Thursday, 9 October 2014

سورۃ البقرۃ آیت 30-39




آیت نمبر 30-39
ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ  بیشک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا تو بناۓ گا اس میں جو فساد کرۓ گا اور خون بہاۓ گا،حالانکہ ہم تیری تعریف ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، فرمایا بیشک جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے (30)
اور اس نے آدم کو تمام کے تمام نام سکھا دئیے ، پھر ان کو فرشتوں پر پیش کیا اور پھر فرمایا مجھ کو ان سب کے نام بتاؤ، اگر تم سچے ہو (31)
انہوں نے کہا تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے سکھایا، بیشک تو ہی بہت ذیادہ علم والا، بہت ذیادہ حکمت والا ہے(32)
فرمایا اے آدم! ان کو ان کے نام بتاؤ ،پھر جب انہوں نے ان کے نام بیان کر دئیے، فرمایا کیا میں نے نہیں کہا کہ زمین اور آسمان کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپا رہے ہو (33)
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا (34)
اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے (35)
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا اور ہم نے کہا اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہواور ایک مقررہ وقت تک تمہارےلیے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے (36)
پس آدم نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے (37)
ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں (38)
اور جو انکار کر کے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں ، وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے (39)

خلیفۃ: خ،ل،ف: پیچھے  خلیفہ کہتے ہیں پیچھے آنے والے کو۔
عرضہم: ع، ر،ض: پیش کرنا / عرض کرنا
انبؤنی: ن، ب،ء: اہم معاملے کی خبر دینا
سبحنک: س، ب،ح: ہر عیب سے پاک قرار دینا
تبدون: ب،د،و: بغیر ارادے کے ظاہر کرنا
تکتمون : ک، ت، م: جان بوجھ کر چھپانا
ابلیس: ب، ل، س: سخت مایوس اور غمگین
ابٰی: ا،ب،ی: اَڑ جانا/ انکار کرنا
اسکن: س، ک، ن: ٹھہرنا/ رک جانا
رغداً: ر،غ،د: رغد کہتے ہیں جانوروں کو چرنے کے لیے آذاد چھوڑ دینا، اسی سے لفظ رغدًا نکلا ہے
حیث: اسم زمان اور مکان دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے
ظلم: کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دینا/ کسی کو اس کے حق سے محروم کر دینا/ کسی چیز کو اس کے مقام سے محروم کر دینا
فارلھما: ز،ل،ل: بلا ارادہ پھسل جانا
اھبطوا: ھ، ب،ط: جبراً اوپر سے نیچے آنا
عدوّ: ع،د،و: بدخواہ/ دشمن/ تکلیف پر خوش ہونے والا
مستقر: ق،ر،ر: ٹھنڈ
حین: ح، ی،ن: زمانہ/ مدت
فتلقی: ل،ق،ی: شوق اور رغبت سے کسی کا استقبال کرنا/ خوشی سے قبول کرنا
یحزنون: ح،ز، ن: کسی معاملے میں طبیعت کا بے چین ہونا/ مصیبت/ غم

