Friday, 3 October 2014

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت اور کرنے کے کام








رسول اللہ نے فرمایا: " کسی بھی دن کیا ہوا عمل اللہ تعالٰی کو ان دس دنوں میں کئے گۓ عمل سے ذیادہ محبوب نہیں ہے، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آۓ"۔ (سنن ابی داؤد)

کوئی دن اللہ تعالٰی کے ہاں ان دس دنوں سے عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے ذیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے تہلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ) تکبیر(اَللہُ اَکبَر) اور تحمید(اَلحَمدُ لِلہ) کہو۔" (مسند احمد 5446)

کرنے کے کام
نماز:
اول وقت میں نماز ادا کرنا
خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا
ہر رکعت میں مختلف سورتیں پڑھنا
نفل نمازیں ادا کرنا
تہجد میں طویل قرات کرنا
مردوں کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا
روزہ:
9 ذوالحجہ کا روزہ رکھنا
ذیادہ سے ذیادہ نفلی روزے رکھنا
پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا
قضا شدہ روزے رکھنا
امید ہے کہ عرفہ کا روزہ رکھنا گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاۓ گا (مسلم)

قرآن مجید:
قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کرنا
مختلف قراء کی تلاوت سننا
نئی سورتیں حفظ کرنا
حفظ کی دہرائی کرنا
قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا، سننا اور معنی پر غور و فکر کرنا
دوسروں تک قرآن کا پیغام پہنچانا

ذکر و دعا:
تہلیل، تکبیر اور تحمید کا اہتمام کرنا
صبح و شام کے اذکار کرنا
استغفار اور ذکر کی کثرت کرنا
درود شریف پڑھنا
مقبول اوقات میں دعائیں مانگنا، خصوصاً عرفہ کے دن
نئی دعائیں اور اذکار یاد کرنا

صدقہ و خیرات:
زائد  از ضرورت چیزیں صدقہ کرنا
کوئی پسندیدہ ترین چیز اللہ کی راہ میں دینا
والدین، بیوی، بچوں اور عزیزو اقارب پر خرچ کرنا

خدمت خلق:
رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کرنا
پڑوسیوں کی خبر گیری کرنا
ضرورت مندوں کی مدد کرنا
دین کی تعلیم و تبلیغ میں حصہ لینا
اجتماعی بھلائی کے کاموں میں رضا کارانہ خدمت انجام دینا

عید و قربانی:
قربانی تک ناخن اور بال نہ کاٹنا
عید کے دن سنتوں پر عمل کرنا
عید کی نماز کا اہتمام کرنا
عزیز و اقارب کے ملاقات کرنا
اخلاصِ نیت سے قربانی کرنا
قربانی کا گوشت کھانا اور دوسروں کو کھلانا

متفرقات:
نیکی کا کوئی موقع ضائع نہ کرنا
بے مقصد کاموں اور باتوں سے پرہیز
گناہوں کے بچنا
اچھی کتب کا مطالعہ کرنا

"کسی بھی دن کیا ہوا عمل اللہ تعالٰی کو ان دس دنوں میں کئے ہوۓ عمل سے ذیادہ محبوب نہیں ہے"۔

Thursday, 2 October 2014

سورۃ البقرہ آیات 28،29




آیت نمبر 28۔29

ترجمہ: "کس طرح تم اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر تمہیں وہ مار ڈالے گا، پھر وہ تم کو زندہ کرۓ گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹاۓ جاؤ گے۔ (۲۸)
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا، پھر ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بناۓ، اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے" (۲۹)

کیف: حرفِ استفہام ہے، سوالیہ انداز ہے، کیسے/ کس طرح
امواتا: م، ی، ت: مردہ
فاحیا: ح،ی،ی: زندگی
یمیتکم: م،و،ت: موت
جمیعا: ج،م،ع: سارے کا سارا
استوے: س،و،ی: سیدھا کھڑا ہونا (جب ساتھ میں الٰے آ جاۓ تو مطلب ہے توجہ کرنا)
فسوھن: س،و،ی: ہموار کرنا/ سیدھا کرنا/ بربر کرنا/  اصل صورت میں لے کر آنا/ کسی چیز کو اس طرح بنانا کہ اس کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا جاۓ
علیم: ع، ل،م: بہت ذیادہ علم والا ۔

