Sunday, 28 September 2014

سورۃ البقرہ آیت 13




آیت نمبر 13
السفھا: س، ف،ھ : کسی جسم کے ہلکا ہونا ، کسی چیز کا اہمیت کے لحاظ سے ہلکا ہونا، کم عقل ہوتا،

جیسا کہ پچھلی آیات میں منافقین کے طرز عمل میں بتایا گیا ہے، کہ وہ بس زبانی کلامی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے دل ایمان سے بلکل خالی ہوتے ہیں۔ ان ان آیات میں منافقین کو سچا ایمان لانے کو کہا جا رہا ہے۔
انہیں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح ایمان لے آؤ جیسا کہ صحابہ اکرامؓ ایمان لے کر آۓ ہیں۔ اب دیکھیں اس آیت(۱۳) میں  صحابہ اکرامؓ کی طرف اشارہ ہے، ان کے ایمان کو ایک معیار قرار دیا گیا ہے۔ ایمان لانا ہے تو ویسا لاؤ جیسا صحابہ اکرام ؓ ایمان لاۓ، جیسا اسلام انہوں نے قبول کیا، جیسا طرز عمل انہوں کے اپنایا، جس طرح انہوں نے اللہ اور اسکے رسول
کی اطاعت کی، نبی اکرم کے راستے کو جیسا انہوں نے اپنایا اور اس پر جم گۓ اور ایمان کے تقاضے جیسے انہوں نے پورے کیے، ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ، یہ زبانی کلامی ایمان لانا، قابل قبول نہیں۔
لیکن جو منافقین ہیں، وہ کیا کہتے ہیں جواب میں؟ کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح وہ بیوقوف ایمان لاۓ ہیں، اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ منافق کی ایک اور خصوصیت سامنے آ گئ۔ اہل ایمان کا مذاق اڑانا، دین کے لیے رشتے ناتے، گھر بار، وطن چھوڑ دینا، آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا، اللہ اور اسکے رسول کے ہر حکم پر بلا چوں چرا عمل پیرا ہونا، اپنے دین کے لیے، مال دولت، اولاد، جان، کی قربانی دینا، یہ سب منافقین کے نزدیک سراسر بیوقوفی ہے۔ جیسا کہ منافقین دنیا ، آخرت کا فائدہ چاہتےہیں، دونوں کشتوں میں سوار ہونا چاہتے ہیں، اس لیے جب ایمان کا امتحان آتا ہے، کوئی قربانی کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا کی ظاہری چمک دمک کو بہت عزیز رکھتے ہیں، وہ کسی بھی طرح اپنی دنیا کا نقصان نہیں چاہتے،   اور بےدریغ قربانی دیتے والے ان کے نزدیک بیوقوف ہیں۔ انہیں اہل ایمان کی قربانیاں خلافِ عقل نظر آتی ہیں۔ حالانکہ یہ بیوقوفی نہیں ، عین عقل مندی اور سعادت ہے ۔ صحابہ اکرامؓ نے اسی سعادت مندی کا ثبوت دیا ، اس لیے وہ مومن ہی نہیں، بلکہ ایمان کے لیے ایک معیار اور کسوٹی ہیں۔ اب ایمان انہی کا معتبر ہو گا جو صحابہ اکرامؓ ہی کی طرح ایمان لاۓ گا۔ سورۃ البقرہ آیت نمبر ۱۳۷ " اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں"
پھر خبردار کیا جا رہا ہے، کہ ان کی باتوں پر مت جانا، حقیقتاً منافقین خود بیوقوف ہیں، وہ خود سمجھ نہیں رکھتے کہ چند دنوں کے عارضی فائدے کے لیے انہوں کے اپنی آخرت بیچ دی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی فوری فائدے کے لیے دیر سے ملنے والے فائدے کو نظر انداز کرنا، آخرت کی پائیدار اور دائمی زندگی پر دنیا کی فانی زندگی کو ترجیح دینا اور اللہ کی بجاۓ لوگوں سے ڈرنا پرلے درجے کی بیوقوفی ہے جس کا ارتکاب منافقین کرتے ہیں۔  حقیقت میں وہ خود نادان اور بیوقوف ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ عمل کتنا لا یعنی فضول اوربے بنیاد ہے۔

