Thursday, 2 October 2014

سورۃ البقرہ آیات 26،27




آیت نمبر 26-27

ترجمہ:  " بیشک اللہ کوئی بھی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ خواہ کسی مچھر کی ہو ، یا اس کی جو اس کے اوپر ہے۔ تو رہے ایمان والے پس وہ اسے اپنے رب کی جانب سے حق سمجھتے ہیں اور رہے کفار تو وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے۔ اس کے ذریعے بیشتر تو گمراہ کرتا ہے، اور بیشتر کو ہدایت دیتا ہے، اور گمراہ تو صرف فاسقوں کو کرتا ہے (۲۶)
وہ لوگ جو اللہ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں، اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں (۲۷)

یستحی: ح ، ی، ی: حیا کرنا/ جھجک/ شرمانا
یضرب: ض،ر،ب: مارنا (اورجب ساتھ میں مثال آ جاۓ تو اس کا مطلب ہے بیان کرنا ایسے کہ دوسری بات سمجھ میں آ جاۓ
یضل: ض، ل،ل:  گمراہ کرنا/ گمراہ قرار دینا
الفسقین: ف،س،ق: حد سے باہر نکلنا/ نافرمانی کرنا/ رد کر دینا
ینقضون: ن، ق،ض: توڑنا
عہد: ایسا وعدہ، قرار جس کی حفاظت کی جاۓ/ امان، ذمہ داری، وصیت، دوستی
میثاقہ: و ،ث،ق: رسی یا زنجیر جس سے کسی چیز کو باندھا جاۓ
یقطعون: ق،ط،ع: کاٹنا
یوصل: و، ص،ل: دو چیزوں کو اس طرح ملانا کہ وہ باہم جڑ جائیں
الخسرون: خ،س،ر: نقصان اٹھانا