ارشاد ہوتا ہے کہ آخر تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو، اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، اس کی نافرمانی کرتے ہو۔ کس طرح اس اللہ کی نہیں مانتے ہو ، جس نے تمہیں پیدا کیا ہے حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے، یعنی پیدائش سے پہلے کی حالت کا ذکر ہے، پیدائش سے پہلے انسان کیا ہوتا ہے، کچھ بھی تو نہیں، کہیں بھی تو نہیں، پھر اللہ اسے اس دنیا میں لے آتا ہے، یہ زندگی اسے اللہ عطا کرتا ہے، اسے عدم سے وجود میں لے آتا ہے۔ پھر وہی اللہ ہے جو موت دیتا ہے، اس دنیا سے انسان کو لے جاتا ہے، اور پھر زندہ کرتا ہے، اشارہ ہے  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا، برزخ کی زندگی، جو موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پہ غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز جوڑے میں بنائی، زندگی کے ساتھ موت۔ پہلے انسان مردہ تھا، اللہ نے اسے زندہ کیا، ایک جوڑا مکمل ہوا، پھر انسان کو موت دیتا ہے ، اور پھر زندہ کرتا ہے، دوسرا جوڑا مکمل ہوا۔ کہا جا رہا ہے کہ کیا اس اللہ کا انکار کرتے ہو، اس اللہ کی حکم عدولی کرتے ہو، جس نے تمہیں نہ ہونے سے کچھ بنایا ہے۔ اور پھر یہ کہ اسی کی طرف تم نے لوٹ کر بھی جانا ہے، اسی کی طرف پلٹنا ہے، حساب کتاب کے لیے اسی کے سامنے پیش ہونا ہے، سارا کچا  چٹھا کھل کر سامنے آ جاۓ گا، ساری حقیقت لگ پتا جاۓ گی۔
پھر اللہ کا مزید تعارف کروایا جا رہا ہے۔  کہ وہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارےلیے زمین میں سب کچھ بنایا۔ صرف زمین بنا کر چھوڑ نہیں دیا، بلکہ اس میں انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں رکھی، پھر صرف زمین ہی نہیں بنائی اس کا جوڑا بھی بنایا یعنی کہ آسمان ، اور آسمان کس طرح بنایا، بلکل ٹھیک ٹھیک ، ہموار، کہیں کوئی شگاف، کوئی کجی نظر نہیں آتی۔ اور یہاں سے دلیل ملتی ہے کہ سات آسمان اللہ نے بناۓ ہیں۔
فسوھن کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب ہے ہموار کرنا/ برابر کرنا/ ٹھیک کرنا/  فنشنگ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے زمین اور آسمان بناۓ ، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
پارہ ۱۷، سورۃ الانبیاء ، آیت ۳۰، " کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوۓ تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔"
پھر اللہ نے زمین میں تمام چیزیں بنائی انسان کی ضرورت کی، بلکہ تمام مخلوقات کی ضروریات کی، پھر اس کے بعد آسمان کی طرف متوجہ ہوا آسمان کی فنیشنگ کے لیے، آسمان کی تزین و آرائش کے لیے، آسمان کو ٹھیک ٹھیک بنایا، ایک نہیں سات آسمان بناۓ۔ جس طرح قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔

