﷽
آیت نمبر 28۔29
ترجمہ: "کس طرح تم اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے اس نے
تمہیں زندہ کیا، پھر تمہیں وہ مار ڈالے گا، پھر وہ تم کو زندہ کرۓ گا، پھر تم اسی
کی طرف لوٹاۓ جاؤ گے۔ (۲۸)
وہی ہے جس نے
تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا، پھر
ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بناۓ، اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے" (۲۹)
کیف: حرفِ
استفہام ہے، سوالیہ انداز ہے، کیسے/ کس طرح
امواتا: م، ی،
ت: مردہ
فاحیا: ح،ی،ی:
زندگی
یمیتکم: م،و،ت:
موت
جمیعا: ج،م،ع:
سارے کا سارا
استوے: س،و،ی:
سیدھا کھڑا ہونا (جب ساتھ میں الٰے آ جاۓ تو مطلب ہے توجہ کرنا)
فسوھن: س،و،ی:
ہموار کرنا/ سیدھا کرنا/ بربر کرنا/ اصل
صورت میں لے کر آنا/ کسی چیز کو اس طرح بنانا کہ اس کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا
جاۓ
علیم: ع، ل،م:
بہت ذیادہ علم والا ۔
ارشاد ہوتا ہے
کہ آخر تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو، اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، اس کی
نافرمانی کرتے ہو۔ کس طرح اس اللہ کی نہیں مانتے ہو ، جس نے تمہیں پیدا کیا ہے
حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے، یعنی پیدائش سے پہلے کی حالت کا ذکر ہے، پیدائش سے
پہلے انسان کیا ہوتا ہے، کچھ بھی تو نہیں، کہیں بھی تو نہیں، پھر اللہ اسے اس دنیا
میں لے آتا ہے، یہ زندگی اسے اللہ عطا کرتا ہے، اسے عدم سے وجود میں لے آتا ہے۔
پھر وہی اللہ ہے جو موت دیتا ہے، اس دنیا سے انسان کو لے جاتا ہے، اور پھر زندہ
کرتا ہے، اشارہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ
ہونے کا، برزخ کی زندگی، جو موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پہ غور طلب بات
یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز جوڑے میں بنائی، زندگی کے ساتھ موت۔ پہلے انسان مردہ تھا،
اللہ نے اسے زندہ کیا، ایک جوڑا مکمل ہوا، پھر انسان کو موت دیتا ہے ، اور پھر
زندہ کرتا ہے، دوسرا جوڑا مکمل ہوا۔ کہا جا رہا ہے کہ کیا اس اللہ کا انکار کرتے
ہو، اس اللہ کی حکم عدولی کرتے ہو، جس نے تمہیں نہ ہونے سے کچھ بنایا ہے۔ اور پھر
یہ کہ اسی کی طرف تم نے لوٹ کر بھی جانا ہے، اسی کی طرف پلٹنا ہے، حساب کتاب کے
لیے اسی کے سامنے پیش ہونا ہے، سارا کچا
چٹھا کھل کر سامنے آ جاۓ گا، ساری حقیقت لگ پتا جاۓ گی۔
پھر اللہ کا مزید تعارف کروایا جا رہا ہے۔ کہ وہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارےلیے زمین میں سب کچھ بنایا۔ صرف زمین بنا کر چھوڑ نہیں دیا، بلکہ اس میں انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں رکھی، پھر صرف زمین ہی نہیں بنائی اس کا جوڑا بھی بنایا یعنی کہ آسمان ، اور آسمان کس طرح بنایا، بلکل ٹھیک ٹھیک ، ہموار، کہیں کوئی شگاف، کوئی کجی نظر نہیں آتی۔ اور یہاں سے دلیل ملتی ہے کہ سات آسمان اللہ نے بناۓ ہیں۔
فسوھن کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب ہے ہموار کرنا/ برابر کرنا/ ٹھیک کرنا/ فنشنگ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے زمین اور آسمان بناۓ ، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
پھر اللہ کا مزید تعارف کروایا جا رہا ہے۔ کہ وہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارےلیے زمین میں سب کچھ بنایا۔ صرف زمین بنا کر چھوڑ نہیں دیا، بلکہ اس میں انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں رکھی، پھر صرف زمین ہی نہیں بنائی اس کا جوڑا بھی بنایا یعنی کہ آسمان ، اور آسمان کس طرح بنایا، بلکل ٹھیک ٹھیک ، ہموار، کہیں کوئی شگاف، کوئی کجی نظر نہیں آتی۔ اور یہاں سے دلیل ملتی ہے کہ سات آسمان اللہ نے بناۓ ہیں۔
فسوھن کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب ہے ہموار کرنا/ برابر کرنا/ ٹھیک کرنا/ فنشنگ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے زمین اور آسمان بناۓ ، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