جنوں کو انسانوں سے تقریباً دو ہزار سال پہلے پیدا کیا۔ زمین میں اختیارات ملنے کی وجہ سے انہوں نے خوب فتنہ فساد کیا۔ پھر جب اللہ نے ایک اور مخلوق یعنی کہ انسان کی پیدائش کا ارادہ ظاہر کیا اور زمین میں ان کو خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا، فرشتے جو پہلے ہی جنوں کی فتنہ انگیزیاں دیکھ چکے تھے تو انہیں انسان سے متعلق بھی یہی اندیشہ ہوا۔ انہوں نے اپنے اندیشے کا اظہار کیا کہ اے اللہ تو ایسی مخلوق بناۓ گا جو زمین میں فساد کرۓ گی اور خون خرابہ کرۓ گی۔ حالانکہ تیری تسبیح بیان کرنے کے لیے ہم ہیں۔ اب انسان کی پیدائش کا بھی مقصد یہی تھا، جیسا کہ قرآن میں ہی ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ اب فرشتوں نے کہا کہ اے اللہ ہم تو بس تیری تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں اور تیرے تعریف بھی۔ تسبیح کا مطلب ہے ، تعریف کے لیے پاکی بیان کرنا۔ پھر آگے لفظ ہے نقدس ، اس کا مطلب ہے تعریف کے ساتھ ان چیزوں کی تردید بھی کرنا جو اللہ کی شان کے خلاف ہیں، شرک سے پاک قرار دینا۔
تو جب فرشتوں نے ایسا کہا تو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ جیسا کہ بعض اوقات ہمیں ایک چیز اچھی معلوم نہیں ہونی، مگر وہ ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے، یہ اللہ کی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ اب یہاں پہ ایک بات ہے کہ فرشتوں نے اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ صرف اپنی راۓ کا اظہار کیا تھا، اپنا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔
پھر اللہ نے ایک عملی تجربہ رکھا، دیمسٹریشن ،
اللہ تعالٰی نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ، اور پھر ان کو سارے نام سکھا دیئے، اب یہاں پہ دوآراء ہیں۔ بعض مفسرین کے مطابق دنیا کی تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے ، اور بعض کے مطابق جو تمام بنی آدم کی روحیں پیدا کی تھی، اول و آخر ان سب کے نام سکھا دیئے۔ پھر فرشتوں کے سامنے حضرت آدمؑ کو پیش کیا اور فرشتوں سے کہا کہ تم ان سب چیزوں کے نام بتا دو۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ یہ انسان فتنہ فساد ہی کرۓ گا۔ فرشتوں نے کہا کہ ہمیں تو بس اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ سارا علم اور حکمت تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ یہاں پہ شرک کی تردید کی گئ ہے۔ جیسا کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ تو یہاں بتا دیا گیا ہے کہ نہیں تمام تر علم اور حکمت اللہ کے لیے ہے، فرشتے تو اللہ کی مخلوق ہیں، انہیں جتنا اللہ نے سکھایا ، انہیں اتنا ہی پتا ہے، اور وہ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالٰی نے آدمؑ کو کہا کہ ان تمام کے نام بیان کرو، اور آدمؑ نے تمام نام بیان کر دئیے، اللہ تعالٰی نے فرمایا فرشتوں سے کہ میں نے کہا تھا نا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ یعنی فرشتوں پر واضح کیا کہ انسان کو پیدا کرنے کا ایک اور مقصد کیا ہے۔ اب یہاں پہ ایک اور بات کلئیر ہوتی ہے کہ سب سے پہلی فضیلت جو انسان کو فرشتوں پر ملی وہ علم کی فضیلت ہے۔ انسانوں کو ذیادہ علم عطا کیا گیا۔ پھر اللہ تعالٰی نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سب جانتا ہوں جو تم ظاہر کر بیٹھے تھے اور جو کچھ چھپا کر رکھا ہے، مطلب کہ فرشتوں کے دل میں جو بات آئی تھی اس اندیشے کا تو وہ اظہار کر بیٹھے ، لیکن پوری بات نہیں کی، کچھ ظاہر نہیں بھی کیا (وللہُ اعلم)۔ تو اللہ نے فرمایا میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم نے ظاہر نہیں کیا۔