سورۃ البقرہ آیات 10-12




آیات 10، 11، 12

ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری تھی، اللہ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کے وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۰)
اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کروتو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں (۱۱)
خبردار ہو! یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں، لیکن شعور نہیں رکھتے (۱۲)

فزادھم: کسی چیز کا ضرورت سے ذیادہ ہو جانا ، ھم: ان کے لیے
الیم: بہت ذیادہ اور مسلسل تکلیف دینے والا درد
یکذبون: :ک،ذ، ب: جھوٹ
انما: اصل بات تو یہ ہے

مصلحون: ص، ل، ح: اصلاح، دوستی، بگاڑ ختم کرنا

اَلَآ: خبردار/ تنبیہی انداز

اب اس میں اس تیسرے گروہ کے طرزِ عمل کی مزید وضاحت کی گئ ہے۔ کہ ان کے دل میں بیماری ہے منافقت کی، ایمان ان کے دل میں ٹھہرتا نہیں۔ اس وجہ سے وہ حق نہیں پا سکتے۔ وہ ظاہری چیزوں سے دل بہلاتے ہیں۔ دونوں طرف کا فائدہ سمیٹنا چاہتے ہیں۔ دنیا بھی چاہیے ان کو ، اور اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہوۓ وہ فائدے بھی سمیٹنا چاہتے ہیں۔  جو یہ کہتے ہیں ، اندر سے یہ اس سے خالی ہوتے ہیں۔ خالی دعوٰی کرتے ہیں، جھوٹ ان کی سب سے اولین صفت ہے، ان کی باتیں، ایمان، عمل سب جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ کہتے کچھ ہیں، کرتے کچھ اور، اور ان کی اسی جھوٹ کی وجہ سے ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ایسا عذاب جو مسلسل رہے گا، اور ذیادہ سے ذیادہ ہوتا جاۓ گا۔ یہاں منافقین کے نہایت برے انجام کا بتا دیا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق: منافق آگ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔
اب جو بھی عمل جس کی بنیاد جھوٹ پر ہو، وہ ہمیشہ فساد اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ جھوٹ کہتے ہیں خلافِ فطرت/خلافِ حقیقت بات۔ اور فطرت اور حقیقت کے متضاد جو بھی بات یا عمل ہو گا ، وہ بگاڑ کا سبب ہی بنے گا۔
اسی لیے سب سے پہلے چیز جس کا ذکر ہے ، جس سے منافقین کو باز آنے کا کہا جاتا ہے، اورجو ان کی پہچان ہے، وہ ہے فساد۔ فساد اصلاح کی ضد ہے۔ کفر و معصیت چونکہ خلافِ فطرت ہے، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اور اطاعت الہٰی سے امن و سکان ملتا ہے۔ ہر دور میں منافقین کا یہ وطیرہ رہا ہے، پھیلاتے وہ فسادہیں، اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں، حدود اللہ کو پامال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور دعوٰی کرتےہیں کہ وہ اصلاح و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔
انہیں اس چیز سے منع کیا گیا ہے، مگر وہ اس کو ماننے سے انکاری ہیں، یہاں پھر ان کا تضاد کھل کر سامنے آ گیا ، کہ وہ فسادکو اصلاح کا نام دیتے ہیں۔ ۔
یہاں سب کو خبردار کیا جا رہا ہے، کہ خوب جان لو کہ یہ حدود اللہ پامال کر کے جو اصلاح کا ڈنھڈورا پیٹتے ہیں، یہ درحقیقت فساد ہی ہے، ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اصل میں وہ خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں، ان کے اور حق بات سے درمیان پردہ ہے، وہ حقیقت سمجھتے ہی نہیں، اور اپنے فساد کو اصلاح کا نام دے کر اپنے دل کو سکون دیتے رہتے ہیں۔ اور اپنے عمل کی جڑ کا انہیں خود نہیں پتا۔

