدیث ، سنتِ رسول ﷺ میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اور حدیث کے
مطابق دین میں نئ راہیں نکالنے سے اجتناب کرو، کیونکہ ہر نئ بات بدعت ہے اور بدعت
گمراہی ہے۔ (ترمزی)
بنی اسرائیل مغضوب ہوۓ تو ان سے امامت چھین لی
گئ ، عیسائیوں نے اپنے دین میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کی تو اللہ کے ساتھ شرک کے
مرتکب ہوۓ۔ آج امتِ مسلمہ کی حالت پر غور
کیجیے ، ہم یہ دونوں کام کر رہے ہیں۔ اسی لیے تو دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں۔ تو اس
ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہے۔ مغضوب اور ضالین دونوں کے راستے سے بچنا
ہے۔ جس بارے میں علم نہیں ، اس کے بارے میں مستند ذرائع سے معلوم کرنا ہے، جو پڑھا
، سیکھا، اس پر عمل کرنا ہے، نعم علیہ کے
راستے پر چلنا ہے جو کہ صراطِ مستقیم ہے۔
اور اس پر مضبوطی سے جمے رہنا ہے۔
انشاءاللہ
آمین اے
اللہ ہماری سن لے، قبول کر لے
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا "جب امام الضالین کہے تو تم
آمین کہو۔ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین سے موافق ہو گیا اسکے پچھلے گناہ معاف
کر دیۓ جائیں گے"
اب ہم سب کے کرنے کا کام کیا ہے؟ یاد کریں اور غور کریں کہ ہمیں کن باتوں کا پتا ہے اور ہم ان پر عمل نہیں کرتے۔ ان کی لسٹ بنا لیں اور پریکٹس شروع کریں ۔شروع میں تھوڑی مشکل ضرور ہو گی لیکن انشاءاللہ آہستہ آہستہ عادت ہو جاۓ گی۔ اور اس لسٹ کو اکثر ریویو کر لیا کریں کہ یہ ایک امتحان ہے اس کے لیے بار بار ریویژن کرنی پڑتی ہے ۔ شیطان ہے نا اکثر بھلا دیتا ہے اور بھٹکا دیتا ہے۔ اور تھوڑا تھوڑا کر کے مگر ہم نے یہ ضرور کرنا ہے کیونکہ مغضوب اور الضالین ہونے سے بچنا ہے۔
اور دوسری بات کہ اب نماز پڑھتے ہوۓ ان باتوں پر ضرور غور کرنا ہے۔
سورۃ الفاتحہ یہاں مکمل ہوتی ہے۔ ھذا من فضلِ
ربی
(اور یہ
علم آپ کے پاس ایک امانت ہے، اس کا حق ادا کیجیے۔ اس کو پڑھیں، سمجھیں ، عمل کریں،
اور دوسروں تک پہنچائیں۔ اس راستے پر اپنے پیاروں کا ساتھ لے کر چلیں)
No comments:
Post a Comment