تو پہلی فضیلت اور نعمت جو انسان کو عطا کی گئ وہ علم کی تھی۔ اور علم سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور انسان کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسری نعمت عزت و اکرام کی تھی۔ باقی مخلوقات پر فضیلت دی گئ۔ فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے انکار کیا۔ ابلیس جنوں کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر بہت کثرت سے عبادت کی وجہ سے مقرب فرشتوں کے ساتھ ہوتا تھا، اس کا مقام بھی بہت بلند تھا۔ اور چونکہ وہ فرشتوں کے ساتھ ہوتا تھا ، تو جو حکم فرشتوں کے لیے تھا وہی ابلیس کے لیے بھی تھا۔ جیسا کہ پارہ 15، سورۃ الکہف آیت 50 میں ارشاد ہوتا ہے
" اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا ، یہ جنوں میں سے تھا ، اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھ کو چھوڑ کر دوست بنا رہے ہو؟حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدلہ ہے"(۵۰)
انکار کس وجہ سے کیا ۔ ایک تو یہ کہ انسان کو زمین میں خلیفہ بنایا جا رہا تھا اور تمام مخلوقات پر فضیلت انسان کو دی گئ۔ زمین کی خلافت انسان کو عطا کی گئ، تو ابلیس جوجنوں میں سے تھا، وہ اسے قبول نہ کر سکا، دوسرا عبادت گزار تھا بہت تو اپنی عبادت کا تکبر کر بیٹھا۔ اور انکار کر دیا سجدے سے اور تیسری بات کہ وہ اس تکبر میں آ گیا کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اورآدم خاک سے تو میں برتر ہوں اور کافروں میں سے ہو گیا۔ تو دیکھیں کہ اتنا عبادت گزار تھا کہ مقرب فرشتوں کے ساتھ ہوتا تھا اور ایک سجدے سے انکار نے اور تکبر نے اسے سے سب چھین لیا۔ پارہ 8، سورۃ الاعراف آیت 12، 13 میں اس کی تفصیل بیان ہے۔
تیسری فضیلت اور نعمت جو آدمؑ کو دی گئ وہ جنت میں ٹھکانہ تھا، یہاں آپ دیکھیں گے نام آدمؑ کا لیا گیا مگر مخاطب دونوں کو کیا گیا، حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی کو ، اس سے ہمیں یہ بات پتا چلتی ہے کہ اسلام کے احکام دونوں مرد اور عورت کے لیے یکساں ہیں۔ ہاں جہاں بعض معاملات میں تخصیص کی گئ ہے، ساتھ اس کی وجوہات بھی بیان کر دی گئ ہیں۔
اچھا تو حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی کو کہا گیا کہ جنت میں رہو اور کھاؤ پیو ، جہاں سے ، جب بھی ، جو مرضی چاہو، کھاؤ پیو۔ مگر ایک شرط عائد کر دی گئ۔ ہر نعمت امتحان ہوتی ہے۔ ہر نعمت کے استعمال کی  کچھ شرائط ہوتی ہیں، جیسا کہ ہم کچھ چیز بازار سے خریدتے ہیں تو اس کے ساتھ ہمیں ڈوز اینڈ ڈونٹس کا ایک ہدایت نامہ ملتا ہے۔ ہر شر اور خیر اپنے ساتھ کچھ امتحان لے کر آتی ہے۔ اب یہاں بھی جنت کی نعمتوں کے استعمال کے ساتھ ایک شرط بھی عائد کر دی گئ، ایک امتحان میں ڈالا گیا ان کو۔ کہ جو بھی ، جہاں سے مرضی ہے کھاؤ پیو، مگر فلاں درخت کے پاس مت جانا۔ وہ ممنوعہ ہے، اس تک ایک حد قائم کر دی گئ ، اور ساتھ بتا دیا کہ اگر یہ حد پار کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے، ظالم کون ہوتا ہے جو کسی کے حق میں کمی کرۓ۔ کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے محروم کر دے۔ اگر اس درخت کے پاس جاؤ گےتو اللہ کے حکم کی نافرمانی ہو گی۔ اور اللہ کا حق یہ ہے کہ اس کا حکم من و عن مانا جاۓ، اور اللہ کی نافرمانی کا مطلب ہے اللہ کے حقوق میں کمی کرنا۔ پھر نعمتوں کا صحیح استعمال، حدود و قیود کی پابندی کے ساتھ، نعمتوں کا حق ادا کرنا ہے۔ تو حدود پار کرنا نعمت کے ساتھ ظلم کرنا ہے۔ اور جو بھی اللہ کی مقرر کردہ حدود پار کرۓ گا۔ وہ اپنا ہی نقصان کرۓ گا، اللہ تو بے نیاز ہے۔ انسان اپنے ساتھ ظلم کرتا ہے۔ ظالم نافرمان ہوتا ہے، اللہ اور بندوں کے حقوق کی حق تلفی کرتا ہے ، مگر ظلم حقوق میں ہو یا وسائل میں اس کا انجام کار خود انسان پر پلٹتا ہے۔
پھر یہ کہ انہیں منع کیا گیا اس درخت سے۔ مگر شیطان نے ان کو بھٹکا دیا، بہکا دیا، ان کا ارادہ نہیں تھا، ان کا گمان نہیں تھا کہ وہ یہ نافرمانی کریں گے، مگر شیطان نے ان کو ورغلا دیا اور جنت سے ان کو نکلوا دیا۔ شیطان جب کسی انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے تو دوست کی حیثیت سے ڈالتاہے، وسوسہ ڈالتا ہے، مختلف تاویلیں اور فضول کی بحث میں الجھاتا ہے، اور پھر گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے، اس لیے سب سے ضروری اور سب سے مشکل کام وسوسوں پرقابو پانا ہے۔ جہاں سے دل میں وسوسے رہنا شروع ہو گۓ وہیں سے بگاڑ شروع ہو گیا۔ اب یہاں بھی شیطان ان کا خیر خواہ بن کرآیا اور کس طرح ان کو بہکایا اس کی تفصیل ہمیں پارہ 8 ،سورۃ الاعراف آیت نمبر20-21میں ملتی ہے ۔
" پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے روبرو بےپردہ کر دے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب منع نہیں کیا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں فرشتے نہ ہو جاؤ اور کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ (۲۰)
اور ان دونوں کے روبرو قسم کھا لی کہ بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ (۲۱)
سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا، پس ان دونوں نے جب درخت چکھا تو دونوں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہو گۓ اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور یہ نہ کہہ چکا تھا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟ (۲۲)
 پھر ان کوکہا گیا ان کو کہ اتر جاؤ۔ یعنی ایک کو جنت سے زمین پر اتارا گیا اور اس کا یہ معنی بھی لیا جا سکتا ہے کہ اس نافرمانی کی صورت میں ان کا مقام میں کمی کر دے گئ۔ اللہ کی نافرمانی کی اور اللہ نے جنت سے نکال دیا۔ اور کہا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ کون؟ ایک تو شیطان انسان کا دشمن اور انسان شیطان کا دشمن ۔ اور دوسرا بعض انسان بھی آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ یہ فیصلہ روزِ اول ہی کر دیا گیا تھا۔ حق و باطل کی لڑائی کا۔ اور باہمی اختلافات کا۔ پھر یہ بھی بتا دیا گیا کہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ صرف ایک مقررہ مدت تک اس میں رہنا ہے۔ اب دیکھیں انسان کا زمین میں مقام کیا ہے۔ دشمن کو ساتھ ہی بھیجا گیا، پھر شدید امتحان میں سے گزرنا ہے۔ امتحان کیا ہے؟ پارہ 8، سورۃ الاعراف آیت 27
" اے اولادِ آدم! شیطان تمہیں کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا، ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو بے پردہ کر دے، وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتاہے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ (۲۷)
ان دیکھے دشمن سے واسطہ پڑا ہے، جو خود بھی نظر نہیں آتا ، اور اس کی چالیں بھی انسان نہیں سمجھ پاتا، دوست کے لبادے میں دشمنی کرتا ہے۔ غلط راستے پر ڈالتا ہے اور خود الگ ہو جاتا ہے۔ سخت امتحان ہے، مگر ہمیں احساس ہی نہیں۔
اور ایک اور امتحان کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین میں رہنا ہے۔ کس کی کتنی مدت مقرر ہے یہ بھی کسی کو معلوم نہیں۔ نامعلوم مگر مقررہ مدت۔ ذرا سوچیں آپ کمرہِ امتحان میں ہیں، آپ کو پتا ہی نہیں کہ کتنا وقت رہتا ہے ، مگر یہ معلوم ہے کہ وقت ختم ہوتا جا رہا ہے، کتنی بے چینی اور اضطراب ہوتا ہے، کتنا تیز تیز ہاتھ چلاتے ہیں کہ کہیں کچھ رہ نہ جاۓ، غلطی نہ ہو جاۓ۔ مگر ہم لوگ کتنے سکون و آرام سے بیٹھے ہیں۔ جیسے ہمیشہ ادھر ہی رہنا ہے۔ حضرت نوحؑ کے پاس 1000 سال بعد موت آئی تو پوچھا گیا کہ زندگی کی حقیقت بیان کرو، تو فرمایا ایک مکان اور دو دروازے، ایک سے داخل ہوۓ ، دوسرے سے نکل گۓ، جتنی لمبی زندگی پا لو ، اس کی حقیقت اتنی ہی ہے۔
 پارہ 18، سورۃ المؤمنون، آیت 112، 113
"کہا جاۓ گا تم زمین میں بااعتبار برسوں کے کس قدر رہے؟ (۱۱۲) وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے پوچھ لیجیۓ (۱۱۳)
اس آیت سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے، انسانی تعلقات کی درستگی کا،اگر جنت میں جانا ہے تو انسانی تعلقات درست کرنے ہوں گے۔ کیونکہ جنت میں دشمنی تو ہو نہیں سکتی۔ حدود کے اندر رہ کر اختلاف راۓ بری چیز نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر مزاج کے لوگوں کو پیدا کیا گیا، اس سفر میں کانٹے، پتھر، گڑھے سب کچھ ہے، مگر ضروری ہے کہ انسان اٹکتا، ٹھوکر کھاتا اور گرتا پڑتا اور الجھتا رہے؟ دیکھ کے چلنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں ہمیشہ مرضی کے مطابق حالات نہیں ملیں گے، یہ تو روزِ اول کا فیصلہ ہے۔ تو ضرورت ہے بہتر حل تلاش کرنے کی ، تم اپنا کام کرو، میں اپنا کام کروں گا۔ اپنے اپنے دائرے اور حدود میں رہ کر۔ اختلاف کو اختلاف براۓ اختلاف نہ لیں، بلکہ چیلنج کے طور پر لیں، چیلنج آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔ امتحان ہے کہ کون بااصول ہو کر جیا اور کس نے گالی کا جواب اینٹ سے دیا اور پھر پتھر کھایا۔
حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی کو جب جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا تو انہیں سخت پشیمانی ہوئی۔ اللہ تعالٰی نے انہیں چند معافی کے کلمات سکھا دئیے تو انہوں نے ان کلمات کے ذریعے اللہ سے اپنی غلطی کی معافی مانگی۔ سورۃ الاعراف آیت 23
"دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرۓ گااور ہم پر رحم نہیں کرۓ گا تو ہم واقعی نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے" (۲۳)
جب انہوں وہ پشیمان ہوۓ، غلطی کا اعتراف کیا اور بارگاہِ الہی میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق ٹھہرے۔ مغفرت کےساتھ انہیں عزت و اکرام سے نوازا ، نبوت سے سرفرازفرمایا۔ ھو التواب الرحیم اللہ کی ان صفات میں شدت ہے، کہ وہ بار بار توبہ قبول کرنے والا ہے، وہ توبہ قبول کرنے سے عاجز نہیں آتا۔ بار بار اس کی طرف پلٹو گے ، وہ بار بار رحم کرۓ گا۔ اگر کوئی غلطی ہو جاۓ تو پھر غلطی پر غلطی نہ کرنے لگو  بلکہ اس کی طرف پلٹو ۔ اسی سے رجوع کرو، اس کے سامنے استغفار کرو، وہ قبول کرنے والا ہے۔
پھر توبہ کی قبولیت کے بعد حضرت آدمؑ ، ان کی بیوی اور اولادِ آدم کو زمین میں ہی ٹھہرنے کا حکم دیا گیا۔ اور ان کو کہا گیا کہ جب کبھی میری طرف سے کوئی ہدایت تمہاری طرف آۓ، اسے قبول کر لینا۔ اشارہ ہے نبیوں کی بعثت کی طرف۔ اور پھر بتا دیا گیا کہ جو قبول کرے کا اس ہدایت کو اور اس کی اتباع کرۓ گا ، اسے کوئی غم اور خوف نہ ہو گا۔ غم ہمیشہ گزری ہوئی چیز کا ہوتا ہے اور خوف مستقبل کا، تو مراد ہے کہ اسے اپنی گزری ہوئی زندگی کے بارے میں کوئی غم نہ ہو گا، کیونکہ وہ جانتا ہو گا کہ اس نے زندگی بے مقصد نہیں گزاری بلکہ اللہ کی اطاعت میں ، اس مقصد کے تحت گزاری ہے جس کے لیے اسے اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔ اسے اس زندگی کے بارے میں کسی نقصان کا غم نہیں ہو گا۔ اور نہ ہی آنے والے وقت کے لیے وہ خوف ذدہ ہو گا۔ اسے اپنے انجام کا اندازہ ہو گا۔ وہ پرسکون ہو گا۔ پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 102-103
"وہ تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گےاوراپنی من پسند چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے" (۱۰۲) وہ بڑی گھبراہٹ بھی انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دئیے جاتے رہے۔(۱۰۳)"
اور دنیا میں بھی یہی ہوتا ہے جب سب سے ذیادہ اللہ کا خوف اور محبت دل میں بس جاتے ہیں تو باقی دنیا کی چیزوں کا خوف اور محبت دل سے نکل جاتی ہے۔ پھر انسان کسی دنیاوی نقصان پر غم نہیں کھاتا اور نہ دنیا کی کوئی طاقت اسے خوفزدہ کر سکتی ہے۔ ایمان والوں کو ڈیپریشن نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس جنہوں نے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو جھٹلایا ، وہ دنیا میں بھی جلتے کڑھتے رہتے ہیں اور آخرت میں بھی جلنا ان کا مقدر ہے۔ پارہ 16، سورۃ طٰہٰ آیت 124
"اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اورروزِ قیامت ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔" (۱۲۴)
اس واقعے میں تین کردار ہیں۔ فرشتے-آدم-ابلیس
اگر ایمان لا کر اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی کی تو فرشتوں سے اونچے مقام کا حقدار ٹھہرے گا۔
اور اس ہدایت سے اگر منہ موڑا اور نافرمانی کی تو ابلیس سے بدتر کہلاۓ گا
حضرت آدمؑ کے واقعے میں ہمیں کیا پتا چلتا ہے؟
زندگی کا مقصد
زندگی کے امتحان
امتحان میں کامیاب ہونے کی شرائط
اور امتحان میں کامیاب اور ناکام ہونے والوں کا انجام۔۔

