﷽
آیت نمبر 21 – 22
ترجمہ: "اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، جس نے تمھیں اور تم سے پہلے کے
لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم بچ سکو" (۲۱)
جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار
کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، پس تم اللہ کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ بناؤ
اور تم جانتے ہو۔ (۲۲)
خلقکم: خ، ل، ق: عدم سے وجود میں لانا، ایک سے دوسری چیز بنانا۔
تتقون : و، ق،ی: بچنا
جعل: ج،ع،ل: ایک حالت سے دوسری میں لانا/ بنانا
فراشا: ف، ر،ش: کسی چیز کو پھیلانا/ بچھانا/ ہموار کرنا
بناءً : ب، ن، ی: تعمیر شدہ عمارت/ عمارت کا کوئی حصہ/ جب ساتھ میں فرش آ جاۓ
تو اس سے مراد چھت ہوتی ہے
ماءً: بارش کا پانی
فاخرج: خ،ر،ج: نکالنا
الثمرات: ث، م،ر: کسی بھی چیز کا پھل/ کھانے کی چیز
اندادا: ن،د،د: شریک، برابر،مد مقابل
ہدایت اور ضلالت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کے تذکرے کے بعد اللہ کی
واحدنیت اور اس کی عبادت کی دعوت تمام انسانوں کو دی جا رہی ہے۔
تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے، کوئی کہیں سے بھی تعلق رکھتا ہو، کوئی بھی
قبیلہ، علاقہ، رنگ و نسل، صنف، زبان سب سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کو خطاب کیا
گیا ہے، کہ اے لوگو! عبادت کرو ، عاجزی سے جھک جاؤ ، محبت سے ، ڈر سے ، اپنے رب کے
سامنے، اسی کی بڑائی تسلیم کرو، اسے اپنا سب کچھ مان لو۔
رب کسے کہتے ہیں۔ ہم نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت میں پڑھا تھا۔ رب کہتے ہیں
خالق ، مالک مدبر کو۔
اب آگے رب کا تعارف کروایا گیا ہے، وہ رب جس نے پیدا کیا تمہیں اور تم سے پہلے
لوگوں کو، یعنی تمام انسانوں کا خالق وہی ہے۔
پارہ 29، سورۃ الدھر آیت 28
ترجمہ: ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم
نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے ، اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو لے آئیں۔"
اسی کی عبادت کرو۔ عبادت کیوں کرنی ہے، بچنے کے لیے، کس سے؟؟؟ اللہ کے غصّے
اور ناراضگی سے ، گناہوں سے ، جہنم سے، عذاب سے۔
کہا گیا ہے کہ عبادت کرو اپنے رب کی، اپنا رب، کس قدر اپنائیت اور محبت سے بھرپور احساس ہے۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنا ہے، اس ہستی سے جس نے ہمیں پیدا کیا ، ہماری پرورش کی، ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی، ہماری ہدایت کا انتظام کیا۔ اس رب سے تعلق رکھنا ہے، محبت کا عاجزی کا ، بندگی کا۔ فائدہ ہمارا ہی ہے، اس کے آگے عاجزی اختیار کر کے ہم بچ سکتے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ عبادت کرو اپنے رب کی، اپنا رب، کس قدر اپنائیت اور محبت سے بھرپور احساس ہے۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنا ہے، اس ہستی سے جس نے ہمیں پیدا کیا ، ہماری پرورش کی، ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی، ہماری ہدایت کا انتظام کیا۔ اس رب سے تعلق رکھنا ہے، محبت کا عاجزی کا ، بندگی کا۔ فائدہ ہمارا ہی ہے، اس کے آگے عاجزی اختیار کر کے ہم بچ سکتے ہیں۔
آگے مزید تعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس نے صرف ہمیں پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا۔
بلکہ اس زمین کو ہمارے لیے مسخر کر دیا۔ زمین کو ہمارے لیے بچھونا بنایا۔ بستر
راحت بھی دیتا ہے اور خوش کن تصور بھی۔ بستر کا خیال آتے ہی انسان کی رگوں میں
سکون پھیل جاتا ہے۔ دستر خوان کا تصور بھی اسی میں آ جاتا ہے۔ ہماری ضرورت کی ہر
چیز اس زمین میں رکھ دی گئ۔ زمین کے اندر کا حال تو ہم سب کو معلوم ہے، کیا ہے
اندر؟؟ آگ بھری ہوئی ہے۔ مگر اللہ نے ہمارے لیے اس کو پرسکون جگہ بنا دیا۔
اب ذرا سوچیں کہ زمین کے مگر اوپر آسمان نہیں، صرف خلا ہے، کیا خیال آتا ہے دل
میں اس تصور سے، انتہائی غیر محفوظ احساس اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے، تو اللہ نے
ہمارے لیے زمین بنائی ہر ضرورت کے مزین اور ساتھ ہی چھت بھی مہیا کیا آسمان کی صورت میں، تحفظ کا احساس ، سکون آور