پارہ 29، سورۃ الملک، آیت 3-5
جس نے سات آسمان اوپر تلے بناۓ، رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بےضابطگی نہ دیکھے گا، دوبارہ دیکھ لے کیا کوئی شگاف نظر آتا ہے۔(۳)
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے ، تیری نظر تیری طرف ذلیل تھکی ہوئی لوٹ آۓ گی (۴)
بیشک ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا، اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا اور شیطانوں کے لیے ہم نے جلانے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (۵)
ان آیات میں آسمانوں کے ٹھیک ٹھیک اور تمام ضروریات کو پورا کرتے ہوۓ ان کی تخلیق کی تفصیل بیان کر دی گئ ہے۔
پھر زبردست کوآرڈینیشن رکھی گئ آسمان اور زمین میں، پرفیکٹ پلینگ کی گئ، سورج چمکتا ہے تو زمین سے پانی اٹھتا ہے، بادل بنتے ہیں، ہوئیں چلتی ہیں تو بادل حرکت کرتے ہیں، پھر بارش برستی ہے، اور کھیتیاں اگتی ہیں۔ واٹر سائیکل پانی کو صاف شفاف کر دیتا ہے، بارش کے پانی کو قرآن میں پاک پانی کہا گیا ہے۔
اتنا سب کچھ جو ہمارے لیے کرۓ، ہم اسی کا انکار کریں، اس کی حکم عدولی کریں، ہے نا انتہا درجے کی خود غرضی۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ وہ اللہ سب جانتا ہے، وہ بہت ذیادہ علم رکھنے والا ہے، علیم میں فعیل کے صیغے پر ہے، اس میں ہمیشگی پائی جاتی ہے، اور ساتھ مبالغے کا صیغہ بھی ہے، یعنی بہت ذیادہ، جس کی کوئی حد نہیں۔ وہ سب جانتا ہے،آسمانوں میں کیا ہے، زمین میں کیا ہے، خشکی پہ کیا ہے، سمندروں کی تہہ میں کیا ہے،  زمین کے کون سے حصے پر، کون سے درخت کا کون سا پتا گرا ہے، وہ ہی ہے جو یہ جان سکتا ہے
پارہ 29، سورۃ الملک ، آیت 14
"کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا؟ "
اب اللہ کے احسانات کے بعد ، اس بات کا ذکر کہ وہ سب جانتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ جب اللہ سب جانتا ہے تو پھر دھوکہ کوئی نہیں دے سکتا، کوئی اس کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا ، کیونکہ وہ تو سب جانتا ہے، جو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے ، وہ در حقیقت خود کو دھوکہ دیتا ہے۔
اللہ نے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے اتنی بڑی کائنات بنائی، اس کائنات کو انسان کے تصرف میں دے دیا، اور پھر انسان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو انسان پھر کیا سوچ کر اللہ کا انکار کرتا ہے، اللہ کے احکامات کے خلاف جاتا ہے، اللہ کو تو سب علم ہے، کون کیا ہے، کون کیا کرتا، کس کے دل میں کیا ہے، کس کی نیت کیا ہے،کیونکہ سب اللہ کا ہی تو بنایا ہوا ہے، اللہ کے ساتھ تو کوئی دھوکہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہ بات اگر انسان جان جاۓ تو تمام معاملات خود بخود درست ہو جائیں گے۔
جو اللہ سے مخلص ہو گیا، وہ خود سے مخلص ہو گیا، اور اس کے تمام معاملات اللہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اور جس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہو گیا، اس کی تو دین دنیا سنور جاتی ہے۔
اور ہم سب سے ذیادہ بھولتے ہی اسی بات کو ہیں کہ اللہ کو سب پتا ہے، ہم اس سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔ ہم اس سچائی کو بھول جاتے ہیں، نتیجتاً غلطی پر غلطی، گناہ پر گناہ ، اور پر تاویلیں اور بہانے۔

سوچنے کی بات: انسان کی عقل اللہ کے علم کے سامنے بےبس ہے۔
قرآن کی مثالوں پر غور و فکر کرنے سے سوچ کے نۓ زاویے کھلتے ہیں

سورۃ البقرہ آیات 26،27




آیت نمبر 26-27

ترجمہ:  " بیشک اللہ کوئی بھی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ خواہ کسی مچھر کی ہو ، یا اس کی جو اس کے اوپر ہے۔ تو رہے ایمان والے پس وہ اسے اپنے رب کی جانب سے حق سمجھتے ہیں اور رہے کفار تو وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے۔ اس کے ذریعے بیشتر تو گمراہ کرتا ہے، اور بیشتر کو ہدایت دیتا ہے، اور گمراہ تو صرف فاسقوں کو کرتا ہے (۲۶)
وہ لوگ جو اللہ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں، اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں (۲۷)

یستحی: ح ، ی، ی: حیا کرنا/ جھجک/ شرمانا
یضرب: ض،ر،ب: مارنا (اورجب ساتھ میں مثال آ جاۓ تو اس کا مطلب ہے بیان کرنا ایسے کہ دوسری بات سمجھ میں آ جاۓ
یضل: ض، ل،ل:  گمراہ کرنا/ گمراہ قرار دینا
الفسقین: ف،س،ق: حد سے باہر نکلنا/ نافرمانی کرنا/ رد کر دینا
ینقضون: ن، ق،ض: توڑنا
عہد: ایسا وعدہ، قرار جس کی حفاظت کی جاۓ/ امان، ذمہ داری، وصیت، دوستی
میثاقہ: و ،ث،ق: رسی یا زنجیر جس سے کسی چیز کو باندھا جاۓ
یقطعون: ق،ط،ع: کاٹنا
یوصل: و، ص،ل: دو چیزوں کو اس طرح ملانا کہ وہ باہم جڑ جائیں
الخسرون: خ،س،ر: نقصان اٹھانا