Friday, 3 October 2014

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت اور کرنے کے کام








رسول اللہ نے فرمایا: " کسی بھی دن کیا ہوا عمل اللہ تعالٰی کو ان دس دنوں میں کئے گۓ عمل سے ذیادہ محبوب نہیں ہے، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آۓ"۔ (سنن ابی داؤد)

کوئی دن اللہ تعالٰی کے ہاں ان دس دنوں سے عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے ذیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے تہلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ) تکبیر(اَللہُ اَکبَر) اور تحمید(اَلحَمدُ لِلہ) کہو۔" (مسند احمد 5446)

کرنے کے کام
نماز:
اول وقت میں نماز ادا کرنا
خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا
ہر رکعت میں مختلف سورتیں پڑھنا
نفل نمازیں ادا کرنا
تہجد میں طویل قرات کرنا
مردوں کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا
روزہ:
9 ذوالحجہ کا روزہ رکھنا
ذیادہ سے ذیادہ نفلی روزے رکھنا
پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا
قضا شدہ روزے رکھنا
امید ہے کہ عرفہ کا روزہ رکھنا گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاۓ گا (مسلم)

قرآن مجید:
قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کرنا
مختلف قراء کی تلاوت سننا
نئی سورتیں حفظ کرنا
حفظ کی دہرائی کرنا
قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا، سننا اور معنی پر غور و فکر کرنا
دوسروں تک قرآن کا پیغام پہنچانا

ذکر و دعا:
تہلیل، تکبیر اور تحمید کا اہتمام کرنا
صبح و شام کے اذکار کرنا
استغفار اور ذکر کی کثرت کرنا
درود شریف پڑھنا
مقبول اوقات میں دعائیں مانگنا، خصوصاً عرفہ کے دن
نئی دعائیں اور اذکار یاد کرنا

صدقہ و خیرات:
زائد  از ضرورت چیزیں صدقہ کرنا
کوئی پسندیدہ ترین چیز اللہ کی راہ میں دینا
والدین، بیوی، بچوں اور عزیزو اقارب پر خرچ کرنا

خدمت خلق:
رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کرنا
پڑوسیوں کی خبر گیری کرنا
ضرورت مندوں کی مدد کرنا
دین کی تعلیم و تبلیغ میں حصہ لینا
اجتماعی بھلائی کے کاموں میں رضا کارانہ خدمت انجام دینا

عید و قربانی:
قربانی تک ناخن اور بال نہ کاٹنا
عید کے دن سنتوں پر عمل کرنا
عید کی نماز کا اہتمام کرنا
عزیز و اقارب کے ملاقات کرنا
اخلاصِ نیت سے قربانی کرنا
قربانی کا گوشت کھانا اور دوسروں کو کھلانا

متفرقات:
نیکی کا کوئی موقع ضائع نہ کرنا
بے مقصد کاموں اور باتوں سے پرہیز
گناہوں کے بچنا
اچھی کتب کا مطالعہ کرنا

"کسی بھی دن کیا ہوا عمل اللہ تعالٰی کو ان دس دنوں میں کئے ہوۓ عمل سے ذیادہ محبوب نہیں ہے"۔