Tuesday, 30 September 2014

سورۃ البقرہ آیات 19،20




آیت نمبر 19-20

ترجمہ: یا جیسے کہ آسمان سے تیز بارش جس میں اندھیرے ہیں، اور کڑک اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر بجلی کے کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ کافروں کا گھیرا کیے ہوۓ ہے۔(۱۹)
قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جاۓ، جب روشنی ہوتی ہے ان پر ،تو اس میں چل پڑتے ہیں، اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہے تو ان کے کان اور آنکھیں چھین لے جاۓ۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (۲۰)

صیب: "ص،و،ب": تیزی سے نیچے آنے والی بارش
رعد: کڑک، گرج
برق: چمکنے والی بجلی
یجعلون: "ج،ع،ل" : ایک حالت سے دوسری حالت میں لے جانا۔
اصابعہم : ناخن سے لے کر انگلی کی جڑ تک کا حصّہ اصباع کہلاتا ہے
اذانہم: "ا،ذ،ن": کان
الصواعق: ص،ع،ق: ہوش و حواس گم کرنے والی بجلیاں
حذر: ح،ذ،ر: خوف ذدہ کرنے والی چیز سے بچنا/ڈرنا
محیط: ح،و،ط: ایسا گھیرنا کہ کوئی باہر نہ نکل سکے
یکاد: ک،و،د: کسی کام کے قریب ہونا
یخطف: خ،ط،ف: تیزی سے اڑا لے جانا/جھپٹ لے جانا
مشوا: م،ش،ی: ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا
اظلم: ظ،ل،م: اندھیرا کرنا
قاموا: ق،و،م: کھڑے ہونا
شاءَ: ش،ء،ی: مشیت، مرضی
قدیر: ق،د،ر: بہت ذیادہ قدرت رکھنے والا/ بیسٹ پلۓنر