اور محفوظ چھت ، یہ خطرہ نہیں کہ اوپر آ گرے۔ اب آسمان کے ساتھ کتنے ہی فائدے رکھ
دیۓ گۓ۔ خوبصورت مناظر، بارش کا برسنا،
پارہ 30 سورۃ النبا آیت 12 -15
" اور تمھارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بناۓ (۱۲)
اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ پیدا کیا(۱۳)
اور بدلیوں سے ہم نے باکثرت بہتا ہوا پانی برسایا (۱۴)
تاکہ اس سے اناج اور سبزیاں اگائیں (۱۵)
پارہ 27 سورۃ الواقعہ آیت 68-69
پارہ 27 سورۃ الواقعہ آیت 68-69
" اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو (۶۸)
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا
ہم برساتے ہیں؟(۶۹)
اگر بادل آتے اور پانی نہ آتا تو کیا کرتے ، سوچنے کی بات ہے نا کہ اکثر کس
قدر گھِر کر بادل آتے ہیں، گرجتے چمکتے چھٹ جاتے ہیں، کیا انسان کچھ کر سکتا ہے
نہیں، بلکل نہیں، بے بسی سے ان کا بکھرنا دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ توجہ دلائی گئ ہے کہ
دیکھو تو پانی کیسے اتارا جاتا ہے، اور پھر زمین سے رزق بھی اگایا۔ مختلف قسم کی
سبزیاں، پھل، اناج وغیرہ۔ صرف انسانوں کے
لیے نہیں بلکہ ہر مخلوق کے لیے زمین میں رزق رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ زمین میں
کس قدر خرانے موجود ہیں۔
اب یہاں آسمان اور زمین کے باہمی تعاون کا تذکرہ ہے کہ کس طرح دونوں مل کر
انسان کی خدمت پر مامور ہیں۔ باہمی تعاون سے انسان کے رزق کا سامان مہیا کررہے
ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ زمین پر کوئی انسان یا کوئی مخلوق ہے جو یہ کام کرسکے۔ ہر گز
نہیں ، صرف اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے یہ سب کچھ کیا ، اس لیے تم بھی صرف اسی کی
عبادت کرو، کسی کو اس کی ذات اور صفات میں شریک نہ کرو، آخر کس طرح انسان پھر
دوسری طرف جا سکتا ہے، کس طرح اللہ سے منہ موڑ سکتا ہے ۔
اسلام کی اولین دعوت ہی اللہ کی وحدنیت پر ایمان لانا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :اے معاذ! تم
جانتے ہو کہ بندے پر اللہ کا کیا حق ہے؟؟ وہ اس کی عبادت کرۓ اور کسی کو اس کے
ساتھ شریک نہ کرۓ۔"
کوئی بھی ایسی بات جس میں شک کا شائبہ تک ہو اس کے پرہیز لازم ہے۔ شرک کرنا سب
سے بڑا گناہ ہے، شرک کرنے سے تمام کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
حمیدی، سفیان ،زہری،
عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "مجھے اتنا نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ
نے عیسیٰ بن مریم
کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ (صحیح بخاری: 3445)
کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ (صحیح بخاری: 3445)
ایک مرتبہ ایک
شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کہا کہ جیسا اللہ چاہے اور جیسا آپﷺ چاہیں، تو آپﷺ نے فرمایا ،
نہیں بلکہ کہو کہ جیسا اللہ اکیلا چاہے۔
رسول اللہ ﷺ دنیا میں اول
آخر اللہ کے سب سے ذیادہ محبوب بندے اور رسول ہیں۔ جب ان ہی کی شان میں غلو سے کام
لینے سے منع کیا گیا تو کس طرح لوگ باقی بزرگانِ دین کے ساتھ بدعات منسلک کرتے
ہیں۔ شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس آیت سے شرک کی کھلی تردید کی گئ ہے۔ کسی کو بھی اللہ کے ساتھ شریک نہ
ٹھہراؤ، ذات میں بھی اور صفات میں بھی۔ اللہ اپنی ذات اور صفات میں یکتا ہے۔ کوئی
اس کا ہمسر نہیں۔
مگر افسوس کہ آج کل مسلمانوں میں میں غلط رواج زور پکڑ رہا ہے، ان کے نزدیک
شرک صرف بتوں کو پوجنے کا نام رہ گیا ہے۔ اور باقی شرک کے تمام کام بزرگانِ دین سے
عقیدت کے نام پر پورے کر لیے جاتے ہیں۔ یہ عقیدت نہیں شرک ہے، اس سے ایسے ہی پرہیز
لازم ہے، جیسے کوئی تیز اثر زہر سے بچتا ہے۔
اور تم جانتے ہو۔ اس بات سے آگاہ ہو کہ تمھارا خالق مالک کون ہے، پھر تم اسی
کے در پر جکھو۔
(کرنے کا کام: غور کیجیے کہ آپ کے اندر کوئی ایسی بات تو نہیں جس سے شرک کا
شائبہ تک ہو سکتا ہے، اسے فوراً دور کیجیے اور اللہ کے حضور معافی کے طلبگار بنیں۔
آج کے بعد اس کائنات کی کسی بھی چیز کو دیکھیں، تو فوراً اللہ کی قدرت کا
برملا اظہار کیجیے اور اس کا شکر ادا کریں۔)
No comments:
Post a Comment