 آج کا آپ سب کے لیے سوال ہے؟ ان آیات میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
صرف اپنی اپنی راۓ کا اظہار کیجیے ۔

Saturday, 27 September 2014

سورۃ البقرہ آیت نمبر 8، 9




آیت نمبر 8- 9

ترجمہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ایمان والے نہیں ہیں (۸)
وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں ، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں (۹)

الناس: "ن، و، س"(مانوس ہونا) ـ ـ "ن،س،ی" (بھولنا)

یخدعون: "خ،د، ع: حقیقت کو چپھا کر دوسرے کو اندھیرے میں رکھنا، دوسروں کو کچھ اور دکھا کر اپنا مطلب نکالنا، دھوکہ دینا۔

انفسھم:  :ن،ف،س: روح، زندگی، ذات

یشعرون: ش ، ع، ر: بال، باریک سمجھ ، معاملے کی طے تک پہنچنا، حقیقت معلوم کر لینا۔
آیت نمبر ۲ سے ۵ میں مومنین کی صفات بیان کی گئ ہیں اور ان کے خوشگوار منزل کے بارے میں بتایا گیا۔
آیت نمبر ۶  اور ۷ میں کفر کرنے والوں کے رویے اور برے انجام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اب آیت نمبر ۸ سے ۲۰ تک تیسرے گروہ کے بارے میں ہم پڑھیں گے، جو کہ منافقین کا گروہ ہے۔
منافقت ، کفر سے ذیادہ بڑی اور خطرناک بیماری ہے، اس لیے اس کے بارے میں ذیادہ گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔
منافقت یا منافقت کا روٹ ورڈ نفق ہے، جس کے معنی دونوں سروں سے کھلی ہوئی سرنگ ہے۔ جس طرح سرنگ کے اندر جو چیز ایک سرے سے داخل ہوتی ہے ، وہ دوسرے سرے سے نکل جاتی ہے،  اس طرح ایمان اور حق بات بھی منافق کے اندر، اس کے دل میں نہیں ٹھہرتی۔ وہ ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔
منافقین ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ منافقین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاۓ ہیں، ہم اللہ،  رسول، اور کتاب اللہ کو مانتے ہیں، مگر ان کا یہ ایمان لانا قابل قبول نہیں، اللہ ان کا ایمان قبول نہیں کرتا، کیونکہ ان کی زبان جو کہہ رہی ہوتی ہے، اسی وقت ان کا دل اسی بات سے انکار کر رہا ہوتا ہے۔
ان کا یہ ایمان لانا بس زبانی ہی ہے، وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
جو کچھ ان کے دل میں ہے وہ ظاہر نہیں کرتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، وہ حقیقت نہیں۔ ان کے دل اور زبان کے اسی فرق کا نام دھوکہ ہے۔ مگر حقیقت میں یہ ان کی سوچ ہی ہے کہ وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دےرہے ہیں۔ ان کو خود اپنے عمل کی حقیقت کا پتا نہیں، وہ دراصل خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اللہ تو سب کے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ اللہ کو تو پتا ہے کہ یہ اپنے دل میں انکار سجا کر بیٹھے ہیں، اور زبانی کلامی ایمان کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو بھی ان کے مکر و فریب سے بچا لیتا ہے۔ ان کے دوغلے پن کی وجہ سے اکثر ان کے پول کھل جاتے ہیں۔
ان کی اس ساری فریب کاریوں کا نقصان خود انہیں کو ہوتا ہے، دنیا میں رسوائی اور ذلت ان کا مقدر بنتی ہے اور آخرت میں بھی بدترین انجام ان کا ہے۔ مگر وہ اس حقیقت سے لاعلم ہی رہتے ہیں۔ وہ بس اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکے میں ڈالے رکھیں۔
جو شحص کسی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے، بدقسمتی سے وہ خود اپنے معاملے کی حقیقت سے انجان رہتا ہے، اسے اپنی غلطی کا کبھی پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ اپنے آپ سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اور جسے اپنی حقیقت کا نہ پتا ہو، وہ اللہ کو کیسے پہچانے گا۔
انسان کو سب سے پہلے اپنے خود کے ساتھ سچا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بعد وہ اللہ کے ساتھ اور اہل ایمان کے ساتھ سچا ہو سکتا ہے۔

اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین

سورۃ البقرہ آیت نمبر 7




آیت نمبر 7

خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوبِھِم وَ عَلٰی سَمعِھِم وَ عَلٰی اَبصَارِھِم غِشَاوَہ وَّلَھُم عَذَابٌ عَظِیمٌ۔

ترجمہ: مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر، اور ان کے کانوں پر، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

خَتَمَ : خ، ت، م : مہر لگانا/ سیل کر دینا/ سٹیمپ لگانا اس طرح بند کر دینا کہ باہر کی چیزیں اندر نہ جائیں اور اندر کی باہر نہ آئیں۔
غِشَاوَہ : غ،ش، ی: ایسا پردہ جس سے کچھ نہ کچھ نظر آتا ہو۔
عَذَابٌ : ع،ذ، ب: جسمانی اور ذہنی دکھ /تکلیف/ سزا ، برا بدلہ

آیت نمبر 6 میں ہم نے پڑھا کہ جو کفر اختیار کرتے ہیں، حق سے انکار کرتے ہیں، ان کو نصیحت کرنا ، نہ کرنا برابر ہے، وہ ایمان نہیں لاتے۔ اب آیت نمبر 7 اس کی وجوہات بیان کرتی ہے، کہ آخر کیوں وہ حق کے منکررہتے ہیں۔ کہ اللہ نے ان کے دلوں ، کانوں پر مہر لگا دی، آنکھوں پر پردا پڑ گیا، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے مہر لگا دی، اب پھرکوئی کیا کر سکتا ہے۔ ارے بھئ دیکھو کہ مہر کیوں لگی ہے۔ وجہ کیا ہے۔
حدیث ہے کہ ہر مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے، ماں باپ اسے یہودی، عیسائی ، یا مجوسی بناتے ہیں۔
انسان پر اس کے ماحول کا اثر ہوتا ہے۔ اس کی صحبت اس کی ترجیحات میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انسان اپنے ماحول والے خول میں خود کو بند کر لیتا ہے۔ اپنی دنیا میں مست رہتا ہے، کوئی نئی آواز قبول نہیں کرتا۔ وہ جس ماحول کا عادی ہوتا ہے، اسی کے مطابق وہ اپنے مفادات ، دلچسپیوں، رشتوں،دوستی کو ترجیح دیتا ہے۔ کوئی بھی نیا طریقہ اختیار کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ تبدیلی ہمیشہ شروع میں تکلیف دہ ہوتی ہے۔ انسان خود کو مشکل میں ڈالنا پسند نہیں کرتا، وہ کوئی ایسی چیز نہیں سننا چاہتا، کوئی ایسی چیز دیکھنا نہیں چاہتا، جو اس کے لیے تبدیلی کا راستہ کھول دے۔ اس کے کان صرف وہ سننا چاہتے ہیں، جو اسے دلچسپ لگے۔ جیسے کسی سامنے کوئی بیٹھا بات کر رہا ہو اور دور سے کسی اور کی آواز اس کانوں میں پڑے، اور وہ بات اسے دلچسپ لگے تو اسے قریب کے بجاۓ دور کی آواز سنائی دے گی۔ اس کے اعضاء صرف ان چیزوں پرمثبت رسپانس دیں گے، جن سے وہ ٹیون ہوں گے۔ خلافِ مزاج بات پر یا تو وہ برا منائیں گے، یا انہیں سنائی ہی نہیں دے گا۔ وہ اپنی مرضی کے خلاف باتوں کی طرف اپنے کان اور آنکھ بند کر لیتا ہے۔ جب کان اور آنکھ کسی چیز کو رسیو ہی نہیں کریں گے تو دل تک تو پہنچ ہی نہیں سکتا۔ جب وہ لوگ اپنے آنکھوں اور کانوں کو حق دیکھنے اور سننے کے لیے استعمال نہیں کرتے، ان کے دل حق کے ساتھ ٹیون ہی نہیں ہوتے تو پھر ان ک دل اور کانوں کو سیل کر دیا جاتا ہے۔ اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