ایک اور مثال بیان کی گئ ہے۔ اور یہ مثال ہے عملی منافقت کرنے والوں کی، جو دین کے احکامات میں متذبذب ہوتے ہیں۔ مانتے بھی ہیں، مگر عمل کرنے میں کوہتائی کرتے ہیں۔
جب حضور اکرم مدینہ تشریف لاۓ تو اس کے بعد دین کے احکامات ایک کے بعد ایک نازل ہونے لگے۔ اور جب بھی کوئی نیا حکم پتا چلتا ہے تو میں اس پہ عمل کرنے سے ڈر لگتا ہے کہ یہ مشکل ہے ہم نہیں کر پائیں گے۔ تو بارش سے مراد اسلامی تعلیمات ہیں، اور اندھیروں کے مراد انسان کا ڈر و خوف جو کہ کوئی بھی نئ بات ماننے میں اس کے آڑے آتا ہے۔ مگر بارش کے لیے گہرے بادل ضروری ہوتے ہیں اور پھر اندھیرا بھی چھاتا ہے۔ احکامات ذیادہ آئیں گے تو مشکل تو ہو گی، کڑک کے مراد ہے، قرآن کی وعید والی آیات ، جس میں نہ ماننے والوں کے لیے ڈراوہ ہے، اور نہ ماننے کی صورت میں برے انجام سے باخبر کیا گیا ہے۔
برق-بجلی کا چمکنا امید کی کرن ہوتی ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے۔ یہاں بجلی سے مراد حاصل ہونے والی کامیابیاں ہیں، ماننے والوں کے لیے خوشخبریاں ہیں، دین اور آخرت میں ملنے والی کامیابیاں ہیں۔
اب جو مومن ہوتےہیں وہ تو سمعنا و اطعنا پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ اور جن کے دل میں نفاق ہوتا ہے ، وہ ان احکامات کو سننے کی بجاۓ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔ اس آیت میں انگلیوں کے لۓ جو لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ ناخن سے لے انگلی کی جڑ  تک کا حصہ یعنی پوری انگلی اس طرح کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، کہ کانوں کو سیل کر لیتے ہیں، کہ کوئی بات ہمارے کانوں میں نہ پڑے۔ دین کے احکام انہیں اس قدر مشکل لگتے ہیں کہ ان کے ہوش و حواس گم ہو جاتے ہیں۔  دوسری بات جو یہاں لی جا سکتی ہے کہ ایسی آیات جن میں ان منافقیں کا حال بیان کیا گیا ہے، اور انہیں ایکسپوز کیا جاتا ہے، وہ ان کے لیے ہوش و حواس گم کرنے والی بجلیاں ہیں، دین کے احکامات، ڈراوہ، ان کی اصلیت، والی آیات جب سامنے آتی ہیں تو یہ اپنے کان بند لیتے ہیں کہ سننا ہی نہ پڑے، اگر پتا چل گیا تو پھر عمل کرنا پڑے گا، اس سے بہتر ہے کہ سنو ہی نہ۔
جیسا کہ آج کل ہم لوگوں کا حال ہے، دین کی بات نہیں سنتے، دین کی محفلوں میں نہیں جاتے، کہ جی پتا چل گیا تو پھر عمل نہ کرنے سے ذیادہ گناہ ہو گا، اس سے اچھا ہے نہ ہی پتا ہو، استغفراللہ، کتنا بدترین رویہ ہم نے اپنایا ہوا ہے، منافقین کا طرزِ عمل۔
جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند لیتا ہے اورسمجھتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا ، اسی طرح منافقین بھی کان بند لیتے ہیں۔ جیسے کہ مثال کے طور پرجب جہاد کے بلایا جاتا ہے، تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں، دین کے مشکل احکامات میں انہیں عمل کرنے سے ان کی جان جاتی ہے، یہ دور بھاگتے ہیں کہ ہم نے تو سنا ہی نہیں، ہمیں تو پتا ہی نہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ اللہ ہر انکار کرنے والے کو گھیر کر رکھے ہوۓ ہے، کوئی اس کی گرفت سے نہیں نکل سکتا۔
پھر منافقین کا ایک اور طرزِ عمل کہ جب دین کے احکامات ان کو آسان نظر آتے ہیں تو وہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ اور جب مشکل نظر آتی ہے تو ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں، وہیں رک جاتے ہیں، عمل نہیں کرتے۔  جیسے کہ قربانی کی بات آ جاۓ ، تو بس رک گۓ۔
یہاں بات ہے عملی منافقت کی، دین کو پورے کا پورا نہ لینا، اپنی مرضی کے مطابق سلیکٹ کرنا۔ جو چاہا لے لیا، جو مشکل لگا اسے چھوڑ دیا۔ آج کل مسلمانوں کا نہایت عام سا رویہ۔
حدیث کے مطابق منافقت میں دو باتیں جمع نہیں ہو سکتی اچھا اخلاق اور دین کی سمجھ، منافق کو دین کی بات سمجھ کیوں نہیں آتی ۔ پارہ 5 ، سورۃ النساء، آیت نمبر 78۔ "انہیں آخر کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کےبھی قریب نہیں۔"
کیونکہ وہ کرنا نہیں چاہتے، ان کی خواہشات نے ان کے دل پر قبضہ کیا ہوا ہے، اور ان کا دل جو مسیج بھیجے گا دماغ کو، جسم پھر وہی کام کرۓگا۔ دین کی روشنی کے سامنے خواہشات کا اور انا اور تعصب کا پردہ پڑ جاتا ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی جزباتیت حق سے دور کرتی ہے، پھر انسان سوچ سمجھ اور انصاف سے کام نہیں لیتا۔ اللہ نے خواہشات اور جزبات کو ختم کر دینے کا نہیں کہا، مگر اس سب میں اعتدال کا حکم ہے۔ اور جو بھی پھر حد سے بڑھے گا تو آنکھوں پر پردہ پڑے گا۔
پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 7 ،" وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر ہو جانتے ہیں اور آخرت کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوۓ ہیں۔"
اور پھر اللہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو چھین لیتا ہے۔ 
عملی منافقت کا ذکر ہے تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کچھ کچھ عمل کرتے ہیں۔ اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ان کے پاس ابھی مہلت ہے، ان کے پاس ابھی پلٹنے کا وقت ہے۔ اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے لیتا۔ سوچنے سمجھنے کی، دیکھنے ، سننے کی صلاحتیں ضبط کر لیتا، اوراللہ پر ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ فل اٹھارٹی اسی کی ہے۔ مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا، ان کے پاس ابھی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں موجود ہیں، انہیں ابھی چانس دیا جا رہا ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اسلام سراسر فائدے کی چیز ہے، اس میں کڑک بھی ہے، بجلی بھی ہے، اندھیرا بھی ہے۔ مگر ان سب میں فائدہ ہے۔ کائنات کا یہ اصول ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ اور اگر ہم اس روشنی کے ساتھ ساتھ چلیں گے تویہ ہمارے لیے راحت اور سکون کا سبب ہو گی اور ہمیں یہ راستہ دیکھاتی جاۓ گی۔ اور اگر اس کی مخالف چلے تو آنکھیں چندیا جائیں گی۔ پھر اس روشنی سے تکلیف ہی ہو گی ، کچھ بھی نظر نہیں آۓ گا۔
(عمل کی بات: جائزہ لینا ہے کہ ہمارے اندر کوئی منافقت کی بات تو نہیں؟؟
ایک ایک کر کے منافقت کی راہیں چھوڑنی ہیں ، اور ایک ایک کر کے مشکل لگے یا آسان دین کا حکم قبول کرنا ہے۔ )

