﷽
آیت نمبر 6
اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَوَآ ءٌ عَلَیھِم ءَ اَنذَرتَھُم اَم لَم
تُنذِرھُم لَا یُؤمِنُونَ ۔
ترجمہ: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، برابر ہے ان کے لیے کہ آپ انہیں ڈرائیں
یا نہ ڈرائیں ، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
کَفَرُوا : روٹ ورڈ: "ک، ف، ر" کفر معنی ہیں کسی چیز کو چھپا لینا،
ڈھانپ لینا، نعمت کا انکار کرنا۔
سَوَآ ءٌ: روٹ ورڈ: "س، و، ی" معنی ہے دونوں طرف سے برابر
اَنذَرتَھُم: روٹ ورڈ: "ن، ذ، ر" انذار معنی ہے کسی نقصان دہ چیز سے کسی کو خبردار کرنا۔
آیت نمبر ۲-۵ میں ہم نے ان لوگوں کے
بارے میں پڑھا جو کہ دائمی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں، جو انعم علیہ گروہ ہے، جن
پر اللہ نے اپنا انعام کیا۔ وہ لوگ تقویٰ والے ہیں، ان کے دلوں میں اللہ کی محبت
اور خوف ہے۔ اور وہ اپنی زندگی اطاعتِ الٰہی اور اطاعت رسولﷺ میں گزارتے ہیں۔
اب آیات ۶-۷ میں ہم ان لوگوں کے بارے میں پڑھیں گے ، جو کفر کا ارتکاب کرتے
ہیں۔ ان کے کفر کے اسباب کیا ہیں، اور ان
کے نتائج کیا ہیں۔
مومنین کی خصوصیات میں ہم نے پڑھا تھا کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں، جس پر
ایمان لانے کا حکم اللہ نے دیا۔ اس کے برعکس جو لوگ غیب پر ایمان نہیں لاتے ، اس
کا انکار کرتے ہیں، وہ کفر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایمان بالغیب میں اللہ پر ایمان، اس
کی کتابوں ، رسولوں، فرشتوں اور آخرت کے دن پر ایمان لانا شامل ہے۔ جب وہ ان سب پر
یا کسی ایک پر ایمان نہیں لاتے۔تو وہ اعتقادی کافر ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت ابوبکر
صدیقؓ نے تارک زکوۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا، کیونکہ ان لوگوں نے زکوۃ کا انکار
کیا تھا کہ زکوۃ تو اسلام میں ہے ہی نہیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جو ان سب پر ایمان لاتے ہیں، مگر عمل میں کوہتائی
برتتے ہیں، جیسے کہ نماز جان بوجھ کر چھوڑ دینا، زکوۃ ادا نہ کرنا۔ وغیرہ
حدیث ہےکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی، اس نے کفر کیا۔ اب یہ عملی کفر ہے۔
حدیث ہےکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی، اس نے کفر کیا۔ اب یہ عملی کفر ہے۔
یہاں اس آیت میں اعتقادی کفر کرنے والوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں میں اہل کتاب،
مشرکین ، منافقین سب شامل ہیں۔ ایمان لانے کے لیے دل اور زبان کی موافقت ضروری ہے۔
فرعون نے دل اور زبان دونوں سے انکار کیا، کافروں میں شامل ہوا۔ منافقین دل میں
انکار ہوتا ہے اور زبان سے اقرار کرتے پھرتے ہیں، وہ بھی کفر کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اورکچھ لوگ دل سے تو مانتے ہیں، مگر زبان سے انکار کرتے ہیں، جیسے ابو جہل اور اس
جیسے بہت سے مکہ کے لوگ، جو دل سے تو قائل ہو گۓ مگر اپنی انا کی وجہ سے انکار
کرتے رہے، اور اہل کتاب بھی ان میں آ جاتے ہیں، جنہیں حق کی خبر ہے، مگر وہ بھی ضد
اور انا میں اس حق کو چھپاتے ہیں اور انکار کر کے کفر کے مرتکب ہوتے ہیں۔
یہاں پر انذار کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی کو خیر خواہی کی
نیت سے کسی نقصان اور تکلیف دہ چیز کے بارے میں شفقت اور نرمی سے خبردار کرنا اور
اس سے بچنے کی تلقین کرنا، اسی لیے آپ ﷺ کو نزیر بنا کر بھیجا گیا تاکہ آپﷺ لوگوں کو اللہ کہ نافرمانی اور انکار کے برے نتائج سے خبردار کریں اور کفر اور برائی کے ارتکاب سے بچنے کی تلقین
کریں۔ اب جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں،اور اس پر جمے رہتے ہیں، اللہ تعالٰی ان
کے بارے میں فرماتے ہیں انہیں اس کے برے نتائج سے خبردار کریں یا نہ کریں، انہیں
صحیح راہ کی تلقین کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے، وہ کبھی ایمان نہیں لائیں
گے۔ وہ کفر پر بضد ہیں، اس پر جمے ہوۓ ہیں ، تو اللہ نے بھی انہیں وہی عطا کر دیا
ہے ، جو وہ چاہتے ہیں۔ دنیا میں ہمیں ہر چیز بن مانگے مل جاتی ہے، مگر صرف ایک چیز
ہے جو صرف مانگنے والے کو پلتی ہے، اس کے لیے تڑپ رکھنے والے کو ملتی ہے ، وہ ہے
ہدایت کی نعمت۔ جو کہ محنت کرنے والے کو ملتی ہے۔ جو ہدایت کے لیے اینڈ لیس کوشش
کرنے والے کو ملتی ہے۔ یہاں ایک بات اور ہے کہ کسی کو بھی کافر کہہ دینا سخت ممنوع
ہے۔ جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں ایک رواج چل نکلا ہے کہ آرام سے کسی دوسرے فرقے
والے کو کافر کہہ دیتے ہیں۔ اس بارے میں جب ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی
ایک اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہہ دے تو دونوں میں سے کفر کا حقدار کون ہو گا۔ آپﷺ نے فرمایا، جس نے اپنے
بھائی کو کافر کہا۔ استغفراللہ کتنے نادان ہیں ہم لوگ ، کہ اپنے آپ کو ہی کفر کا
حقدار بنا رہے ہیں۔ اللہ ہمیں معاف فرماۓ۔ آمین، ثم آمین
اللہ ہم سب کو اپنی راہ پر چلنے اور قائم رہنے کی توفیق عطا فرماۓ ، اور ہمیں
قرآن سیکھنے اور سکھانے والا بنا دے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم
آمین
No comments:
Post a Comment