جب اللہ تعالٰی نے دلائل سے قرآن کا معجزہ ہونا ثابت کر دیا تو کفار نے دوسرے طریقے اپنا لیے اعتراض کرنے کے، وہ یہ کہ اگر یہ اتنی عظیم ہستی کا کلام ہوتا تو اس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثالیں نہ ہوتیں۔ اللہ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ مچھر جیسی چھوٹی چیز کی مثال بھی بیان کرۓ ، یا پھر اس چیز کی جو مچھر کے اوپر ہے، اس سے مراد مچھر سے چھوٹی چیز بھی ہو سکتی ہے، جو مچھر کے پَر پر موجود ہو، ہا پھر "فوقھا" سے مراد وہ چیز بھی ہو سکتی ہے جو مچھر سے بڑھ کر ہو۔ کسی بات کو سمجھانے کے لیے تمثیلات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور پھر اس سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی کوئی بھی مخلوق حقیر نہیں ہے، یہ ہماری انسانی عقل محدود اور ناقص  ہے، جو ہمیں اکثر چیزیں بے فائدہ اور حقیر نظر آتی ہیں۔
اللہ نے ایک چیز تخلیق کی، تو اللہ کیوں شرماۓ گا کہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کی مثال بیان کرنے سے۔
اس آیت میں مثالوں کے بیان پر دو گروہوں کے طرزِ عمل کا ذکرہے۔ ماننے والے اور در کرنے والے۔
جو ماننے والے ہوتے ہیں، وہ پوری طرح مانتے ہیں، وہ سمعنا و اطعنا والے ہوتے ہیں۔ اللہ جو بھی مثال دے ، وہ یہ سمجھ جاتے  ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ، بلکل سچ ہے، درست ہے۔
اور جو انکار کرنے والے ہوتے ہیں، وہ حجت بازی کرتے ہیں ، شک و شبہات کو شکار ہو جاتے ہیں۔ کم عقل ہوتے ہیں، ان کی اپنی سمجھ میں تو کچھ آتا نہیں اورنعوذ باللہ اعتراض اللہ پر کرتے ہیں کہ آخر اللہ کیا چاہتا ہے ایسی مثال بیان کرنے سے۔ یا آخر اللہ کی کیا مراد ہے اس مثال سے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو فاسق اور سرکش ہوتے ہیں، حدود توڑنے والے ہوتے ہیں، نافرمان ہوتے ہیں۔ سمعنا و عصینا والے ہوتے ہیں۔
اب یہاں پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا کلام ان دو گروہوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اللہ کی بیان کی گئ مثالیں ان پر مختلف اثر دیکھاتی ہیں۔ جو ماننے والے ہوتے ہیں، ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، وہ علم والے ہوتے ہیں، بصیرت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
پارہ 11، سورۃ التوبہ: آیت 124- 125
" اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کے ایمان کو ذیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں، اس نے ان کے ایمان کو ذیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔(۱۲۴)
اور جن کے دلوں میں روگ ہے، اس نے ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی، اور وہ حالتِ کفر میں ہی مر گۓ (۱۲۵)"
ایمان والوں کے ایمان کو اللہ کا کلام ان کے ایمان میں بڑھا دیتا ہے۔
اور نفاق اور فسق رکھنے والے لوگوں کو اچھا کلام ٹھیک کرنے کے بجاۓ اور مصیبت میں مبتلا کرتا ہے۔
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 44
"آپ کہہ دیجیے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے ، یہ وہ لوگ ہیں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔"(۴۴)
یہ قرآن طلب رکھنے والوں کو ملتا ہے، ہدایت کی طلب رکھنے والوں کو ہدایت دیتا ہے، ہم نے پہلے بھی پڑھا تھا کہ جو جس نیت سے اس کے قریب آۓ گا، وہ وہی کچھ پاۓ گا، جس کا جتنا ظرف ہو گا، وہ اتنا حاصل کرۓ گا۔
پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 17
"اور جو لوگ ہدایت والے ہیں ،انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا گیا ہے، اور انہیں تقویٰ عطا کیا ہے۔ (۱۷)
ساری بات طلب کی ہے، دنیا میں اللہ ہمیں ہر چیز بغیر مانگے عطا کی، مگر ہدایت ایک واحد چیز ہے جو کہ طلب کے مطابق ملتی ہے، تڑپ کے مطابق، چاہت کے مطابق۔
اب بات یہ ہے کہ اللہ کا کلام ، اللہ کی بیان کی ہوئی مثالیں بہت سے لوگوں کے لیے ہدایت کا سبب بنتی ہیں اور بہت سے لوگوں کے بہکنے کا سبب۔ اور اس کلام سے بہکتے صرف وہی ہیں جو اسے رد کرنے والے ہوتے ہیں، جو اس میں اعتراضات کرتے ہیں، کو شک و شبہات کا شکار ہوتے ہیں۔ جو اسے اپنی زندگی میں ترجیح نہیں دیتے۔ جو جان کر بھی اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔
پارہ 28، سورۃ الصف، آیت 5