سورۃ البقرہ آیات 17،18




آیت نمبر 17-18

ترجمہ: ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے جلائی آگ، پس جب روشن ہو گیا ماحول اس کا، اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، نہیں وہ دیکھ سکتے (۱۷)
بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ پس وہ نہیں لوٹنے والے (۱۸)

استوقدا: و، ق،د : روشنی حاصل کرنے کے لیے آگ جلانا۔
اضآءت: ض، و، ء : ضؤ : ایسی روشنی جس میں حرارت اور تپش ہو۔
ظلمت: ظ، ل، م: روشنی کا نہ ہونا۔
ذھب: ذ، ھ، ب: لے جانا/گیا/ سونا(گولڈ)
یرجعون: ر، ج، ع: رجوع کرنا/ پلٹ آنا/ لوٹ آنا

اللہ تعالٰی نے یہ کتاب بھیجی ہدایت کے لیے۔ اور ساتھ میں ہدایت پانے کی شرائط بھی بتا دیں۔ اور ہدایت کی راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات ہیں، ان سے بھی آگاہ کر دیا، یعنی کفر، ہٹ دھرمی، منافقت، خراب رویہ وغیرہ۔ جیسا کہ پہلے بھی بتا دیا گیا ہے کہ منافقت کفر سے بھی ذیادہ سخت ہے، اس لیے قرآن پاک میں منافقین کا حال سب سے ذیادہ کھولا گیا ہے۔ اب ان آیات میں بھی منافقین کے رویے کو مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔
اب مثالیں اس لیے دی گئ ہیں کیونکہ مثالیں بات کو سمجھنے میں آسان کر دیتی ہیں ، مگر پھر بھی ان مثالوں کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں، جو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جب اہل علم کو قرآن میں کوئی بات یا مثال سمجھ میں نہ آتی تو وہ رویا کرتے تھے بہت، اور اللہ سے کثرت سے دعا کرتے تھے قرآن کو سمجھنے میں، اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے، جب تک انہیں وہ سمجھ نہیں آ جاتی۔
اب اس مثال میں اعتقادی منافقت بیان کی گئ ہے، یعنی وہ لوگ جو دل سے پکے کافر ہیں ، مگر صرف زبان سے اقرار کرتے ہیں، دنیاوی فائدوں کے حصول کے لیے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم مدینے آۓ تو کچھ لوگ مسلمان ہو گۓ اور کچھ دن بعد پھر ان کے دل پھر گۓ۔
ان کے دل کا نور چلا گیا، مگر پھر بھی وہ خود کو مسلمان کہتے رہے۔

پہلے اندھیرا تھا ماحول میں، جہالت کا اندھیرا۔
پھر حق کی آمد سے ان کا ماحول روشن ہو گیا، حق و باطل ان پر واضح ہو گیا۔  پھر ایک دوسرے اندھیرے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور وہ اندھیرا ان کے دلوں میں تھا، ان کے دلوں کا نور چلا گیا۔ وہ جہالت، شرک، کفر اور منافقت کے اندھیروں میں ہی رہ گۓ۔ اب سورج تو نکلا ہے مگر جو جس کی آنکھ میں ہی روشنی نہیں اسے سورج کی روشنی کہاں نظر آۓ گی۔
اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نور لے گیا تو انسان کیا کرۓ، تو بات یہ ہے کہ اللہ ایسے ہی نور نہیں لے جاتا۔ انسان کے اندر کا نور انسان کے گناہوں اور ٹیڑھے پن کی وجہ سے جاتا ہے، اس کی دنیاوی مفادات کی چاہت، تعصب، اپنی ذات اور انا پرستی کی وجہ سے انسان کے دل میں انھیرا ہو جاتا ہے۔ پھر اسے آس پاس کا روشن ماحول بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ حق کی نشانیاں اور دلائل ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں کرتے۔
پارہ 28، سورۃ الصّف ، آیت 5
ترجمہ: پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ نافرمان قوم  کو ہدایت نہیں دیتا۔
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 17
ترجمہ" اور رہے ثمود تو ہم نے ان کو بھی ہدایت دی، پس انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی"
دین کی روشنی میں تپش بھی ہوتی ہے۔ اور سب سے پہلا مطالبہ اپنی انا کو ختم کرنا ہے۔ انا کو مار کر ہی انسان اللہ کی غلامی میں آ سکتا ہے۔ سب کچھ جب اللہ نے دیا تو پھر اکڑنا کس بات کا۔ جب انسان دین کے احکامات پر اپنی پسند ناپسند، خاندانی ، قبائلی رسم و رواج، ذاتی مفادات اور خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا دل بجھ جاتا ہے۔ ان کے دل اندھے ہو جاتے ہیں۔ پھر بایر تو خیر و بھلائی کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہوتی ہے مگر ان کو نظر نہیں آتی۔
ان کو بہرے، گونگے اور اندھے کہا گیا ہے۔ وہ حق سننا نہیں چاہتے ، سب بھی لیں تو اس کے بارے میں بات نہیں کرتے، انہیں حق نظر نہیں آتا۔ ان کا نور بجھ چکا ہے ، ان کی ہدایت کا اب کوئی امکان نہیں، جو ایک دفعہ دیکھ لے، سن لے، سمجھ لے، اور پھر انکار کر دے، پھر نہ مانے ، اس سے اس کی انا ، تعصب میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ اور ان کی طرف سے مایوسی ہے، اب وہ ہدایت کی طرف واپس نہیں آ سکتے۔ کیونکہ واپس تو وہی آتا ہے جو آنا چاہتا ہو۔