پارہ ۱۷، سورۃ الانبیاء ، آیت ۳۰، " کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ
آسمان اور زمین باہم ملے ہوۓ تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر زندہ چیز کو ہم
نے پانی سے پیدا کیا۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔"
پھر اللہ نے
زمین میں تمام چیزیں بنائی انسان کی ضرورت کی، بلکہ تمام مخلوقات کی ضروریات کی،
پھر اس کے بعد آسمان کی طرف متوجہ ہوا آسمان کی فنیشنگ کے لیے، آسمان کی تزین و
آرائش کے لیے، آسمان کو ٹھیک ٹھیک بنایا، ایک نہیں سات آسمان بناۓ۔ جس طرح قرآن
پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔
پارہ 29، سورۃ الملک، آیت 3-5
پارہ 29، سورۃ الملک، آیت 3-5
جس نے سات آسمان
اوپر تلے بناۓ، رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بےضابطگی نہ دیکھے گا، دوبارہ دیکھ لے کیا
کوئی شگاف نظر آتا ہے۔(۳)
پھر دوہرا کر دو
دو بار دیکھ لے ، تیری نظر تیری طرف ذلیل تھکی ہوئی لوٹ آۓ گی (۴)
بیشک ہم نے
آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا، اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا
اور شیطانوں کے لیے ہم نے جلانے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (۵)
ان آیات میں
آسمانوں کے ٹھیک ٹھیک اور تمام ضروریات کو پورا کرتے ہوۓ ان کی تخلیق کی تفصیل
بیان کر دی گئ ہے۔
پھر زبردست
کوآرڈینیشن رکھی گئ آسمان اور زمین میں، پرفیکٹ پلینگ کی گئ، سورج چمکتا ہے تو
زمین سے پانی اٹھتا ہے، بادل بنتے ہیں، ہوئیں چلتی ہیں تو بادل حرکت کرتے ہیں، پھر
بارش برستی ہے، اور کھیتیاں اگتی ہیں۔ واٹر سائیکل پانی کو صاف شفاف کر دیتا ہے،
بارش کے پانی کو قرآن میں پاک پانی کہا گیا ہے۔
اتنا سب کچھ جو
ہمارے لیے کرۓ، ہم اسی کا انکار کریں، اس کی حکم عدولی کریں، ہے نا انتہا درجے کی
خود غرضی۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ وہ اللہ سب جانتا ہے، وہ بہت ذیادہ علم رکھنے والا
ہے، علیم میں فعیل کے صیغے پر ہے، اس میں ہمیشگی پائی جاتی ہے، اور ساتھ مبالغے کا
صیغہ بھی ہے، یعنی بہت ذیادہ، جس کی کوئی حد نہیں۔ وہ سب جانتا ہے،آسمانوں میں کیا
ہے، زمین میں کیا ہے، خشکی پہ کیا ہے، سمندروں کی تہہ میں کیا ہے، زمین کے کون سے حصے پر، کون سے درخت کا کون سا
پتا گرا ہے، وہ ہی ہے جو یہ جان سکتا ہے
پارہ 29، سورۃ
الملک ، آیت 14
"کیا وہی
نہ جانے گا جس نے پیدا کیا؟ "
اب اللہ کے
احسانات کے بعد ، اس بات کا ذکر کہ وہ سب جانتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ جب اللہ سب
جانتا ہے تو پھر دھوکہ کوئی نہیں دے سکتا، کوئی اس کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا ،
کیونکہ وہ تو سب جانتا ہے، جو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے ، وہ در حقیقت خود کو
دھوکہ دیتا ہے۔
اللہ نے انسان
کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے اتنی بڑی کائنات بنائی، اس کائنات کو انسان کے تصرف
میں دے دیا، اور پھر انسان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو انسان پھر کیا سوچ کر
اللہ کا انکار کرتا ہے، اللہ کے احکامات کے خلاف جاتا ہے، اللہ کو تو سب علم ہے،
کون کیا ہے، کون کیا کرتا، کس کے دل میں کیا ہے، کس کی نیت کیا ہے،کیونکہ سب اللہ
کا ہی تو بنایا ہوا ہے، اللہ کے ساتھ تو کوئی دھوکہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہ بات
اگر انسان جان جاۓ تو تمام معاملات خود بخود درست ہو جائیں گے۔
جو اللہ سے مخلص
ہو گیا، وہ خود سے مخلص ہو گیا، اور اس کے تمام معاملات اللہ اپنے ہاتھ میں لے
لیتا ہے، اور جس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہو گیا، اس کی تو دین دنیا سنور جاتی ہے۔
اور ہم سب سے
ذیادہ بھولتے ہی اسی بات کو ہیں کہ اللہ کو سب پتا ہے، ہم اس سے کچھ نہیں چھپا
سکتے۔ ہم اس سچائی کو بھول جاتے ہیں، نتیجتاً غلطی پر غلطی، گناہ پر گناہ ، اور پر
تاویلیں اور بہانے۔
سوچنے کی بات:
انسان کی عقل اللہ کے علم کے سامنے بےبس ہے۔
قرآن
کی مثالوں پر غور و فکر کرنے سے سوچ کے نۓ زاویے کھلتے ہیں
No comments:
Post a Comment