"پس جب وہ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کےدلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (۵)
پارہ 24، سورۃ حم السجدہ، آیت 17
ترجمہ" اور رہے ثمود تو ہم نے ان کو بھی ہدایت دی، پس انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی"
اب اگلی آیات میں ایسے لوگوں کی خصوصیات بتائی گئ ہیں۔ فاسقین کیا کرتے ہیں؟؟ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پار کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے کیے ہوۓ وعدے کو توڑتے ہیں۔ اللہ سے تعلق اور دوستی کو توڑتے ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک فطری تعلق موجود ہوتا ہے، ہر مخلوق اپنے خالق سے ایک خاموش بندھن میں بندھی ہوتی ہے۔ وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔ مگر فاسق لوگ اس بندھن کو توڑتے ہیں۔ اب یہاں بات آئی ہے کہ عہد کو پکا کرنے کے بعد توڑتے ہیں۔ اس سے کیا مراد ہے۔ اس عہد سے مراد عہد الست ہے، جو اللہ نے علمِ ارواح میں تمام روحوں سے لیا تھا۔
پارۃ 9، سورۃ الاعراف، آیت 172
"اور جب نکالا آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم قیامت کے دن یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ (۱۷۲)
پھر اللہ نے دنیا میں پیغمبر بیجھ کر وہ وعدہ پکا کیا اور پھر انسان اپنے نفس کی وجہ سے وہ عہد توڑ دیتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی ماننے کے بجاۓ نفس کی پیروی میں لگ جاتا ے۔
پھر دوسری بات کہ اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ ڈالتے ہیں۔
ایک تو یہ ہے اللہ سے فرمانبرداری کا تعلق
اور دوسرا خون کے رشتے۔
رشتوں کو کاٹتے ہیں۔ قطع رحمی کرتے ہیں۔ نہ اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ خون کے رشتوں میں کمٹمنٹ کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں 11 جگہ پر رشتہ داروں کو حق دینے اور صلح رحمی کا حکم دیا گیا ہے۔
پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 38
" پس قرابت داروں کو ، مسکین کو، مسافر کو ، ہر ایک کو اس کا حق دیجیے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا منہ دیکھنا چاہتے ہوں۔ ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔ (۳۸)
 زمین میں فساد کرتے ہیں۔ جسے خدا کا خوف نہیں ہوتا ، پھر وہ فتنہ اور پھوٹ پیدا کرتا ہے۔ خود بھی نصیحت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور دوسروں کو بھی کام نہیں کرنے دیتا۔ دوسروں کے معاملات میں خواہ مخواہ کی رکاوٹ ڈالتا ہے۔ یہ کام فاسقین کا ہوتا ہے، اللہ کی حدود سے باہر نکلنے والوں کا، سرکشی میں حد سے بڑھنے والوں کا، پھر اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
ایسے لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے، کہ وہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
پارہ 13، سورۃ الرعد ، آیت 25
" اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ کے حکم دیا ہے انہیں توڑتےہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ (۲۵)
پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 22-23
"اور تم سے یہ بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جاۓ تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ (۲۲)
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور جن کی سماعت اورآنکھوں کی روشنی چھین لی ہے (۲۳)
ایک تو نقصان ان کا یہ کہ انہیں حق کی بات سمجھ نہیں آتی۔ دوسرا یہ کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے، اور اللہ کی لعنت سے مراد ہے اللہ کی رحمت سے دوری اور اللہ کے غصے کا حقدار بننا۔
اور جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا ، اس کی آخرت ناکام ہے۔
اب ایسے لوگ دنیا میں چاہے محلات میں کیوں نہ رہیں، آخرت میں ان کے لیے بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس دنیا میں چاہے کتنے ہی کامیاب ہو جائیں، اصل ناکامی اور خسارہ ان کا مقدر ہے ۔

کرنے کا کام: اپنے ہر عمل پر غور کریں کہ کہیں ہم حدود سے نکل تو نہیں رہے؟؟؟
قرآن میں حجت اور بحث سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ فاسقین کا طریقہ ہے۔
اللہ کی بنائی کسی چیز کو حقیر اور بے فائدہ نہیں سمجھنا۔