Wednesday, 1 October 2014

سورۃ البقرہ آیات 23-25




آیت نمبر 23-25

ترجمہ: " ہم نے جو اپنے بندے پر اتارا ہے، اس میں اگر تمہیں کوئی شک ہے تو اس جیسی کوئی سورت لے آؤ۔ اور اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔ (۲۳)
پھر اگر تم نہ کر سکو اور تم ہرگز نہیں کر سکتے، تو بچو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئ ہے (۲۴)
اور خوشخبری دو ان لوگوں کو جو ایمان لاۓ اور عملِ صالح کرتے رہے، بیشک ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، جب کبھی وہ کوئی بھی پھل بطورِ رزق دئیے جائیں گے وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہیں جو ہمیں اس سے پہلے بھی دئیے گۓ تھے، حالانکہ وہ ان سے ملتے جلتے دئیے جائیں گے۔ اور ان کے لیۓ اس میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے (۲۵)

شھداء : ش،ھ،د: گواہ / مددگار/ حاضرین
صدیقین: ص،د،ق: سچ
تفعلوا: ف،ع،ل: کام
فاتقو:و،ق،ی: بچنا
وقودھا: و،ق،د: جلانا/ روشن کرنا
الحجارہ: ح،ج،ر: روکنا/ منع کرنا/ پتھر
اعدت: ع،د،د: شمار کرنا/گننا/ کسی چیز کا ایسے تیار کرنا کہ وہ گنی جا سکے
جنت: ج،ن،ن: آنکھوں سے اوجھل/ ایسا باغ جس کا سایہ اتنا گھنا ہو کہ زمین ڈھک جاۓ
تجری: ج،ر،ی: تیزی سے چلنا، جاری ہونا
تحتھا: ت،ح،ت: ملکیت/ مرضی کے مطابق ہونا/ نیچے
ازواج: ز،و،ج: ملانا/ جوڑا/ سپاؤس (مرد عورت دونوں کے لیے زوج کا لفظ استعمال ہوتا ہے)
مطھرۃ: ط،ھ،ر: پاک صاف/ جسمانی اور باطنی پاکیزگی
خلدون: خ،ل،د: ہمیشگی