جب اللہ تعالٰی نے دلائل سے قرآن کا معجزہ ہونا ثابت کر دیا تو کفار نے دوسرے طریقے اپنا لیے اعتراض کرنے کے، وہ یہ کہ اگر یہ اتنی عظیم ہستی کا کلام ہوتا تو اس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثالیں نہ ہوتیں۔ اللہ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ مچھر جیسی چھوٹی چیز کی مثال بھی بیان کرۓ ، یا پھر اس چیز کی جو مچھر کے اوپر ہے، اس سے مراد مچھر سے چھوٹی چیز بھی ہو سکتی ہے، جو مچھر کے پَر پر موجود ہو، ہا پھر "فوقھا" سے مراد وہ چیز بھی ہو سکتی ہے جو مچھر سے بڑھ کر ہو۔ کسی بات کو سمجھانے کے لیے تمثیلات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور پھر اس سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی کوئی بھی مخلوق حقیر نہیں ہے، یہ ہماری انسانی عقل محدود اور ناقص  ہے، جو ہمیں اکثر چیزیں بے فائدہ اور حقیر نظر آتی ہیں۔
اللہ نے ایک چیز تخلیق کی، تو اللہ کیوں شرماۓ گا کہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کی مثال بیان کرنے سے۔
اس آیت میں مثالوں کے بیان پر دو گروہوں کے طرزِ عمل کا ذکرہے۔ ماننے والے اور در کرنے والے۔
جو ماننے والے ہوتے ہیں، وہ پوری طرح مانتے ہیں، وہ سمعنا و اطعنا والے ہوتے ہیں۔ اللہ جو بھی مثال دے ، وہ یہ سمجھ جاتے  ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ، بلکل سچ ہے، درست ہے۔
اور جو انکار کرنے والے ہوتے ہیں، وہ حجت بازی کرتے ہیں ، شک و شبہات کو شکار ہو جاتے ہیں۔ کم عقل ہوتے ہیں، ان کی اپنی سمجھ میں تو کچھ آتا نہیں اورنعوذ باللہ اعتراض اللہ پر کرتے ہیں کہ آخر اللہ کیا چاہتا ہے ایسی مثال بیان کرنے سے۔ یا آخر اللہ کی کیا مراد ہے اس مثال سے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو فاسق اور سرکش ہوتے ہیں، حدود توڑنے والے ہوتے ہیں، نافرمان ہوتے ہیں۔ سمعنا و عصینا والے ہوتے ہیں۔
اب یہاں پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا کلام ان دو گروہوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اللہ کی بیان کی گئ مثالیں ان پر مختلف اثر دیکھاتی ہیں۔ جو ماننے والے ہوتے ہیں، ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، وہ علم والے ہوتے ہیں، بصیرت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
پارہ 11، سورۃ التوبہ: آیت 124- 125
" اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کے ایمان کو ذیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں، اس نے ان کے ایمان کو ذیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔(۱۲۴)
اور جن کے دلوں میں روگ ہے، اس نے ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی، اور وہ حالتِ کفر میں ہی مر گۓ (۱۲۵)"
ایمان والوں کے ایمان کو اللہ کا کلام ان کے ایمان میں بڑھا دیتا ہے۔
اور نفاق اور فسق رکھنے والے لوگوں کو اچھا کلام ٹھیک کرنے کے بجاۓ اور مصیبت میں مبتلا کرتا ہے۔
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 44
"آپ کہہ دیجیے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے ، یہ وہ لوگ ہیں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔"(۴۴)
یہ قرآن طلب رکھنے والوں کو ملتا ہے، ہدایت کی طلب رکھنے والوں کو ہدایت دیتا ہے، ہم نے پہلے بھی پڑھا تھا کہ جو جس نیت سے اس کے قریب آۓ گا، وہ وہی کچھ پاۓ گا، جس کا جتنا ظرف ہو گا، وہ اتنا حاصل کرۓ گا۔
پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 17
"اور جو لوگ ہدایت والے ہیں ،انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا گیا ہے، اور انہیں تقویٰ عطا کیا ہے۔ (۱۷)
ساری بات طلب کی ہے، دنیا میں اللہ ہمیں ہر چیز بغیر مانگے عطا کی، مگر ہدایت ایک واحد چیز ہے جو کہ طلب کے مطابق ملتی ہے، تڑپ کے مطابق، چاہت کے مطابق۔
اب بات یہ ہے کہ اللہ کا کلام ، اللہ کی بیان کی ہوئی مثالیں بہت سے لوگوں کے لیے ہدایت کا سبب بنتی ہیں اور بہت سے لوگوں کے بہکنے کا سبب۔ اور اس کلام سے بہکتے صرف وہی ہیں جو اسے رد کرنے والے ہوتے ہیں، جو اس میں اعتراضات کرتے ہیں، کو شک و شبہات کا شکار ہوتے ہیں۔ جو اسے اپنی زندگی میں ترجیح نہیں دیتے۔ جو جان کر بھی اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔
پارہ 28، سورۃ الصف، آیت 5
"پس جب وہ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کےدلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (۵)
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 17
ترجمہ" اور رہے ثمود تو ہم نے ان کو بھی ہدایت دی، پس انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی"
اب اگلی آیات میں ایسے لوگوں کی خصوصیات بتائی گئ ہیں۔ فاسقین کیا کرتے ہیں؟؟ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پار کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے کیے ہوۓ وعدے کو توڑتے ہیں۔ اللہ سے تعلق اور دوستی کو توڑتے ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک فطری تعلق موجود ہوتا ہے، ہر مخلوق اپنے خالق سے ایک خاموش بندھن میں بندھی ہوتی ہے۔ وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔ مگر فاسق لوگ اس بندھن کو توڑتے ہیں۔ اب یہاں بات آئی ہے کہ عہد کو پکا کرنے کے بعد توڑتے ہیں۔ اس سے کیا مراد ہے۔ اس عہد سے مراد عہد الست ہے، جو اللہ نے علمِ ارواح میں تمام روحوں سے لیا تھا۔
پارۃ 9، سورۃ الاعراف، آیت 172
"اور جب نکالا آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم قیامت کے دن یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ (۱۷۲)
پھر اللہ نے دنیا میں پیغمبر بیجھ کر وہ وعدہ پکا کیا اور پھر انسان اپنے نفس کی وجہ سے وہ عہد توڑ دیتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی ماننے کے بجاۓ نفس کی پیروی میں لگ جاتا ے۔
پھر دوسری بات کہ اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ ڈالتے ہیں۔
ایک تو یہ ہے اللہ سے فرمانبرداری کا تعلق
اور دوسرا خون کے رشتے۔
رشتوں کو کاٹتے ہیں۔ قطع رحمی کرتے ہیں۔ نہ اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ خون کے رشتوں میں کمٹمنٹ کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں 11 جگہ پر رشتہ داروں کو حق دینے اور صلح رحمی کا حکم دیا گیا ہے۔
پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 38
" پس قرابت داروں کو ، مسکین کو، مسافر کو ، ہر ایک کو اس کا حق دیجیے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا منہ دیکھنا چاہتے ہوں۔ ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔ (۳۸)
 زمین میں فساد کرتے ہیں۔ جسے خدا کا خوف نہیں ہوتا ، پھر وہ فتنہ اور پھوٹ پیدا کرتا ہے۔ خود بھی نصیحت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور دوسروں کو بھی کام نہیں کرنے دیتا۔ دوسروں کے معاملات میں خواہ مخواہ کی رکاوٹ ڈالتا ہے۔ یہ کام فاسقین کا ہوتا ہے، اللہ کی حدود سے باہر نکلنے والوں کا، سرکشی میں حد سے بڑھنے والوں کا، پھر اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
ایسے لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے، کہ وہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
پارہ 13، سورۃ الرعد ، آیت 25
" اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ کے حکم دیا ہے انہیں توڑتےہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ (۲۵)
پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 22-23
"اور تم سے یہ بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جاۓ تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ (۲۲)
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور جن کی سماعت اورآنکھوں کی روشنی چھین لی ہے (۲۳)
ایک تو نقصان ان کا یہ کہ انہیں حق کی بات سمجھ نہیں آتی۔ دوسرا یہ کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے، اور اللہ کی لعنت سے مراد ہے اللہ کی رحمت سے دوری اور اللہ کے غصے کا حقدار بننا۔
اور جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا ، اس کی آخرت ناکام ہے۔
اب ایسے لوگ دنیا میں چاہے محلات میں کیوں نہ رہیں، آخرت میں ان کے لیے بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس دنیا میں چاہے کتنے ہی کامیاب ہو جائیں، اصل ناکامی اور خسارہ ان کا مقدر ہے ۔

کرنے کا کام: اپنے ہر عمل پر غور کریں کہ کہیں ہم حدود سے نکل تو نہیں رہے؟؟؟
قرآن میں حجت اور بحث سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ فاسقین کا طریقہ ہے۔
اللہ کی بنائی کسی چیز کو حقیر اور بے فائدہ نہیں سمجھنا۔

No comments:

Post a Comment