Monday, 29 September 2014

سورۃ البقرہ آیت 16




آیت نمبر 16

ترجمہ: "یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے، سو منافع مند نہ ہوئی تجارت ان کی
، اور نہیں ہیں وہ ہدایت پانے والے۔"

اشتروا: ش، ر، ی: خریدنا اور بیچنا

ربحت: ر، ب، ح: فائدہ، نفع
منافقین کے طرزِ عمل اور ان کی سرکشی کے بارے میں ہم نے پچھلی آیات میں پڑھا۔ اب اس آیت میں ان کے طرزِ عمل کی حقیقت بیان کی گئ ہے۔ کہ باوجود اس کے کہ ان کے پاس ہدایت آگئ ہے، ان پہ حق اور باطل واضح ہو گیا ہے، انہوں نے اپنے لیے گمراہی کا راستہ ہی پسند کیا، ان نے اس حق کو قبول نہیں کیا، ہدایت کا راستہ نہیں تھاما۔ اور صرف زبان سے کہا کہ ہم ایمان لے آۓ۔ ایسا انہوں نے کیوں کہا؟؟ کیوں کہ وہ مسلمانوں کو حاصل ہونے والے فوائد بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر قبولِ حق کی راہ میں رکاوٹ بنی ان کی انا اور نفسانی خواہشات۔ وہ دونوں کشتیوں کے سوار ہیں، وہ دونوں طرف سے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اللہ تعالٰی ان کے اس عمل کو غیر منافع بخش قرار دیتا ہے۔ کہ ان کا یہ عمل کسی طور انہیں فائدہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے ہدایت پانے کے بدلے جو گمراہی کا راستہ چنا ہے، انہوں نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اگر وہ سچے دل سے ایمان لے آتے تو دونوں جہاں میں سرخرو ہوتے۔ مگر انہوں نے دل میں کفر کو سجاۓ رکھا، جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں خوار ہوۓ، دنیا میں ان کی دوغلی شخصیت کی وجہ سے ان کا پردہ فاش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں دنیا میں ذلت اور رسوائی ملتی ہے۔ اور اگر دنیا میں کچھ تھوڑا سا وقتی فائدہ پا بھی لیں، تو آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی انہیں اس درجہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ انہیں جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں پھینکا جاۓ گا۔
وہ زبانی ایمان کو کافی اور نا فع سمجھتے ہوۓ اس خرابی اور رسوئی میں گرفتار ہوۓ۔
اور ان کے انہیں سودے کے بدولت ہدایت کی دولت سے محروم ہونا پڑا، اور انہیں ہدایت مل بھی نہیں سکتی کیونکہ ہدایت اسے ملتی ہے، جو ہدایت کا طلبگار ہوتا ہے، اور جس کے دل میں تقوٰی ہوتا ہے۔
ان کے پاس تو ہدایت آ گئ، اس کے بعد ان کے دلوں نے اس کا انکار کیا، پھر ایسے دلوں میں ہدایت آ ہی نہیں سکتی۔

سورۃ البقرہ آیات 14،15




آیت نمبر 14-15
ترجمہ: "اور جب ملتے ہیں اہلِ ایمان سے، کہتے ہیں ہم ایمان لاۓ، اور جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں، کہتے ہیں بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ بلکہ ہم تو استہزاء کرنے والے ہیں (مسلمانوں سے)" ۱۴
"اللہ استہزاء کرتا ہے ان کے ساتھ، اور ڈھیل دیتا ہے انہیں، اپنی سرکشی میں وہ بھٹک رہے ہیں"۱۵