زمین آسمان اور ان میں موجود نعمتوں کے تذکرے کے بعد اب قرآن کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے، کہ جس نے اتنا سے انعام کیا ہم پر ، اس کے لیے نبی بھیجنا اور اپنا کلام بندوں تک پہنچانا کون سا مشکل کام ہے۔ قرآن اپنی سچائی منوانے کے لیے چیلنج دے رہا ہے، اگر تمہیں شک ہے کوئی کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نہیں ہے، یہ اللہ کا کلام نہیں ہے تو ٹھیک ہے پھر اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لے آؤ۔ قرآن میں اور بھی کچھ جگہ پر اس چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے ، کوئی شک ہے تمہیں تو ٹھیک ہے تم وہ شک دور کر لو۔ اپنی سی کوشش کر دیکھو۔
عرب کلچر میں جنات کا تصرف کافی ذیادہ تھا، اور پھر عرب اہل زبان تھے، عربی زبان کے ماہر، فصاحت و بلاغت میں اعلی تھے۔ بات بھی شاعرانہ انداز میں کرتے تھے، شاعروں کو ان کے معاشرے میں منفرد اور بہت اعلی مقام حاصل تھا۔ ایک اور تصور ان میں یہ تھا کہ ان شاعروں کو جنات اور شیطانوں کی مدد حاصل ہوتی ہے، جنات غیب کا علم جانتے ہیں، اور شاعر ان کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے ۔ اسی لیے جب رسول اللہ کو نبوت عطا ہوئی تو کبھی آپ کو نعوذ باللہ  جادوگر کہا گیا، کبھی کاہن، کبھی مجنوں اور کبھی شاعر۔ حالانکہ وہ سب اس بات کے گواہ تھے کہ آپ کی ذاتِ مبارک ان تمام لغویات سے پاک تھی۔
اچھا تو چیلنج کی بات کی گئ کہ  ان سے کہا گیا کہ ٹھیک ہے اپنے سب مددگاروں کو بلا لو اور اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اس کے لیے سورۃ الکوثر کو پیش کیا گیا ، اور اسے خانہ کعبہ کی دیوار پر لگایا گیا۔
اور ان کا ایک بہت بڑا عرب شاعر تھا، جب اس نے سورۃ الکوثر کو دیکھا تو کہہ اٹھا کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے اور اس نے شاعری ہی چھوڑ دی۔
پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل ، آیت 88
" کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جن مل کر اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔"
پارہ 12، سورۃ ھود، آیت 13
"کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے، کہہ دیجیے کہ پھر تم اسی کے مثل دس سورتیں گھڑ لاؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا لو اگر تم سچے ہو۔"
یہ چیلنج ڈیڑھ ہزار سال سے قائم ہے اور آج تک کوئی اس کا جواب نہیں دے سکا۔
اب بات یہ ہے کہ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ دل میں کوئی شک و شبہ نہ رہے، اورکوئی شک ہے تو چلو دور کر لو، تم بھی انسان ہو بنا لاؤ کوئی سورت۔
پھر ساتھ میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ اگر تم ایسا نا کر سکو، اگر تم اس کی مثل نہ بنا سکو، اور اے انسان تم بنا سکتے بھی نہیں، آخر ایک بندہ کس طرح معبود کے کلام کی طرح کا کلام لا سکتا ہے۔ تو تم یہ کام نہیں کر سکتے تو پھر کیا کرو؟؟؟ تو پھر اس کو سچا مان لو، اس کے زیرِسایہ آ جاؤ۔
پارہ 12، سورۃ ھود، آیت 14
"پھر اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟"
اب ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اور ماننا کیوں ہے تاکہ تم بچ سکو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔  وہ آگ انسان اور پتھر کے ڈالنے سے اور ذیادہ بھڑکے گی۔
انسان کے جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہے، اور یہ دونوں عناصر حرارت خارج کرنے والے اور آگ بڑھانے والے ہیں۔ اس آیت میں دوزخ کی حدت اور سختی کو محسوس کروایا گیا ہے کہ اس کتاب پہ شک کرنا، یا پھر اس سے ہدایت نہ لینا کس دردناک انجام تک لے جاۓ گا۔
پارہ 17 سورۃ الانبیاء آیت 98
"تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کو ایندھن بنو گے، تم سب دوزخ میں جانے والے ہو"
وہ پتھر بھی جہنم کا ایندھن ہوں گے ، جن کی لوگ دنیا میں پرستش کرتے رہے ہوں گے۔
اب اس سے بعد ان لوگوں کے لیے خوشخبری دے گئ ہے جو کہ اس کتاب پر ایمان لاۓ اورعمل صالح کرتے رہے، ایمان اور عملِ صالح کا چولی دامن کا ساتھ ہے، عملِ صالح کے بغیر ایمان ثمر آور نہیں اور ایمان کی بغیر عملِ صالح کی عنداللہ کوئی اہمیت نہیں۔ عملِ صالح جو سنت کے مطابق ہو اور خالص رضاۓ الہی کی نیت سے کیا جاۓ۔
اب جو لاگ ایمان بھی لاۓ، اس کو پڑھا، سمجھا، عمل کیا ، ان کے لیے جنت کے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور نہریں بھی کیسی، صاف شفاف پانی کی نہریں، دودھ کی نہریں، شہد کی نہریں ، اور پاکیزہ شراب کی نہریں۔ اور جنتیوں کی خدمت میں ہوں گی۔
جب جنتیوں کو پھل پیش کیے جائیں گے تو انہیں ان پھلوں سے انسیت محسوس ہو گی، وہ کہیں گے کہ ہمیں پہلے بھی یہی پھل بطور رزق دیے گۓ تھے۔ کچھ شباہت انہیں محسوس ہو گی کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ نئ اشیاء اپنانے میں جھجکتا ہے، اور جانی پہچانی اشیاء کی طرف کھنچتا ہے، اس لیے انہیں جنت کے پھلوں جانے پہچانے لگیں گے، کچھ نام، یا پھر صورت دیکھی بھالی ، ورنہ تو دنیا اور جنت میں فرق تو ہماری عقل میں آ نہیں سکتا ۔
"جنت اایسی جگہ، جہاں کی نعمتیں، نہ کسی آنکھ نے انہیں دیکھا، نہ کسی کان نے ان کی بابت سنا، کسی انسان کے دل میں ان کا گمان بھی نہ گزرا" (صحیح بخاری، تفسیر الم سجدۃ)
پھر جنتیوں کو پاکیزہ جوڑے عطا کیے جائیں گے۔ پاکیزگی سے مراد جسمانی بھی اور باطنی بھی۔ یہاں شوہر اور بیویاں دونوں کا ذکر ہے۔
پارہ 4 سورۃ ال عمران آیت 195
"پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول کرلی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، میں ہرگز ضائع نہیں کرتا"
اخلاق ، کردار، صورت، جسمانی، ہر طرح سے پاکیزہ۔ ان تمام اسباب کو دور کر دیا جاۓ گا جو دنیا میں شوہر اور بیوی کے درمیان کھنچاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ جنت میں یہ رشتہ ہر رکاوٹ سے پاک ہو گا۔
"اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی ھرف جھانک لے تو ساری زمین روشن ہو جاۓ اور زمین کا آسمان کا سارا حصّہ خوشبو سے معطر ہو جاۓ اور اس کا دوپٹہ دنیا اور ما فیہا سے بہتر ہے" (مشکوٰۃ)
اور جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دنیا کے گھروں کی کیا گارنٹی ہے؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ گھر کب تک اس کا ہے اور کب تک اسے نصیب ہو گا۔ مگر جنت کی گارنٹی دے دی گئ ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
جنت اور جہنم میں جانے کے بعد ایک فرشتہ اعلان کرۓ گا،" اے جہنمیو! اب موت نہیں ہے اور اے جنتیو! اب موت نہیں ہے۔ جو فریق جس حالت میں ہے ، اسی حالت میں ہمیشہ رہے گا (صحیح بخاری، کتاب الرقاق و صحیح مسلم،کتاب الجنۃ)
(عمل کی بات: اب دیکھیں جنت کی حقیقت کو، اور آئیں اپنا موازنہ کریں کہ دنیا کی کون کی چیز ایسی قیمتی ہے جس کے بدلے ہم آخرت کو چھوڑ رہے ہیں۔  )
بہتر چیز کے بدلے ادنٰی چیز کیوں طلب کرتے ہو۔ (سورۃ البقرہ ۶۱)

No comments:

Post a Comment