پارہ 14، سورۃ النحل، آیات 106-108
جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرۓ، بجر اس کے جس پر جبر کیا جاۓ اور اس کا دل ایمان پر قائم ہو، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے (106)
یہ اس لیے کہ انہیں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے ذیادہ محبوب رکھا، یقیناً اللہ کافروں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ (107)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اورجن کے کانوں پر،اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی اور یہی لوگ غافل ہیں۔

شروع میں سب انسان توحید پر تھے۔ حضرت نوحؑ کے عہد میں شرک آیا۔ اور اس کے بعد کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں شرک موجود رہا۔ مگر کفر اور الحاد بہت ہی کم تھا۔ انڈسٹریل ریولوشن کے بعد کفر اور الحاد بہت تیزی سے بڑھا۔ انسان مصنوعات میں خوش ہے، مادہ پرستی میں مشغول ہے، اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں پر ان کی توجہ نہیں۔ فطرت ہر ایک کو اپنی طرف بلا رہی ہے، مگر لوگوں کے پاس فطرت کے لیے وقت ہی نہیں۔ یہ مصنوعی زندگی کا خول انسان کو اللہ کو پہچاننے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ انسان کے پاس دیکھنے، سننے ، سمجھنے کا وقت ہی نہیں ہے۔
یعنی کہ ہمیں کفر اور الحاد کی دو وجوہات معلوم ہوئی۔
1)    دنیا کو ترجیح دینا۔ دنیاوی عیش و آرام میں پڑے رہنا
2)    غفلت، لاپرواہی

اور جب ایک عرصے تک انسان اپنی دیکھنے ، سننے اور سمجھنے کی لطیف قوتوں کو صحیح استعمال نہیں کرتے، کفر اور معصیت کے مسلسل ارتکاب سے ان کے دلوں کی حق قبول کرنے کے استعداد ختم ہو جاتی ہے ، ان کے کان حق بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے، ان کی آنکھیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیں دیکھنے سے محروم ہو جاتی ہیں۔ ان کے دل حق کو قبول نہیں کرتے۔ اسی بات کو مہر لگانا کہا گیا ہے۔ نہ ان سے کفر باہر آتا ہے اور نہ حق کے لیے اندر جانے کا راستہ کھلتا ہے۔

پارہ 30، سورۃ المطففین، آیت 14 "نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے"

اب ہم دیکھتے ہیں کہ دلوں اور کانوں پر تو مہر ہے، اور آنکھوں پر پردہ، وہ بھی ایسا پردہ جس سے کچھ نہ کچھ نظر آتا ہو۔ یعنی ابھی بھی ہدایت کا ایک چانس باقی ہے، کچھ نہ کچھ راستہ کھلا ہے۔ موت آنے تک مہلت ہوتی ہے، مگر موت کا فرشتہ آ گیا تو پھر ایمان قابلِ قبول نہیں۔
اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا دم نہ اکھڑ جاۓ۔
اور پھر بھی وہ غفلت میں پڑا رہے تو ایسے لوگوں کے لیے بہت بڑے عذاب کی وعید ہے۔

اللہ ہمیں حق دیکھنے، سننے، سمجھنے، قبول کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اورہمیں حق پر جماۓ رکھے۔ آمین ثم آمین