شیٰطینھم: ش، ط،ن: اللہ کی رحمت سے دور، مراد ہے کفار اور منافقین کے سردار، ان کے لیڈرز
مستھزءون: ھ، ز، ء: کسی کو بیوقوف سمجھ کر اندر ہی اندر ان کا مذاق اڑانا۔
یمد: م،د،د: لمبائی میں کھینچنا/ ڈھیل دینا

طغیانھم: ط، غ،ی: حد سے بڑھنا

یعمھون: ع، م، ھ: حیرانی کے ساتھ گمراہی میں بھٹکنا۔ دل کا اندھا پن

پچھلی آیات میں ہم نے منافقین کا طرزِ عمل پڑھا ۔ وہ زبانی کلامی ایمان کا دعویٰ کر کے اللہ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ جھوٹ انکی خصلت ہے، زمین میں اصلاح کے نام پر فساد کرتے ہیں۔
اب ان کی ایک اور بد خصلت سامنے آئی ہے۔ اور وہ ہے اہل ایمان کا مذاق اڑانا ۔
جب اہل ایمان کی مجلس میں ہوتے ہیں تو ان کی طرح بن جاتے ہیں۔ ان جیسا حلیہ ، ان جیسی باتیں، ان کی ہاں میں ہاں ملانا، ان کی تعریف کرنا ۔ غرض ان کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس کے دل میں جو یہ کہہ رہا ہے، اس کا انکار ہو گا۔
ان کا حال بلکل ان لوگوں جیسا ہے، جن نے بارے میں حدیث میں ارشاد ہوتا ہے ،" کسی کے متعلق کہا جاۓ گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔" (صحیح بخاری، کتاب الفتن-۷۰۸۶)
اور جب جو ایمان والوں کی مجلس سے اٹھ کر اپنے جیسوں کے پاس جاتے ہیں، یعنی کہ کافروں کے پاس یا پھر منافقین کے پاس، اپنے سرداروں کے پاس، تو کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ صرف مذاق کرتے ہیں۔ دین کے معاملے میں تو ہم تمہارے ہم خیال ہیں۔ اعتقاد کے معاملے میں تو ہم تم سے جدا نہیں۔ وہ تو مسلمانوں میں اپنا ایمان ظاہر کرتے ہیں تاکہ ادھر سے دنیا کے معاملے میں جو فائدہ ہو، اس میں یہ شریک ہو سکیں۔ جیسے کہ مالِ غنیمت میں اپنا حصہ بٹانےکے لیے، اور مسلمانوں کی راز کی باتیں اڑانے کے لیے۔
اور جب وہ مسلمانوں کی مجلس میں ہوتے ہیں تب ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور دل ہی دل میں ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں، ان کو بیوقوف جان کر دل ہی دل میں ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب اپنوں میں جاتے ہیں تو اُدھر بھی مسلمانوں پر ہنستے ہیں کہ خوب انہیں بے وقوف بنایا۔  اہل ایمان کی قربانیوں اور دین کے معاملے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کاوشیں ان کو خلاف عقل نظر آتی ہیں۔
اور اللہ ان کی حقیقت اور انجام سے بخوبی واقف ہے اور وہ اہل ایمان کے بارے میں مذاق کرتے ہیں اور اللہ ان سے استہزاء کرتا ہے۔یعنی کہ اللہ انہیں مسلمانوں سے تمسخر کرنے کی سزا دے گا اور ان سے کوب بدلہ لے گا۔ اللہ انہیں ڈھیل دیتا رہتا ہے، ان کی ان حرکات پر ان کی پکڑ نہیں کرتا ، اور وہ خودفریبی کا شکار رہتے ہیں ، اللہ کی دی ہوئی ڈھیل کو اپنے لیے رحمت سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک راستے پر چلے جا رہے ہیں، اور وہ اپنی سرکشی میں آگے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں، اور گمراہی کے راستوں میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے دل اندھے ہو جاتے ہیں ، انہیں حق بات سمجھ نہیں آتی ، وہ تو بس بے بصیرت، گمراہی میں رہنا پسندکرتے ہیں۔
 اب خود حقیقت جان لیں کہ تمسخر اہل ایمان کا ہوا یا پھر ان  منافقین کے ساتھ۔
اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین

یہ آپ کے پاس ایک امانت ہے، اس کا حق ادا کیجیے۔ اسے پڑھیں، غور و فکر کیجیے، عمل کیجیے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پینچائیے