﷽
آیت نمبر 14-15
ترجمہ: "اور جب ملتے ہیں اہلِ ایمان سے، کہتے ہیں ہم ایمان لاۓ، اور جب
اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں، کہتے ہیں بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ بلکہ ہم تو
استہزاء کرنے والے ہیں (مسلمانوں سے)" ۱۴
"اللہ استہزاء کرتا ہے ان کے ساتھ، اور ڈھیل دیتا ہے انہیں، اپنی سرکشی
میں وہ بھٹک رہے ہیں"۱۵
شیٰطینھم: ش، ط،ن: اللہ کی رحمت سے دور، مراد ہے کفار اور منافقین کے سردار،
ان کے لیڈرز
مستھزءون: ھ، ز، ء: کسی کو بیوقوف سمجھ کر اندر ہی اندر ان کا مذاق اڑانا۔
یمد: م،د،د: لمبائی میں کھینچنا/ ڈھیل دینا
طغیانھم: ط، غ،ی: حد سے بڑھنا
یعمھون: ع، م، ھ: حیرانی کے ساتھ گمراہی میں بھٹکنا۔ دل کا اندھا پن
طغیانھم: ط، غ،ی: حد سے بڑھنا
یعمھون: ع، م، ھ: حیرانی کے ساتھ گمراہی میں بھٹکنا۔ دل کا اندھا پن
پچھلی آیات میں ہم نے منافقین کا طرزِ عمل پڑھا ۔ وہ زبانی کلامی ایمان کا
دعویٰ کر کے اللہ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں
نفاق کی بیماری ہے۔ جھوٹ انکی خصلت ہے، زمین میں اصلاح کے نام پر فساد کرتے ہیں۔
اب ان کی ایک اور بد خصلت سامنے آئی ہے۔ اور وہ ہے اہل ایمان کا مذاق اڑانا ۔
جب اہل ایمان کی مجلس میں ہوتے ہیں تو ان کی طرح بن جاتے ہیں۔ ان جیسا حلیہ ، ان جیسی باتیں، ان کی ہاں میں ہاں ملانا، ان کی تعریف کرنا ۔ غرض ان کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس کے دل میں جو یہ کہہ رہا ہے، اس کا انکار ہو گا۔
ان کا حال بلکل ان لوگوں جیسا ہے، جن نے بارے میں حدیث میں ارشاد ہوتا ہے ،" کسی کے متعلق کہا جاۓ گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔" (صحیح بخاری، کتاب الفتن-۷۰۸۶)
اب ان کی ایک اور بد خصلت سامنے آئی ہے۔ اور وہ ہے اہل ایمان کا مذاق اڑانا ۔
جب اہل ایمان کی مجلس میں ہوتے ہیں تو ان کی طرح بن جاتے ہیں۔ ان جیسا حلیہ ، ان جیسی باتیں، ان کی ہاں میں ہاں ملانا، ان کی تعریف کرنا ۔ غرض ان کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس کے دل میں جو یہ کہہ رہا ہے، اس کا انکار ہو گا۔
ان کا حال بلکل ان لوگوں جیسا ہے، جن نے بارے میں حدیث میں ارشاد ہوتا ہے ،" کسی کے متعلق کہا جاۓ گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔" (صحیح بخاری، کتاب الفتن-۷۰۸۶)
اور جب جو ایمان والوں کی مجلس سے اٹھ کر اپنے جیسوں کے پاس جاتے ہیں، یعنی کہ
کافروں کے پاس یا پھر منافقین کے پاس، اپنے سرداروں کے پاس، تو کہتے ہیں کہ ہم تو
مسلمانوں کے ساتھ صرف مذاق کرتے ہیں۔ دین کے معاملے میں تو ہم تمہارے ہم خیال ہیں۔
اعتقاد کے معاملے میں تو ہم تم سے جدا نہیں۔ وہ تو مسلمانوں میں اپنا ایمان ظاہر
کرتے ہیں تاکہ ادھر سے دنیا کے معاملے میں جو فائدہ ہو، اس میں یہ شریک ہو سکیں۔
جیسے کہ مالِ غنیمت میں اپنا حصہ بٹانےکے لیے، اور مسلمانوں کی راز کی باتیں اڑانے
کے لیے۔
اور جب وہ مسلمانوں کی مجلس میں ہوتے ہیں تب ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور دل ہی دل میں ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں، ان کو بیوقوف جان کر دل ہی دل میں ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب اپنوں میں جاتے ہیں تو اُدھر بھی مسلمانوں پر ہنستے ہیں کہ خوب انہیں بے وقوف بنایا۔ اہل ایمان کی قربانیوں اور دین کے معاملے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کاوشیں ان کو خلاف عقل نظر آتی ہیں۔
اور جب وہ مسلمانوں کی مجلس میں ہوتے ہیں تب ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور دل ہی دل میں ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں، ان کو بیوقوف جان کر دل ہی دل میں ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب اپنوں میں جاتے ہیں تو اُدھر بھی مسلمانوں پر ہنستے ہیں کہ خوب انہیں بے وقوف بنایا۔ اہل ایمان کی قربانیوں اور دین کے معاملے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کاوشیں ان کو خلاف عقل نظر آتی ہیں۔
اور اللہ ان کی حقیقت اور انجام سے بخوبی واقف ہے اور وہ اہل ایمان کے بارے
میں مذاق کرتے ہیں اور اللہ ان سے استہزاء کرتا ہے۔یعنی کہ اللہ انہیں مسلمانوں سے
تمسخر کرنے کی سزا دے گا اور ان سے کوب بدلہ لے گا۔ اللہ انہیں ڈھیل دیتا رہتا ہے،
ان کی ان حرکات پر ان کی پکڑ نہیں کرتا ، اور وہ خودفریبی کا شکار رہتے ہیں ، اللہ
کی دی ہوئی ڈھیل کو اپنے لیے رحمت سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک راستے پر
چلے جا رہے ہیں، اور وہ اپنی سرکشی میں آگے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں، اور گمراہی کے
راستوں میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے دل اندھے ہو جاتے ہیں ، انہیں حق بات سمجھ
نہیں آتی ، وہ تو بس بے بصیرت، گمراہی میں رہنا پسندکرتے ہیں۔
اب خود حقیقت جان لیں کہ تمسخر اہل
ایمان کا ہوا یا پھر ان منافقین کے ساتھ۔
اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق
پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین
یہ آپ کے پاس ایک امانت ہے، اس کا حق ادا کیجیے۔ اسے پڑھیں، غور و فکر کیجیے،
عمل کیجیے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پینچائیے
No comments:
Post a Comment