Tuesday, 27 January 2015

اس دردِ دل کا درماں کرۓ کوئی



دل مسلا جاتا ہے۔ دل پھٹتا ہے۔ درد انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ بے بسی برداشت نہیں ہوتی۔ جب۔۔۔
جب کسی بچے کو بھیک مانگتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی بچے کو کسی اجنبی کے ہاتھوں مار کھاتے اور بےعزت ہوتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی سائیکل والے کو ٹریفک پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی نوجوان کے ہاتھ میں ہتھکڑی دیکھتی ہوں۔
جب صبح گھر سے نکلے کڑیل جوان کا لاشہ گھر میں داخل ہوتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی بچے کی ماں کو اپنے بچے کا قصور پوچھتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی عدالت کے باہر ایسے نوجوان کو دیکھتی ہوں جو ضمانت کے بعد کسی اپنے کے آنے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے۔
جب کسی خطا وار کو گناہ گار بن کر جیل سے باہر آتا دیکھتی ہوں۔
جب راہ میں چلتے کسی لڑکے کو آوازیں کستے دیکھتی ہوں۔
جب کسی معصوم بچے کو وقت سے پہلے بڑا ہوتے دیکھتی ہوں۔
جب کسی معصوم کے کندھوں پر روزگار کا بوجھ اور ہتھیلیوں پر وقت کے ستم دیکھتی ہوں۔
جب کالج کے لڑکوں کو بسوں اور وین میں ڈرائیور اور کنڈکٹر  سے ہاتھا پائی کرتے دیکھتی ہوں۔
جب قلم پکڑنے والے ہاتھوں میں کڑے تیوروں کے ساتھ ہاکی اور بیٹ پکڑے دیکھتی ہوں۔
جب نماز کے وقت کسی مسلمان بچے کو کھیل کے میدان میں یا گلی کے نکڑ میں کھڑا دیکھتی ہوں۔
جب گلی میں کھیلتے بچوں کو آپس میں ایک دوسرے کو گالی دے کر بلاتے دیکھتی ہوں۔
میرے بچے ایسے ہی روز قتل ہوتے ہیں۔ ہر طریقے سے قتل ہو رہے ہیں۔
کوئی میرا درد سمجھ سکتا ہے کیا؟
میں کس کو ملزم نامزد کروں؟ کس کو قصور وار ٹھہراؤں؟ 
کیا ان کی ماؤں کو جن کے لاڈ پیار نے انہیں بگاڑ دیا ، یا ان ماؤں کو جنہوں نے انہیں اپنایا ہی نہیں، یا ان کے باپوں کو جن کی بےجا سختی نے انہیں باغی کر دیا۔ یا ان باپوں کو جنہوں نے انہیں حرام کھلایا اور حرام سکھایا، یا ان کے استادوں کو جن کو تربیت کرنا بھول گئ، جو عمارت بنانا بھول گئے۔ یا اس نظام کو جو کندن کی بجاۓ سونے کو راکھ کر دیتا ہے۔ یا معاشرے کے ان بیمار حیوانوں کو جو کسی ایسے ہی ظلم کا انتقام لے رہے ہیں، یا پھر اپنے نفس کے غلام بن گئے ہیں۔
یا پھر ان بچوں کے پیٹوں میں گئ حرام کی کمائی کو، یا پھر قدرت کے بازی پلٹنے کو۔
بولو! میں کس کو دوش دوں۔ یہ درد اب ناقابل برداشت ہے۔ مجھے اس بیماری کی جڑ اکھاڑنی ہے۔ بتاؤں کس کس کو اکھاڑوں۔

Sunday, 4 January 2015

اسلام کی بنیاد اور عمارت

جس کے اسلام کی بنیاد مضبوط ہو گی، اس کی عمارت بھی مضبوط بنی گی، اور وہ اتنا ہی کامیاب ہو گا۔ اس بنیاد کو قرآن نے بیان کیا ہے۔

غیب پر ایمان لانا (جو کہ ہم ایمان مفصل اور مجمل میں پڑھتے ہیں)
نماز قائم کرنا (نماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ اس کے حقوق و محسنات سمیت ادا کرنا)
اللہ کے دیئے ہوۓ مال میں سے خرچ کرنا
اللہ کی طرف سے جو بھی احکامات نازل ہوۓ نبیﷺ پر اور باقی انبیاۃ پر ان سے پر ایمان لانا
اور آخرت پر یقین رکھنا(ایسا ماننا گویا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں

اور اس کے علاوہ
رشتوں کو جوڑے رکھنا
زمین میں فساد نہ کرنا
حق اور باطل کو آپس میں نہ ملانا
حق کو نہ چھپانا
جس نیکی کا لوگوں کو حکم دینا وہ خود بھی کرنا
روزے رکھنا
حج و عمرہ ادا کرنا
صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرنا بجاۓ شرکیہ کام کرنے کے
جھوٹ نہ بولنا
ناحق قتل نہ کرنا
ظلم نہ کرنا
ظالم کا ساتھ نہ دینا
احسان کرنا
درگزر کرنا
اچھے طریقے سے بات کرنا
واضح بات کرنا
بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنا
اچھے کاموں میں دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا
امر بلمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا
قرآن سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا
اچھے اخلاق اپنانا
بے حیائی سے رکنا
تکبر اور غرور نہ کرنا
اللہ کا شکر کثرت سے ادا کرنا
عہد کی پابندی کرنا
امانت کی حفاظت کرنا
حسد بضض اور منفی جذبات سے بچنا
فضول خرچی اور بخل سے پرہیز
لغو باتوں سے پرہیز کرنا
صدقہ دینا
زکوۃ اور عشر دینا
احسان نہ جتانا، تکلیف نہ دینا
دشمن کے ساتھ بھی انصاف سے کام لینا اور ذیادتی نہ کرنا
آپس میں ایک دوسرے کا مزاق نہ اڑانا اور برے لقب سے نہ پکارنا
غیبت نہ کرنا
ناپ تول میں کمی نہ کرنا
دھوکہ نہ دینا
حرمت والی چیزوں کی حرمت کی پاسداری کرنا
حقوق اللہ اور حقوق العباد پوری طرح ادا کرنا
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
حرام سے بچنا
اللہ سے ڈرنا
توبہ استغفار کثرت سے کرنا
اللہ کی تسبیح اور حمد کثرت سے بیان کرنا
نبیﷺ پر درود بھیجنا

وہی اللہ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری، جس میں محکم آیات ہیں جو کتاب کی اصل ہیں اور بعض آیات متشابہات ہیں، تو لیکن وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں فتنے کی طلب اور انکی تاویل کی جستجو میں حالانکہ ان کی حقیقی تاویل اللہ ہی جانتا ہے۔۔۔( سورۃ آل عمران آیت 7)

اب ہم عالم فاضل تو ہیں نہیں کہ ان معاملات میں جھگڑا کریں جو کہ آجکل فرقہ واریت کا سبب بن رہے ہیں۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ بنیاد سے اوپر جاتے ہیں، بغیر بنیاد کے دیوار کھڑی ہو نہیں سکتی، عمارت کہاں ہو گی اور اس کیا تزئین و آرائیش کا کیا مطلب۔